Saturday, 8 February 2014

(Mobile Ke Nuqsanat) موبائل کے نقصانات


اسامہ شعیب علیگ 
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

عہدِ حاضر کا دور سائنس اور ٹکنالوجی کا ہے۔ روز بروز نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں اور انسان ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ تمام ایجادات اللہ تعالی کے دیے ہوئے علم کی بدولت ہو رہی ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:
علم الانسان ما لم یعلم(العلق:۵)
انسان کو وہ علم دیا جسے وہ جانتا نہ تھا
 انسان اس علم سے کام لے کر ٹکنالوجی کے میدان میں طرح طرح کی اشیا ایجاد کر رہا ہے۔ جیسے ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر ،انٹرنیٹ، اور موبائل وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں اور ہمیں ان کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ ورنہ یہی ہمارے لیے آخرت میں وبالِ جان بن جائیں گی۔ان نعمتوں میں سے ایک نعمت موبائل بھی ہے۔
 موبائل دو طرفہ مواصلت کا ذریعہ ہے۔آپ اس کے ذریعے نہ صرف سن اور دیکھ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ اپنے خیالات بھی شیئر کر سکتے ہیں۔اب یہ تو انسان کی مرضی پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس سے فحش باتیں اور تصاویر دیکھتا ہے یا قرآن و حدیث سنتا ہے اوراسے اچھے کاموں میں استعمال کرتاہے۔یہ آزادیِ انتخاب ہمیشہ سے انسانوں کے لیے ہے اور اسی کا نام زندگی ہے۔جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
 خلق الموت و الحیوة لیبلوکم ایکم احسن عملا(الملک:۲)۔
جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔

 موبائل کے نقصانات

 اس کے جہاں ایک طرف بہت سارے فوائد ہیں وہیں دوسری طرف نقصانات بھی ہیں۔جیسے چاقو سے پھل بھی کٹتا ہے اور چاقو سے گردن بھی کٹتی ہے۔اب یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ اس کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔اس کے نقصانات درج ذیل ہیں۔
 (۱)سودی قرض پر موبائل خریدنا
 آج کل نوجوان لڑکے لڑکیوں میں موبائل کا کریز دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور مہینے دو مہینے پر موبائل بدل دینا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔یہ مہنگے موبائل کمپنیاںلوگوں کو انسٹرامنٹ (سود)پر دیتی ہیں کہ وہ بعد میں روپئے قسطوں میں سود سمیت ادا کر دیں گے۔مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس میں ملوث نظر آتا ہے۔جب کہ عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”سود کھانے والے،سود کھلانے والے،اس کے گواہوں اور لکھنے والوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے“ (ترمذی:1209) ۔
 ساتھ ہی اس پر بدترین عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔
 (۲)گانے اور فلمیں لوڈ کرنا
نوجوان لڑکے لڑکیوں میں گانے سننے اور فلمیں دیکھنے کا ایک جنون سا نظر آتا ہے۔چوراہے، نکڑوں اور چائے کی دکانوں پر بیٹھ کر ’اجتماعی گانے اور فلمیں‘دیکھی اور سنی جاتی ہیں۔سفر کے دوران بس اور ٹرین میں فل آواز میں میوزک سنی جاتی ہے۔جب سے چائینا موبائل عام ہوئے ہیں ،اس میں تو اتنی’ برکت‘ ہے کہ نہ صرف خود سنا جاتا ہے بلکہ ایک کلومیٹر تک کی ہر ذی روح کو سنایا جاتا ہے ۔یہ صحیح نہیں ہے۔حدیثِ نبوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”میری امت میں سے کچھ لوگ ریشم،شراب اور معازف کو حلال کر لیں گے“(بخاری:5590) ۔ معازف سے مراد آلاتِ موسیقی ہیںاور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ۔
 (۳)نامحرم لڑکیوں کی تصاویر لوڈ کرنا
امتِ مسلمہ کا نوجوان طبقہ خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں عموماً اپنے موبائل میں نامحرم مرد وعورت جیسے ہیرو، ہیروئن،سنگرس اور کھلاڑیوں کی تصاویر رکھتے ہیں اور اسکرین پکچر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یہ جائز نہیں ہے۔حضرت ابوہریرةؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
 (غافل)آدمی حصے میں زنا کا جو حصہ لکھا ہے ،وہ اس کو پا کر رہے گا۔آنکھوں کا زنا شہوت کی نظر سے دیکھنا ہے،کانوں کا زنا فحش باتوں کا سننا ہے،زبان کا زنا اس طرح کی باتوں میں حصہ لینا ہے،ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے،پیر کا زنا اس کے لیے چل کر جانا ہے ،دل کا زنا اس کی خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ یا تو اس کی تصدیق کر دے گی یا تکذیب“ (مسلم:2657)۔
 (۴)کالر ٹون میں میوزک ،گانے اور قرآن یا اذان وغیرہ کا استعمال کرنا
عموماً لوگ رنگ ٹون میں میوزک یا گانے لگاتے ہیں۔یہ اسلام میں جائز نہیں ہے۔ اسی کی وجہ سے مسجدوں میں بھی گانوں اور میوزک کی آواز سنائی دینے لگی ہیں۔بہتر ہے کہ مسجدوں میں آتے ہوئے موبائل بند کر لیا جائے اور اگر نماز کے دوران کال آ بھی گئی تو اس کو فوراً بند کر دیا جائے۔
 بعض لوگ دین داری کے جذبے میں یا لاعلمی کی وجہ سے رنگ ٹون میں قرآن کی آیت یااذان وغیرہ کااستعمال کرتے ہیں ،جو صحیح نہیں ہے۔یہ تمام چیزیں دینی شعائر میں سے ہیں ان کو مذاق نہیں بنانا چاہیے۔کیوں کہ جب کوئی کال آتی ہے تو انسان کاٹ کر ریسیو کرتا ہے،یہ بھی ان کی بے ادبی کے مترادف ہے یاکبھی انسان ٹوائلٹ وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے ان سب سے اجتناب کرنا چاہیے۔
 (۵)بلا تحقیق ایس ایم ایس بھیجنا 
عموماً لوگ آئے ہوئے میسج کو بلا تحقیق آگے بھیج دیتے ہیں، خاص کر دینی پیغامات کو آگے بڑھانا واجب خیال کرتے ہیں۔مثلاً رجب یا محرم کے مہینہ میں ایسا ایساکیا تو اتنے لاکھ نیکیاں ملیں گی۔گویا کوئی بمپر آفر ہے۔
 بدعات و خرافات ،من گھڑت ضعیف احادیث،شیوخ کے فرضی واقعات اور افواہوں پر مشتمل ایس ایم ایس بھیجے جاتے ہیں اور دوسروں کو نہ بھیجنے کی صورت میں جان ومال کے نقصان اور آخرت میں تباہ ہونے کی بات کہی جاتی ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔اس میں پہلے تحقیق کرلینی چاہیے ،کیوں کہ اگر آپ کے کسی غلط بات پر کسی نے عمل کر دیایا کفر کا مرتکب ہو گیا تو آپ بھی اس گناہ میں شریک ہوں گے۔حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ” آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بڑھا دے“(مسلم:05)۔
 (6)پرائیوسی کا خیال نہ رکھنا
نوجوانوں میں یہ عام بات ہے کہ دوست کا موبائل ہاتھ لگ گیا تو وہ اس کے ایس ایم ایس ،فوٹو اور دوسری ذاتی چیزیں دیکھنے لگتا ہے۔یہ جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ دوست اس کی اجازت دے۔اسی طرح سے چوری چھپے کسی کا نمبر لینا اور نہ ہی دینا درست ہے۔عموماً لڑکے اپنے ساتھیوں کے موبائل سے لڑکی کانمبر نکال لیتے ہیں اور پھر اس کو پریشان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ خیانت کا عمل ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ” اس کا ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں اور اس کا دین نہیں جس میں عہد کی پابندی نہ ہو“(احمد)۔
 (7)بلا سبب لمبی گفتگو کرنا
موبائل کی وجہ سے لوگوں میں فضول گوئی کا رجحان بڑھ گیا ہے،جس میں زیادہ تر فضول باتیں ،غیبت ،جھوٹ اور چغل خوری پر ہوا کرتی ہیں۔کمپنیوں کی طرف سے مختلف طرح کے ٹیرف اور فری کال پیک اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مثلاً اگر فری کال پیک ختم ہو رہا ہے اور بیلینس بچاہے تو اس کو ختم کرنے کے لیے رات بے رات لوگوں کو کال کی جارہی ہے۔اب سامنے والا مصروف ہے ،آفس میں ہے یا سو رہا ہے ،اس سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔جب کہ ابوہریرةؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
 ” جو آدمی اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کے لیے زبان کھولے یا چپ رہے(بخاری)۔اورحضرت ابوحذیفہؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہو سکے گا“ (بخاری:6056)۔
 (8)مس کال دینا
عموماً نوجوان لڑکے لڑکیاں بیٹھے بیٹھے اپنے دوستوں،رشتے داروں حتیٰ کہ اجنبی لوگوں کو مس کال دیتے رہتے ہیںکہ ممکن ہے کوئی صنفِ مخالف مل جائے اور ’دوستی‘ ہو جائے۔اس میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو صرف مس کال سے ہی کام چلانا چاہتا ہے اور اپنا بیلنس محفوظ رکھتا ہے۔یہ بخل کی علامت ہے۔انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے تھے :
 ”ائے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور بزدلی سے اور تیری پناہ طلب کرتا ہوں بہت بڑھاپے اور بخل سے“(بخاری:1297)۔
 (9)کال ریسیو کر کے ہیلو ،گڈ مارننگ وغیرہ کہنا
عموماً لوگ فون ریسیو کر کے ہیلو ، ہائے اور گڈ مارننگ وغیرہ کہتے ہیں۔اسلامی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے سلام کیا جائے۔خصوصاً جب یہ معلوم ہو کہ سامنے والا مسلمان ہے ۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہندو اگر نمس کار کہے تو اس کے جواب میں نمس کار نہ کہا جائے ،ہاں اگر یہود و نصاریٰ سلام کریں توان کے سلام کا جواب دے دیا جائے۔
 اس میں ایک بات کا خاص دھیان رکھنا چاہیے کہ بہت بلند آواز میں چلاّ کے بات نہ کی جائے کہ ساری دنیا سنے اور ڈسٹرب ہو۔آواز بس اتنی بلند ہو کہ مخاطب سن لے۔قرآن کریم میں بلند اور کرخت آواز کو گدھے کی آوازکے مشابہ قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی فون پر میں بول کر تعارف کرانا چاہیے ،بلکہ اپنا نام بتانا چاہیے ۔جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے :
  ”میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے آواز دی تو آپ نے دریافت کیا کون؟ میں نے عرض کیا ’میں‘ ہوں۔آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ میں تو میں بھی ہوں“(مسلم:1423)۔
 اگر کسی کو فون کیا جائے اور ریسیو نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ تین بار کرنا چاہیے۔کیوں کہ ممکن ہے وہ مصروف ہو ۔بعض دفعہ لوگ چھ سات بار کال کرنے لگتے ہیں اور ریسیو نہ ہونے پربدگمان ہو کر ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہے۔حضرت موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ:
 ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اجازت تین بار مانگنی چاہیے پھر اگر اجازت ملے تو بہتر، ورنہ لوٹ جاو “ (مسلم: 1421) ۔ 
 (10)جھوٹ بولنا
جب سے موبائل آیا ہے لوگوں میں جھوٹ بولنے کا رجحان بڑھ گیا ہے ۔گھر پر رہتے ہیں اور فون پر آفس میں ہوں بتاتے ہیں۔جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 جھوٹ سے بچو ۔بلا شبہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں پہنچانے والاہےالخ“ (ابوداو د:4989) ۔ 
 (11)گاڑی چلاتے وقت فون پر بات کرنا
عموماً لوگ موٹر سائیکل یا کار وغیرہ چلانے کے دوران موبائل پر بات بھی کرتے رہتے ہیںجو حادثہ کا سبب بنتا ہے ۔ اس میں وہ خود بھی ہلاک ہوتے ہیں اور دوسروں کی جان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:
 ولا تلقوابایدیکم الی التھلکة(البقرة:195)
اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
 اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی کہ لوگ کان میں ’ہیڈ فون یا بلو ٹوتھ‘ لگائے کام انجام دیتے رہتے ہیںلیکن اس سے حادثے کا شکار ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ ریلوے ٹریک پر اس کی وجہ سے آئے دن اموات ہوتی رہتی ہیں۔یہ ایک قسم کی خودکشی بھی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جان کو ہلاکت میں جان بوجھ کر نہ ڈالو۔
 حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ آپ نے ہم لوگوں کو ایسی چھت پر سونے سے منع کیا ہے جس کی منڈیر نہ ہو۔(ترمذی)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احتیاط کرنا ضروری ہے۔
 (12)فوٹو کھینچنا
جب سے موبائل میں کیمرہ آیا ہے لوگوں میں فوٹو کھنچنے کا رجحان بڑھ گیا ہے،حتیٰ کہ مسجدوں میں بھی بلا ضرورت اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔فوٹو کھینچنا ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے۔بعض اس کے جواز کے قائل ہیں اور بعض اس کو جائز نہیں قرار دیتے ہیں،لیکن اتنے پرتو سب کا اتفاق ہے کہ بلا ضرورت فوٹو لیتے رہنا صحیح نہیں ہے اور یہ تب تو حرام ہو جائے گا جب نامحرم مردوں اور لڑکیوں کی تصا ویر لی جائے اور اس کو موبائل میں رکھا جائے اور دوستوںکو دکھایا جائے۔اس لیے ان سب سے بچنا چاہیے۔ ٭٭٭٭


Wednesday, 5 February 2014

(Islam And Orientalizm) اسلام اور مستشرقین




تحریر: مولا نا ابواللیث اصلاحیؒ مرحوم 
(سابق امیر جماعت اسلامی ہند)
ترجمہ : اسامہ شعیب علیگ 
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی
D-321, Abul Fazal Enclave
Jamai Nagar,New-Delhi
M.b 9911319959

پچھلی چند صدی میں یورپ کے اندر جو اسلامی علوم کی تحقیق و جستجو میں ذوق و شوق پیدا ہوا اور ادب و سیرت کے ساتھ ساتھ مختلف اسلامی علوم کی قدیم کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آئیں ، اس عمل کی ستائش کی جانی چاہیے لیکن ہم مسلمانوں کا فرض بنتا تھا کہ اس مبارک عمل میں آگے آتے مگر ہم غفلت کی نیند سوتے رہے اور بہت سی قیمتی کتابیں دنیا کے مشہور کتب خانو ں کی الماریوں کی زینت بنی رہیں اور اہلِ علم حضرات کی نگاہوں اور تحقیق سے دور رہیں۔اس سلسلے میں مستشرقین کی کو ششیں اور ان کی جد وجہد قابلِ تحسین ہیں، جو لوگ بھی مستحسن عمل کریں ،اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ ان کا مشکور ہوا جائے۔
لیکن چند گوشے ایسے بھی ہیں جن کو اپنی نظر کے سامنے رکھنا ضروری ہے ،جو درج ذیل ہیں:
(۱) میں سمجھتا ہوں کہ مستشرقین کی یہ کوششیں اعلیٰ مقصد کے حصول اور طلبِ حق کے لیے نہیں صرف کی گئی ہیں،بلکہ یورپ کے اندر ایک نئی تہذیب کے وجود کے بعد سدِّ حاجت کے طور پر ظاہر ہو رہی تھیں۔جب دنیا کے اکثر حصہ پر ان کا سیاسی غلبہ ہو گیا اور مشرق پر بھی ان کا جھنڈا لہرانے لگاتواس وقت ان کو یہاں کے احوال وظروف اور افکار کو سمجھنے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی،لہٰذا مستشرقین اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھے اور اس میں کام یابی بھی حاصل کی ۔یہاں تک کہ وہ حضرات جن کی آنکھیں مغرب کی تہذیب سے خیرہ تھیں ،وہ بھی اسلامی علوم کے سلسلے میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ کا قصد کرنے لگے۔ 
یہ صورتِ حال اس وقت کی ہے جب یورپ کو نہ تو وحی کے اسلامی تصور کا شعور تھا اور نہ ہی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف کرتے تھے،لیکن ا س کے باوجود مستشرقین اپنی کوششوں میں اس حد تک کام یاب ہو گئے کہ ان کو سند کا درجہ مل گیا اور وہ استاذ کے مقام پر فائز ہو گئے۔یہ سب سیاسی میدان میں مسلمانوں کی ذہنی شکست کے نتیجے میں ہوا اور یہ شکست و ہزیمت ان کے لیے جنگی ہزیمت سے زیادہ خطرناک تھی۔
(۲)دوسری بات میں جس کی طرف آپ لوگوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کی وجہ سے ان کے اندر جو دشمنی پیدا ہوئی اس سے کسی بھی شخص کو غافل نہ ہونا چاہیے۔مستشرقین کی ایک بڑی تعداد اپنے بلند علمی مقام کے باوجود اس رجحان سے اوپر نہ اٹھ سکی کہ حق کو سمجھ لینے کے بعد اس کے تئیں عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کرتی،سوائے ایک قلیل تعداد کے جن کو انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے،اسی وجہ سے ہم ان میں سے اکثر کی تحریروں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جھوٹے اور من گھڑت قصوں کا بیان اس طرح سے پاتے ہیں گویا وہ بالکل سچے واقعات ہوں۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اسلام میں توحید کا تصور جس طرح نمایاں ہے اس کی مثال کسی بھی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔ا س کے باوجود مستشرقین نے دنیا کویہ باور کرانے کی پوری کوشش کی کہ اسلام بت پرستی کی ایک نئی شکل ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ ¿ کعبہ سے تو تمام قدیم اصنام باہر کرا دیئے اور اپنا سونے کا ایک صنم اس میں نصب کرا دیا۔
اسی طرح ان میں سے کچھ نے نزول وحی کی کیفیت کو مرگی کے مرض سے تعبیر کیاتاکہ لوگوں کو اس بات کا یقین دلایاجاسکے کہ آپ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبری عطا ہوئی تھی اور یہ بھی الزام لگایا گیا کہ آپ کو دورہ پڑنے کے بعدجب افاقہ ہوتا تھا تب کہہ دیتے تھے کہ میں نزولِ وحی کی حالت میں تھا اور خود گھڑ کر آیتیں سناتے۔(اللہ تعالی کی پناہ اس لغو بات سے)۔
اسی طرح بعض مستشرقین نے یہ فرضی قصہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کبوتریں پال رکھی تھیں اورجنھیں سدھار رکھا تھا۔وہ آپ کے کندھے پر بیٹھ جاتیں اور آپ اس وقت لوگوں سے مخاطب ہو تے اور کہتے کہ ابھی جن کو تم لوگوں نے میرے کندھوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا تھا وہ کبوتریں نہ تھیں، بلکہ جبرئیل علیہ السلام تھے اور میرے پاس اللہ تعالی کی طرف سے پیغام لائے تھے۔
بعض مستشرقین نے بیا ن کیا کہ جو دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے اس کا آسمانی وحی سے کوئی تعلق نہیں ہے ،بلکہ وہ بحیرة راہب کی تعلیمات ہیں جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات شام کے سفر کے دوران ہوئی تھی۔اسی لیے ایک گروہ کہتا ہے کہ اسلام کوئی مستقل دین نہیں ہے بلکہ مسیحیت کی ہی ایک نئی شکل ہے۔
اسی طرح ان مستشرقین میں سے کچھ نے دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے زبردست جد وجہد کی کہ اسلام پوری دنیا میں اپنی اچھی تعلیمات اور اعلیٰ اصولوں کی بدولت نہیں پھیلا ہے ،بلکہ اس کا پھیلاو صرف تلوار کی قوت سے ہوا ہے ۔حتیٰ کہ بعض نے بعد کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان نصرت بالرعب (میری رعب سے مدد کی گئی) سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ اسلا م ایک دہشت گرد مذہب ہے۔
اسی طرح ان میں سے بعض نے اپنی تحریر کی پوری قوت اس بات کو ثابت کرنے میں صرف کر دی کہ اسلامی شریعت ،ربانی شریعت نہیں ہے بلکہ رومی قوانین اور حمواربی شریعت سے ماخوذ ہے۔
اسی طرح مستشرقین جب اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ پر کچھ تحریر کرتے ہیں تو مسلمانوں کی طرف طعن و تشنیع میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔بغداد و اسکندریہ کی دو مشہور لائبریریوں کو نذرِ آتش کرنے کے الزام میں یہ لوگ پیش پیش نظر آتے ہیں۔اللہ تعالی حجة الاسلام علامہ شبلی نعمانیؒ پر رحم فرمائے اور ان کی قبر کو منور کرے کہ انہوں نے مستشرقین کے جھوٹ اور تہمتوں کی قلعی کھول دی اور پختہ مسکت دلائل سے اپنی گراں قدر کتابوں سیرة النبی،النقد علی التمدن الاسلامی اور بعض دوسری تصانیف تحریر کر کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
یہ مستشرقین کی چند گھڑی ہوئی سازشوں کی مثالیں ہیں جن کا علماءاسلام نے روشن دلائل سے تسلی بخش جوابات دیے ہیں ۔جس کے نتیجے میں بعض مستشرقین نے اپنے کام پر نظر ثانی کی اورگذشتہ لوگوں کی بعض چیزوں سے اجتناب کیا۔ اسلوب میں کچھ تبدیلیاں کی لیکن وہ اپنے اصلی ہدف سے نہیں ہٹے ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ مستشرقین’ عدل وانصاف‘ کے لباس میں ظاہر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت پر علم النفس اور دوسرے کلام کا سہارا لے کر حملے کیے اور کہا کہ آپ نے ابتدا میں اپنی شہوت کو کچلنے کی کوشش کی لیکن اس میں ان کو کام یابی نہیں ملی جس کا بالآخر تعدد زوجات کی شکل میں نتیجہ ظاہر ہوا۔(معاذاللہ) ۔
اسلا م اورمسلمانوں سے متعلق مستشرقین کی کوششوں کی یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے ۔ورنہ ان کے ادب ،تاریخ اور سیرت کے میدان میں ایک جہدِ مسلسل ہے جس میں علم و تحقیق اور ذہنی و فکری آزادی کے نام پر اسلام کے اصولوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت پر طرح طرح کے شبہات وارد کیے جاتے ہیں۔
مستشرقین کی کار کردگیوں اور کوششوں کے تعلق سے میں نے اپنے خیالات مختصراً آپ کے سامنے رکھے ۔اس پسمنظر میں پہلے میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جب تک وہ استاد اور سند سمجھے جاتے رہیں گے اور اسلامی علوم کے مرجعیت کے درجے پر فائز رہیں گے ساتھ ہی لوگ اسلام کو سمجھنے کے لیے ان کی طرف قصد کرتے رہیں گے تو اسلامی معاشرہ میں برابر شبہات داخل کیے جاتے رہیں گے ۔
اس کے ساتھ یہ بات بھی ضروری ہے کہ ہم مستشرقین کے علمی نتائج سے غافل نہ ہوں کیوں کہ یہ رویہ زیادہ خطرناک ہو گا اور ہم بعض قیمتی کتابوں سے محروم رہ جائیں گے۔اس لیے ہمارے اہلِ بصیرت علماءبرابر ہوشیار رہیں اور جو کتابیں بھی ان کی جانب سے شائع ہو رہی ہیں اس پر نظر رکھیں ۔اس طرح عالمِ اسلام کو بھی واقفیت رہے گی کہ اسلام اور مسلمانوں کو کہاں کہاں اور کس طرح بدنام کرنے کی سعی ہو رہی ہے ۔ان کی ذمے داری ہے کہ ان کو اور ان کی کوششوں کو آزاد نہ چھوڑ دیں کہ مسلمان اورخاص کر ہمارے مسلم نوجوان اورغیر مسلموں میں تعلیم یافتہ اشخاص جو اسلام کو سمجھنے اور سیرتِ نبوی کو جاننا چاہتے ہیں اورجن کا زیادہ تر اعتماد مستشرقین کی کتابوں پر ہوتا ہے ،ان سے انہیں نقصان نہ پہنچے ۔یہاں تک کہ حق اور باطل ممیز ہو جائے اور سچائی جھوٹ سے الگ ہو جائے اور جو گمراہ ہو وہ جان بوجھ کر گم راہ ہو اور جو راہِ راست پر زندگی گزارے وہ جان کر اس کی روشنی میں زندگی گزارے۔
یہ مقصد ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اسلام، اس کی تعلیمات اور سیرتِ نبوی پر علمی و تحقیقی کتابیں لائیں ،جو حالاتِ حاضرہ کے تقاضوں کو پورا کرتی ہوں اور یہ بات بھی ضروری ہے کہ یہ کتابیں اپنے اسلوب و مواد میں مستشرقین کی کتابوں سے اعلیٰ و ارفع ہوں یا کم از کم اس سے کم تر نہ ہوں ، تاکہ لوگ ان کی کتابوں سے بے نیاز ہو جائیں اور ان سے اچھا بدل ان کوباآسانی میسر ہو۔
 جو مقصد ہمارے پیشِ نظر ہے وہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ صرف تردید اور تہمتوں کے جواب اور اسلام پر قیمتی کتابوں کی تیاری پر اکتفا نہ کریں بلکہ ہم انفرادی و اجتماعی دونوں میدانوں میں اسلام کی سچی اور عملی تصویر پیش کریں ،دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے ،اسلامی قدروں اور اس کے محاسن اور خصوصیات کو اپنی عملی زندگی میں نمایاں کرنے کا مفید ترین طریقہ یہی ہے ۔سب سے اچھا اور لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے کا مو ثر ترین طریقہ یہی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسان کی طرف مبعوث کیے گئے ہیں اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔آپ ہادی اور روشن چراغ ہیں ۔جو دین آپ لائے ہیں تمام ادیان سے بہتر ہے اور وہی تمام بحران و مشکلات کا واحد حل ہے جن سے انسانی معاشرہ دوچار ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور اسلام کی تعلیمات کی اتباع کے بغیر کوئی کام یابی اور نجات ممکن نہیں ہے۔(البعث الاسلامی، رمضان و شوال ، ص۱۸۳)
٭٭٭٭


Saturday, 1 February 2014

(Hazrat Muhammad S.A.W Ki Inqelaab Afreen Seerat) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلاب آفریں سیرت


اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر ت کاایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں زبردست قوتِ تاثیر تھی۔ چنانچہ بڑی بڑی شخصیتوں نے اس سے گہرا اثرقبول کیا۔ جن افراد کوآپ کا فیضِ صحبت نصیب ہوا وہ آپ کے عکسِ کامل بن گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں خداکی یاد ، آخرت کاخوف ، فنائے نفس اور ایثارو قربانی کے جذبات تھے تویہ جذبات ان کے اندر بھی ابھرآئے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وسیرت میں پاکیزگی تھی توان کے اخلاق وسیرت میں بھی پاکیزگی آگئی ۔ حق کے لیے ان کے پاس بے پایاں اخلاص تھا اور باطل کے مقابلے میں ان کے اندر بڑی شدت تھی ۔ وہ بے یقینی کے عالم سے نکل کریقین کے اس مقام تک پہنچ گئے جس سے اونچے مقام کا تصورنہیں کیاجاسکتا۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مانا اور اس طرح ماناکہ اس میں شک وشبہ کی کوئی آمیزش نہیں تھی۔ انھیں جس طرح اپنے وجود پریقین تھا، ٹھیک اسی طرح یہ بھی یقین تھاکہ آپ خدا کے رسول ہیں ۔ ان کے اس یقین سے دنیا نے قدم قدم پرٹکرلی، لیکن اسے متزلزل نہ کرسکی ۔ وہ آزمائشوں میں ڈالے گئے، ہرطرح ستائے گئے ، قیدوبند کی تکلیفوں سے گزرے ، مال ودولت سے محروم کیے گئے، لیکن ان کے یقین نے ان کاساتھ نہیں چھوڑا ۔ 
حضرت بلال ؓ نے جب اعلان کیاکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں تومکے کے لڑکے ان کے پیروں میں رسی باندھ کر شہرکی گلیوں اورکوچوں میں گھسیٹتے پھرتے تھے۔ ان کامالک امیہ بن خلف تپتی ہوئی ریت پرانھیں لٹاکر سینے پر پتھر رکھ دیتا کہ اگرمحمد کا انکار نہ کروگے، اسی حال میں مرجاگے ۔ لیکن اس کے باجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا جوکلمہ انھیں پڑھایاتھا اس کے سواکوئی دوسرا کلمہ پڑھنے سے انھوں نے انکارکردیا۔
 حضرت خبابؓ کو انگاروں پرلٹا دیاجاتا جس سے ان کے جسم کی چربی پگھلنے لگتی ۔اس عذاب سے دہکتے ہوئے انگارے ٹھنڈے پڑجاتے ،لیکن ان کے یقین کی وہ آگ نہ بجھتی جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے روشن کیا تھا۔ 
نبوت کے جھوٹے مدعی مسیلمہ نے حضرت حبیب بن زیدؓ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے ،لیکن ان کے دل کی دنیا جس ایمان ویقین سے آبادتھی اسے نہ نکال سکا۔ وہ ان سے پوچھتا کہ کیا محمد خداکے رسول ہیں ؟ تو پورے یقین کے ساتھ جواب دیتے کہ ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم خداکے رسول ہیں اورجب وہ یہ سوال کرتا کہ کیاتم مجھے خداکارسول مانتے ہو تو صاف کہہ دیتے کہ تمہاری ان خرافات کے سننے سے میرے کان بہرے ہیں۔
 حضرت صہیبؓ کواس جرم میں کہ وہ آپ کوخداکا رسول مانتے تھے، مکہ چھوڑنا پڑا تو انھوںنے اس شان سے ہجرت کی کہ اپنا سارامال ومتاع مشرکین کے حوالے کردیا اور خالی ہاتھ مدینے پہنچ گئے ۔
جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی رسالت کو تسلیم کیا تھاان کے نزدیک کسی بات کی صداقت کاسب سے بڑاثبوت یہ تھاکہ وہ آپ کی زبان سے نکلی ہے۔ ان کے یقین کایہ عالم تھا کہ غیب کی جن حقیقتوں کو آپ بیان کرتے وہ ان پراس طرح ایمان لے آتے جیسے کہ انھوں نے ان حقیقتوں کواپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ آپ نے معراج کاذکرفرمایا کہ شب کے چند لمحات میں اللہ تعالیٰ آپ کو مکے سے بیت المقدس لے گیا، وہاں آپ نے نماز پڑھی اور پھرآپ مکے واپس لوٹ آئے۔
آپ کے مخالفین کے نزدیک اس واقعہ کی روایت ہی آپ کی تکذیب کے لیے کافی تھی، لیکن حضرت ابوبکرؓ نے سنا تو کہا:
”واللہ لئن کان قالہ لقد صدق“ (خداکی قسم، اگرآپ نے یہ واقعہ بیان کیاہے تو سچ بیان کیاہے) ۔
حضرت یاسرؓخداکی راہ میں مارے گئے، ان کی بیوی سمیہ ؓ کوابوجہل کے نیزے نے شہید کردیا اور ان کے بیٹے عمارکو لوہے کی زرہ پہناکر چلچلاتی دھوپ میں ڈال دیاگیا۔ وہ یہ سب کچھ جھیل گئے، کیونکہ ان کے سامنے آپ کایہ ارشاد تھا:
”صبرایااٰل یاسر فان موعدکم الجنة “( صبرکرو اے آل یاسر! تم سے ملاقات جنت میں ہوگی )۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدرمیں فرمایا:
” دوڑو جنت کی طرف جو آسمان وزمین کی طرح وسیع ہے “۔
یہ سنتے ہی عمیر بن حمام بے تاب ہوگئے اور جلدی جلدی اپنے جھولے سے چند کھجور کھانے لگے ، پھر کچھ سوچ کرکہا کہ ان کھجور وں کے ختم ہونے تک زندہ رہوں تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی، چنانچہ فوراً انھیں اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور میدان جہاد میں جان دے دی۔
جنگ ِ احد میں انس بن نضرؓ ، حضرت سعدؓ سے فرماتے ہیں :
خداکی قسم، مجھے احد پہاڑ کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے ۔ یہ کہا اور پھر اسی وقت دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ بعد میں لوگوں نے دیکھاکہ ان کے جسم پرنیزے اورتلوار کے اسّی(80) سے زیادہ زخم تھے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کاحکم دیا توحضرت عمرؓ گھرگئے اور اپنا آدھامال لے آئے۔ حضرت ابوبکرؓ گئے اور اپنا کل سرمایہ لاکرسامنے رکھ دیا اورکہاکہ بیوی بچے اب خدا اور اس کے رسول کے حوالے ہیں۔ 
غزوہ تبوک کے موقع پر لشکر کے لیے سازوسامان کاکوئی انتظام نہیں ہورہاتھا ۔ حضوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلاب آفریں سیرت نے فرمایا کہ جوشخص اس لشکرکو مسلح کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا اجر دے گا ۔ ان الفاظ کے سنتے ہی حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور لشکر کی ایک ایک ضرورت کا اس طرح انتظام کیا کہ اونٹوں کے لیے رسیاں اورنکیلیں تک فراہم کردیں ۔ 
نبی علیہ السلام نے خداکا حکم سنایا کہ انسان نیکی کا مقام اسی وقت پاسکتاہے جب کہ وہ اپنی بعض محبوب چیزوں سے دست بردار نہ ہوجائے ۔ توحضرت ابوطلحہ ؓ نے کہا:
اے اللہ کے رسول! میرافلاں باغ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ کرتاہوں اور اسی سے مجھے اس کے اجروثواب کی توقع ہے ۔
دوآدمی آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کرپہنچے، لیکن دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آپ نے ان سے فرمایا :
 ”میں انسان ہوں، تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو ،ممکن ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے دعوے کودوسرے سے زیادہ وضاحت اورچالاکی کے ساتھ پیش کرنے میں کامیاب ہوجائے اورمیں اس کے حق میں فیصلہ دے دوں ۔ لیکن یادرکھو، اگر اس طرح میں کسی کواس کے بھائی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی دوں تو وہ اسے ہرگز نہ لے ۔ کیونکہ میں جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا اس کے حوالے کررہاہوں ۔ “
اس تقریر کا اتنا اثر ہوا کہ دونوں بے اختیار رونے لگے اور اپنے اپنے دعوے سے دوسرے کے حق میں دست بردار ہو گئے۔ 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کورسول ماننے والوں کا یہ یقین ، یہ ایمان اور یہ قربانیاں میرے نزدیک آپ کے برحق ہونے کی زبردست دلیل ہیں،کیونکہ آج تک اس کی کوئی مثال نہیں ہے کہ کسی جھوٹے نے دوسروں کو صداقت کاپابند بنادیا ہو، کسی خداسے بے خوف انسان نے اپنے ساتھیوں کے اندر اس کاخوف اور خشیت پیداکردی ہواور کسی پست سیرت آدمی کی صحبت سے لوگوں کی سیرت بلند ہوگئی ہو ۔ جھوٹ انسان کو کم زور کردیتاہے، اس لیے جھوٹے شخص میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ کسی کوسہارا دے سکے۔ اس کا مقام مصلحِ اخلاق کانہیں ہوتا،بلکہ وہ اس قابل ہوتاہے کہ اس کی اصلاح کی جائے ۔ ظاہر ہے، جو خود دوسروں کی مدد کامحتاج ہو، وہ کسی کی دست گیری کیاکرسکتاہے ؟ میدانِ عمل میں جس کے قدم لڑکھڑا رہے ہوں، ناممکن ہے کہ وہ کسی کم زور اورناتواں جسم میں استقلال اورثابت قدمی کی روح پھونک دے۔
 ٭٭٭



Friday, 31 January 2014

(Insaniyat Ke Sabse Bade Mohsin, Hazrat Muhammad S.A.W Ki Taleemat) انسانیت کے سب سے بڑے محسن،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات



اسامہ شعیب علیگ

ریسرچ اسکالر ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی



جو شخص بھی آپ کی زندگی، آپ کی تعلیمات اور نوع انسانی کی فلاح کے لیے آپ کی جدو جہد کو دیکھے گا، اس کا دل بے اختیار پکار اٹھے گا کہ آپ خدا کے سچے رسول اور نوع انسانی کے سب سے بڑے محسن تھے۔اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  پر جوکتاب نازل فرمائی وہ قرآن مجید ہے۔آپ نے اپنے قول وعمل سے اس کی جو تشریح فرمائی اس کا نام سنت ہے۔ قرآن و سنت کو اسلام کہا جاتا ہے۔ آپ کا دنیا پر سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ نے اسے صحیح عقیدہ اور فکر دیا، اعلیٰ اخلاقی اصول عطا کیے، عدل و انصاف پر مبنی قانون دیا، پاکیزہ تہذیب اور معاشرت سے روشناس کرایا اور ایک ایسا نظامِ حیات عطا کیا جس میں انسان کی فلاح اور کام رانی پائی جاتی ہے۔ یہاں آپ کی بعض تعلیمات پیش کی جا رہی ہیں۔
(ا) انسان کے سامنے ہمیشہ یہ سوال رہا ہے کہ یہ دنیا کیسے وجود میں آئی؟ کیا یہ یوں ہی چلتی رہے گی یا کسی وقت ختم ہوجائے گی؟ وہ یہاں زندگی کیسے گزارے؟ اس کا کوئی متعین راستہ ہے یا اسے یوں ہی بھٹکنے کے لےے چھوڑ دیا گیا ہے؟ اس کے صحیح یا غلط اعمال کا فیصلہ کب ہوگا؟ اس کا کوئی نتیجہ کبھی سامنے آئے گا یا نہیں؟ اس سوال کے ٹھیک جواب سے انسان کی زندگی صحیح رخ پر چلنے لگتی ہے اور جواب غلط ہوجائے تو اس کی زندگی کا رخ بھی غلط ہوجاتا ہے۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں اس کا دوٹوک جواب ہمیں ملتا ہے۔ وہ یہ کہ یہ دنیا خود بہ خود وجود میں نہیں آئی اور نہ اسے بہت سی ہستیوں نے پیدا کیا ہے، بلکہ اسے ایک خدا نے پیدا کیا ہے، وہی اسے چلا رہا ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ہم سر اور شریک نہیں ہے۔ وہی انسان کا خالق ومالک اور پروردگار ہے۔ اس نے انسانوں کی ہدایت و راہ نمائی کے لےے اپنے رسول بھیجے۔ جو شخص ان کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر گام زن رہے گا اور کام یاب ہوگا اور جو اس سے انحراف کرے گاناکامی اور نا مرادی سے دو چار ہوگا۔ یہ دنیا، جس میں انسان کو عقیدہ و عمل کی آزادی حاصل ہے، ایک روز ختم ہوجائے گی اور ایک غیر فانی اور ہمیشہ رہنے والی دنیا وجود میں آئے گی۔ اس وقت ہر فرد اپنے فکر و عمل کی جزا یا سزا پائے گا۔ جس نے خدا کو مان کر اس کی اطاعت کی راہ اختیار کی ہوگی اسے وہ بہترین اجر سے نوازے گا اور جس نے اس سے بغاوت اختیار کی ہوگی اسے بد ترین عذاب سے کوئی چیز بچا نہ سکے گی۔
(۲)اس دنیا میں انسان خاندانوں، قبیلوں، نسلوںاور قوموں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ان کے درمیان اور بھی اختلافات ہیں۔ یہ اختلافات عزت و ذلت کا معیار سمجھے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ سارے انسان ایک ہیں، اس لےے کہ سب ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ ان کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ غیر حقیقی ہیں،وہ عزت و ذلت کا معیار نہیں ہیں۔ اس کامعیار تقویٰ اور خدا ترسی ہے۔ صاحبِ عزت وہ ہے جو خدا ترس اور اس کے احکام کا پابند ہے۔ آپ نے اللہ تعالی کا یہ پیغام سنایا:
 ” اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمھارے مختلف خاندان اور قبیلے بنادےے، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں سب سے زیادہ بزرگ وہ ہے جو سب سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے اور باخبر ہے۔“ (الحجرات: 13)
یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا کے کسی بھی انسان کو رنگ و نسل اور ملک و قوم اور اس قسم کے دوسرے اختلافات کی بنیاد پر برتر یا کم تر نہیں قرار دیا جائے گا۔ اس طرح کی ہر تفریق ناقابلِ اعتبار اور ناقابلِ قبول ہے۔ 
(۳)ہر طرف انسانی حقوق پامال ہورہے تھے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کے تصور ہی سے دنیانا آشنا تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا واضح تصور دیا اور انسان کی جان، مال اور عزت وآبرو کو قابل احترام قرار دیا۔ہر انسان کوزندہ رہنے کاحق ہے۔
قرآن مجید نے کہا کہ:
 ” جس نے کسی ایک انسان کا بھی قتل کیا، جب کہ اس نے نہ تو ناحق کسی کی جان لی ہو اور نہ فساد کامرتکب ہوا ہو ، تو اس نے گویا روئے زمین کے تمام انسانوں کو قتل کر ڈالا۔“ ( المائدة: 32)
 آپ نے بتایا کہ ہر انسان محترم ہے، اس لیے اسے معاشی دوڑ ڈھوپ اور بہتر زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ اسے ذلت و خواری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔
 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 
 ”ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے اور انھیں خشکی اور تری پر سواری کی طاقت دی ہے اور پاک چیزوں کی روزی عطا کی ہے اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انھیں فضیلت اور برتری عطا کی ہے۔“ (بنی اسرائیل:70)
 یہ اس امر کی صراحت ہے کہ خشکی سے ، سمندر سے اور یہاں کی فضاو ¿ں سے فائدہ اٹھانے اور بہتر زندگی گزارنے کا ہر شخص کو حق ہے۔ اس سے اسے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
(۴)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سماج کے کم زور افراد اور طبقات پر ظلم و زیادتی سے منع ہی نہیں فرمایا ، بلکہ ان کے حقوق متعین کرے اور معاشرہ کو ان حقوق کے ادا کرنے کا پابند بنایا۔ 
 عورتوں کے متعلق آپ کا ارشاد ہے: 
” تم جو کھاو وہ ان کو کھلاو، جو پہنو ( اس معیار کا) ان کو پہناو ۔ انھیں زد و کوب نہ کرو اور برا بھلا مت کہو۔“ 
 آپ نے فرمایا:
 ” تم میں بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے بیوی بچوں کے حق میں بہتر ہیں۔“ غلاموں، محکوموں اور زیر دستوں کا کوئی حق ہی نہیں سمجھاجاتا تھا۔ آپ نے فرمایا: 
 ” وہ تمھارے بھائی ہیں۔ تمھیں چاہےے کہ جو کھاو  ان کو بھی وہ کھلاو ، جو پہنو ان کو بھی وہ پہناو ، ان پر کام کا اتنا بوجھ نہ ڈالو کہ وہ اسے اٹھا نہ سکیں۔ اگر ان کی طاقت سے زیادہ کام ہو تو اس کے پورا کرنے میں ان کی مدد کرو۔ “
 آپ نے کم زور افراد اور طبقات کے حق میں محض پند و نصیحت ہی نہیں فرمائی، بلکہ انھیں قانونی حقوق بھی عطا کےے۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تعلیمات پیش کیں ان کا ایک نمونہ یہ ہے:
” تمہارے رب کا فیصلہ ہے تم صرف اس کی عبادت کرو گے اور ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آو گے۔وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیںاف تک نہ کہو، ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو اور ان سے تہذیب و شرافت سے بات کرو۔ ان کے سامنے جذبہ ہمدردی سے جھک کر رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو کہ خدایا جس طرح سے انہوں نے بچپن میں ہماری پرورش کی تو ان پر رحم فرما۔قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرو۔ اسراف سے بچو، اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی ہوتے ہیں۔ بروقت ان کی مدد نہ کر سکو تو بھلے طریقے سے معذرت کرلو۔ اگر توقع ہو کہ آئندہ مدد کر سکوگے (تو مایوس مت کرو)۔اللہ جس کی روزی میں چاہتا ہے وسعت عطا کرتا ہے اور جسے کم دینا چاہتا ہے کم دیتا ہے۔ وہ بندوں کے حالات سے باخبر ہے۔ اپنی اولاد کو فقر و فاقہ کے ڈر سے قتل مت کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی دیں گے۔ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے۔ فحاشی اور بدکاری کے قریب بھی نہ جا۔ یہ بے حیائی کا کام اور برا راستہ ہے۔اللہ نے انسان کو محترم قرار دیا ہے، اس لیے اسے قتل نہ کرو، سوائے اس کے کہ حق و انصاف اس کا تقاضا کرے۔ ناحق اور ظلم کے ساتھ کسی کی جان لی جائے تو اس کے ولی کو قصاص یا دیت لینے اور معاف کرنے کا حق ہے۔ اس معاملے میں اس کی مدد کی جائے گی۔ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جا۔ہاں احسن طریقہ سے اپنا حقِ خدمت لے سکتے ہو۔ جب وہ سوجھ بوجھ کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کا مال اس کے حوالے کر دو۔ عہد وپیمان کو پورا کرو۔ اس کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہوگا۔ناپ تول میں کمی نہ کرو، ناپ کے دو تو پورا پورا دو، وزن کرو تو ترازو ٹھیک رکھو۔(معاملات میں) یہ طریقہ بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے۔ جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔ یاد رکھو!کان، آنکھ، دل، ہر ایک کے بارے میں اللہ کے ہاںپوچھا جائے گا۔زمین میں اترا کر نہ چلو۔ تم نہ زمین کو شق کر سکتے ہو اور نہ پہاڑ کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ یہ باتیں اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں“۔ (بنی اسرائیل:23-39)
قرآن مجید ،جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا، یہ اس کی تعلیمات کی ایک جھلک ہے۔ ان میں اخلاق اور قانون کا جو حسین امتزاج ہے ، اس کی کوئی مثال شاید کسی دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔    
٭٭٭٭


Monday, 27 January 2014

(Islam Me Valentine Day Ka Tasaoor) اسلام میں ویلینٹائن ڈے کا تصور




 اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی


ویلینٹائن ڈے اصلاً رومیوں کا تہوار ہے جس کی ابتدا تقریباً 1700سو سال قبل ہوئی تھی۔اہلِ روم میں 14 فروری کو ’یونودیوی‘ کی وجہ سے مقدس مانا جاتا تھا اور اس دیوی کو ’عورت اور شادی بیاہ کی دیوی‘ سمجھا جاتا تھا، اس لیے ان لوگوں نے اس کو محبت اور شادی کا دن ٹھہرا لیا۔بعد میں اسی دن ایک خاص واقعہ پیش آیا۔
 ایک روایت کے مطابق جب سلطنت روم میں جنگوں کا آغاز ہوا تو شادی شدہ مرد اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر جنگوں میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے۔ نوجوان بھی اپنی محبوباؤں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ جنگوں کے لیے کم افراد کی دستیابی کی وجہ سے شہنشاہ کلاڈئیس (Claudius) نے حکم دیا کہ مزید کوئی شادی یا منگنی نہیں ہونی چاہیے ،لیکن’ ویلنٹائن نامی‘ ایک پادری نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طریقہ سے شادیوں کا اہتمام کیا۔ جب شہنشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو قید کردیا۔ جو کچھ اس نے نوجوان عاشقوں کے لیے کیا تھا، اسے یاد رکھا گیا اور آج اسی نسبت سے ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے۔
ایک دوسری روایت کے مطابق اس کا آغاز’رومن سینٹ ویلنٹائن‘ کی مناسبت سے ہوا جسے 'محبت کا دیوتا' بھی کہتے ہیں۔اسے مذہب تبدیل نہ کرنے کے جرم میں پہلے قید میں رکھا گیا، پھر سولی پر چڑھا دیا گیا۔ قید کے دوران ویلنٹائن کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی۔ سولی پر چڑھائے جانے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کے نام ایک الوداعی محبت نامہ چھوڑا جس پر دستخط سے پہلے لکھا تھا ’تمہارا ویلنٹائن‘۔ یہ واقعہ 14/ فروری 279ءمیں پیش آیا۔ اسی کی یاد میں انہوں نے 14/ فروری کو یومِ تجدید ِمحبت منانا شروع کردیا۔
بریٹانیکا‘میں ویلنٹائن ڈے کا پس منظر ذرا مختلف انداز میں ملتا ہے :
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا(1997ئ) میں شائع ہونے والے انسائیکلو پیڈیا آف کیتھولک ازم( Catholicism ) کے بیان کے مطابق سینٹ ویلنٹائن کا اس دن سے کوئی تعلق نہیں ہے،البتہ ’ویلنٹائن ‘نام کے دو مسیحی اولیا (Saints) کا نام ملتا ہے۔ ان میں سے ایک کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ روم کا ایک پادری تھا جسے رومی دوسرا’ طرنی‘ (Terni) کا ایک بشپ تھا جسے لوگوں کو شفابخشنے کی روحانی طاقت حاصل تھی۔ اسے بھی کئی سال پہلے ’شہید‘ کردیا گیا تھا۔ لیکن یہ ابھی تک طے نہیں ہو سکاہے کہ ایک سینٹ ویلنٹائن تھا یا اس نام کے دو افراد تھے؟ البتہ یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ ان دونوں کا محبت کرنے والے جوڑوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محبت کے پیغامات یا تحائف بھیجنے کا رواج بعد میں غالباً ازمنہ وسطیٰ میں اس خیال کے تحت شروع ہوا کہ14/ فروری پرندوں کی جنسی مواصلت کا دن ہے۔ مسیحی کیلنڈر میں یہ دن کسی سینٹ کی یاد میں تہوار کے طور پرنہیں منایا جاتا۔(The Harper Loll ins Encyclopaedia of Catholicism: P.1294)
یہ ہے اس تہوار کی اصلیت۔لیکن جنسی آوارگی، بیہودگی اور خرافات کو مغربی ذرائع ابلاغ کس طرح ایک ’مقدس تہوار‘ بنا دیتے ہیں، اس کی واضح مثال ’ویلنٹائن ڈے‘ ہے۔ان کی تفریح اور تہوار میں تین چیزوں کا ہونا لازمی ہے یعنی شراب ، موسیقی اور عورت۔
 ایک زمانے تک یورپ میں بھی ’ویلنٹائن ڈے‘ کو’ آوارہ مزاج نوجوانوں کا عالمی دن‘ سمجھا جاتا تھا، مگر آج اسے ’محبت کے متوالوں‘ کے لیے ’یومِ تجدید ِمحبت ‘کے طور پر منایا جانے لگا ہے۔ اب بھی یورپ اور امریکہ میں ایک بڑی تعداد ’ویلنٹائن ڈے‘ منانے کو برا سمجھتی ہے، مگر ذرائع ابلاغ ان کے خیالات کو منظر عام پر نہیں آنے دیتے۔مغربی ذرائع ابلاغ اخلاقی نصب العین کے مقابلے میں ہمیشہ بے راہ روی کو فروغ دینے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔
مسلمانوں میں بھی دیکھتے ہی دیکھتے جس طرح ’ویلنٹائن ڈے‘ جدیدنوجوان نسل اور مغرب زدہ طبقات میں پذیرائی حاصل کرچکا ہے، اس کی توقع ایک اسلامی معاشرے میں نہیں کی جاسکتی۔ اس کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ مسلم معاشرہ اندر سے اس قدر کھوکھلا ہوگیا ہے کہ اس کی بقا کے لیے وسیع پیمانے پرتحریک چلانے کی ضرورت ہے۔
ویلینٹائن ڈے میں صبح سے رات گئے ایک دوسرے کو پھول دیے جاتے ہیں، پھولوں کی دکانوں پرزبردست رَش رہتا ہے، گل دستوں کی قیمت میں زبردست اضافہ ہو جاتا ہے،سرخ گلاب کی کمی ہو جاتی ہے،ایک دوسرے کو چاکلیٹ اور مٹھائیوں کا پیکٹ بطور محبت پیش کیا جاتا ہے اورایک دوسرے کو ایسے کارڈ پیش کیے جاتے ہیں جس پر یونانیوں کے عقیدے کے مطابق محبت کے خدا’ Cupid‘ کی تصویر بنی ہوتی ہے ،اس کی شکل کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ ایک لڑکا جس کے دو پَر ہوتے ہیں ،اس کے ہاتھ میں تیرا ور کمان ہے اور وہ تیر کو محبوبہ کے دل میں پیوست کر رہا ہے ۔اس دن عہدوپیمان کیے جاتے ہیں، روٹھوںکومنایا جاتا ہے۔کارڈس اور دیگر تحائف کے تبادلے ہوتے ہیں، موبائل پر پیغامات بھیجے جاتے ہیں،اس کے ذریعہ کمپنیاں موٹی رقم کماتی ہیں،انٹر نیٹ کلبوں پر رش رہتا ہے،جنرل اسٹوروں اور کتابوں کی دکانوں پر ’ویلنٹائن کارڈ‘ اس طرح فروخت ہوتے ہیں جس طرح سے عید کے کارڈ فروخت ہوتے ہیں۔ ان اسٹوروں پر ’کیوپڈ‘ کے بڑے بڑے نشانات آویزاں کیے جاتے ہیں اور بعض بڑے ہوٹلوں نے ’ویلنٹائن ڈنر‘ کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب کوئی لڑکا کسی لڑکی سے عشق کے معاملے کو حتیٰ الامکان ظاہر نہیں کرتا تھا،کیونکہ اس طرح کا اظہار سخت معیوب سمجھا جاتاتھا اور ایسی حرکت کے مرتکب نوجوانوں کی خوب درگت بنائی جاتی تھی، مگر آج یہ برا وقت بھی آگیا ہے کہ سب کچھ آرام سے ہوتا ہے اور کسی کو اعتراض کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔الا ماشا ءاللہ۔اس سے نوجوان نسل کی ذہنی رجحان کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ایسا کرنے والے مسلمان لڑکے لڑکیاں ،مسلم گھروں ہی کی اولاد یں ہوتی ہیں ،کسی یہودی ،نصرانی یا ہندوؤں کے گھروں کی نہیں۔اس میں جہاں ان کے والدین کی تربیت کی کمی ہے وہیں تعلیم ،تعلیمی ادارے اور اساتذہ کا بھی اہم کردار ہے۔
اسلام کا نظریہ
حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں کی قدم بقدم پیروی کرو گے ،اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم لوگ بھی اس میں داخل ہونے کی کوشش کرو گے۔آپ سے پوچھا گیا کہ پہلی قوم سے آپ کی مراد یہود ونصاریٰ ہیں؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون؟“(بخاری :7320)۔

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تقلید اور مشابہت اختیار کرنے سے اجتناب کرنے کی دعوت دی ہے۔لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ اپنے اخلاق و عادات اور رسوم ورواج میں یہود و نصاریٰ کی پیروی کرنے لگا ہے۔ان میں سے ایک ویلینٹائن ڈے منانا بھی ہے جوہمارے لیے کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔کیوں کہ یہ ایک شرکیہ اور بت پرست قوم کا تہوار ہے۔اس کا مرتکب ہونا غیر قوم کی مشابہت اختیار کرنا ہے ا ور اس کو قرآن و حدیث میں سختی سے منع کیا گیا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

ثم جعلنٰک علیٰ شریعة من الامر فاتبعھا و لا تتبع اھواءالذین لا یعلمون(الجاثیة:18)۔
پھر ہم نے آپ کو دین کے معاملے میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے۔لہٰذا تم اسی پر چلو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے“۔

ایک حدیث میں آپ نے ارشادفرمایا:
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“(ابوداؤد:4031)۔

علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت جائز نہیں ہے اور اگر وہ تہوار شرکیہ امور سے متعلق ہوئے تو اس میں برضا و رغبت شرکت انسان کو کفر اور مر تد کے درجے تک پہنچا دے گی۔امام ابن تیمیہ ؒ نے صراط مستقیم میں اور امام ذہبیؒ نے تشبیہ الخسیس میں اس کاتفصیلی ذکر کیا ہے۔

پھر یہ بھی کہ اس دن جس محبت کا اظہار کیا جاتا ہے وہ عمومی طور پر غیر محرم کے درمیان ہوتا ہے ،خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں۔شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہے کیوں کہ اس کا نتیجہ زنا ،فحش باتیں اور والدین سے بغاوت کی صورت میں نکلتا ہے اور’کیوپڈ‘ کی تصویر یا اس کا مجسمہ پیش کرنااس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اسے پسند کر رہا ہے تو یہ اللہ تعالی کے ساتھ کھلا ہو اشرک ہے اور یہ کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہوگا۔
اس لیے ہم سب کو غیر وں کی مشابہت اختیار کرنے اوران کی تہواروں میں شرکت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ایسا نہیں ہے کہ کسی قوم کی تقلید اور مشابہت اختیار کرنے سے وہ ہمیں اپنی قوم کا سمجھنے لگیں گے اور سر آنکھوں پر بٹھا لیں گے۔کیوں کہ جو اپنے مذہب اور تہذیب و تمدن کا نہ ہوسکا وہ کسی اور کا کیا ہوگا؟ہمیں عزت تب ہی ملے گی جب ہم اپنے دین اور تہذیب و تمدن سے جڑے رہیں گے۔جیسا کہ قرآن کہتا ہے :

وللہ العزة و لرسولہ و للمومنین ولکن المنٰفقین لا یعلمون (المنٰفقون:۸)
اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور منافقین کے لیے ہے،مگر یہ منافقین جانتے نہیں ہیں“۔
٭٭٭٭٭