Sunday, 21 December 2014

چہرے کا پردہ قرآن و سنت کی روشنی میں(Face Veil in the Light of Quran And Hadeeth


اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

اسلام نے خواتین کی فلاح و کام یابی کے لیے جو کچھ بھی تعلیمات پیش کی ہیں وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور اس نے ان تعلیمات سے ان تمام ذرائع کا سدِّ باب کیا ہے جس سے معاشرے میں اخلاقی بے راہ روی پھیل سکتی ہے۔اسی لیے اسلام میں عورتوں کو غیر محرم مردوں کے سامنے بے حجابانہ جانے سے منع کیا گیا۔انسان کی عقلِ سلیم بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے ۔باغیرت خواتین نے اس حکم کی اطاعت بھی کی اوردورِ نبوی سے چودہویں صدی ہجری کے نصف تک انہوںنے بشمول چہرے کے پردہ کیا۔
مسلم خواتین پردے کے لیے چادر یا ڈھیلے ڈھالے عبایا اور برقع وغیرہ کا استعمال کرتی تھیں۔ مخالفینِ اسلام نے جب دیکھا کہ عبایا یا برقع کو ختم کرنا ناممکن ہے تو انہوں نے ایک دل فریب چال چلی۔انہوں نے ضعیف اور کم زور احادیث کا استعمال کر کے خواتین کو چہرہ کھلا رکھنے پر اکسایااور جب وہ ایسا کرنے لگیں تو حجاب کے لیے ڈریس ڈیزائنرس سے شوخ،رنگ دار،نقش و نگار،پھول اور بیل بوٹوں سے مزیّن کپڑے تیار کرائے گئے ،جن سے خواتین کی پیشانی ،بال اور چہرہ وغیرہ کو ایک خاص انداز سے دکھایا جاسکے اور اتنے ہی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ ایسے عبایا اور برقع تیار کرائے گئے جو بہرحال برقع تو ہیں لیکن اتنے چست اور تنگ ہوتے ہیں کہ جسم کے نشیب و فراز بخوبی نظر آتے ہیں اور ان کو مزید ڈیزائن دار اور دیدہ زیب بنایا گیاکہ اب جوعبایا یا برقع زینت چھپانے کے لیے اوڑھا جاتا تھاوہ بجائے خود زینت بن گیااور لوگوں کی نظریں ایسے ہی برقعوں کا تعاقب کرتی ہیں۔
یہ بیماری کب سے شروع ہوئی ؟تاریخ بتاتی ہے کہ چودہویں صدی کے نصف اخیر میں اسلامی حکومت کے خاتمے،دینی اقدار کے کم زور پڑنے اور مغربی تہذیب وتمدن کے غلبے سے متاثر ہو کر سب سے پہلے مصر کی مسلم خواتین نے چہرے کا پردہ اتارا۔والیِ مصر محمد علی پاشا کے دور میں رفاعہ طہطاوی نے فرانس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن پہنچ کر چہرے کے پردے کے خلاف ایک تحریک چلائی ،جسے مرقس فہمی،احمد لطفی سید،طہ حسین ،قاسم امین ،سعد زغلول اور احمد زغلول وغیرہ نے مزید آگے بڑھایا۔اس کے لیے باقاعدہ کتابیں اور میگزینس جاری کیے گئے۔جیسے’ تحریر المراة،المراة الجدیدة،المراة فی الشرق اورالسفور‘ وغیرہ،جس میں چہرے کے پردے اور برقع کے خلاف تحریریں لکھی گئیں اور فلمی اداکاروں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔اس طرح سے یہ بیماری مصر،ترکی، شام، عراق سے ہوتے ہوئے رفتہ رفتہ پورے مسلم ممالک میں پھیلتی چلی گئی۔
جہاں تک چہرے کے پردے کی بات ہے تو عورت کے لیے چہرے کا پردہ واجب ہے۔کتاب و سنت میں اس کے متعدد دلائل موجود ہیں۔خود عہدِ نبوی سے لے کر خلافتِ راشدہ تک تمام مسلم خواتین کا اسی پر عمل رہا ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
و لا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا(النور:31
اور وہ (خواتین)اپنی زینت ظاہر نہ کریں،ہاں مگر وہ زینت جو ظاہر ہو جائے“۔
یہاں پر زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو خود بخود ظاہر ہو جاتی ہیں۔جیسے عورت کے بدن کا خاکہ یا خدّوخال،یا ہوا کی وجہ سے کبھی برقع یا چادر کھسک جائے توجو ظاہر ہو جائے ۔یعنی بلاارادہ خود سے جو کچھ بھی ظاہر ہو، وہ اس میں شامل ہے۔لیکن چہرے کو اس میں شمار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ اس کوجان بوجھ کر ہی کھولے گی۔اسی مفہوم کو عبداللہ بن مسعودؓ، حسن بصریؒ،ابن سیرین،ابراہیم نخعی اور سید ابوالاعلی مودودیؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
ایک اور جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:
یا ایھا النبی قل لازوٰجک و بناتک و نساءالمومنین یدنین علیھن من جلٰبیبھن ذٰلک ادنیٰ ان یعرفن فلا یوذین و کان اللہ غفوراً رحیماً(الاحزاب:33)
ائے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادر لٹکا لیا کریں،یہ (بات اس کے)زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لے جائیں اور انہیں ایذا نہ پہنچائی جائے،اور اللہ بہت بخشنے والا،نہایت رحم کرنے والا ہے۔
صحابیات نے اس آیت سے مرادپورے بدن کے ساتھ ساتھ چہرہ ڈھکنا بھی لیا تھا۔حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا:
جب یہ آیت نازل ہوئی تو انصاری خواتین سیاہ چادریں اوڑھے نکلیں۔“(ابوداود:4101)
سورة نور میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن(النور:24)
اور اپنے پاوں (زمین پر)نہ ماریں تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں“۔
یعنی اگر عورت نے پائل وغیرہ پہنی ہوئی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ زمین پر پاوں مارتی چلے کہ مرد جھنکار سے اس کی طرف مائل ہو۔یہاں پر غور کرنے کی بات ہے کہ پائل تک سے تو منع کیا جا رہا ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ چہرہ ہی جس میں سارا حسن اورکشش ہے، اسے یو ں ہی لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینے کے لیے کھلا رکھنے کے لیے کہا جائے گا؟
حضرت جابرؓسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے،اگر ممکن ہو تو اس کا وہ پہلو دیکھ لے جو اسے عورت کے ساتھ نکاح کرنے پر آمادہ کرے۔(اگر ایسا ممکن ہو تو)تو ضرور ایسا کرے“۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں :
اس کے بعدمیں نے بنی سلمہ کی ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے انہیں کھجوروں کے درختوں کے پیچھے چھپ کر دیکھنے کی کوشش کی ۔آخر کارمیں نے انہیں دیکھ لیا جس سے مجھے ان سے نکاح کی رغبت ہوئی اور میں نے ان سے شادی کر لی“۔(ابوداود:2082)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر اس زمانے میں خواتین اپنے چہروں کو کھلا رکھتی تھیں تو حضرت جابرؓ کو اس خاتون کو چھپ کر دیکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
حضرت اسما ءبنت ابی بکرؓسے روایت ہے :
ہم اجنبی مردوں سے چہرے چھپایا کرتے تھیں“۔(المستدرک للحاکم:1/454)
شیخ الاسلام حافظ ابن حجر(852ھ)فرماتے ہیں:
قدیم و جدید دونوں دور میں خواتین اجنبیوں سے چہرے کا پردہ کرتی ہیں“۔
امام غزالی کے مطابق:
مردوں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ چہرا کھلا رکھتے اور عورتیں نقاب اوڑھ کر نکلا کرتی تھیں“۔(فتح الباری:9/337)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ چہرے کا پردہ کرنا دینی تقاضے کے تحت نہیں،بلکہ یہ محض ایک علاقائی روایت ہے۔لیکن عرب کے علاوہ ترکی،مصر،تیونس اور شام کی قدیم تصاویر سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم خواتین چہرے کا پردہ کیا کرتی تھیں۔(ملاحظہ کریں :کتاب الطاہر الحداد و مسئلة الحداثة،احمد خالد)
فقہاءاحناف جیسے امام ابوبکرجصاص،امام علاوالدین،امام طحاوی اور حاشیہ ابن عابدین وغیرہ کے مطابق:
خواتین کے لیے اجنبی یا غیر محرم مردوں کے سامنے چہرہ کھولنا جائز نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چہرہ ننگا کرنا فتنے کا باعث ہو سکتا ہے“۔
مالکی مسلک کے حاملین اکابر فقہاءجیسے قاضی ابوبکر ابن العربی،قرطبی،امام ابن عبدالبراور امام آبی وغیرہ کے مطابق:
عورت کے لیے چہرہ کھولنا بوقت ضرورت ہی جائزہے اور اگر فتنہ کا ڈر ہو تو عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھ دونوں کو چھپانا ضروری ہے“۔(جواہر الاکلیل:1/41)
اورموجودہ دور میں تو کوئی کافر ہی فتنے سے انکار کرسکتا ہے کیوں کہ اس وقت نوجوان عورتیں تو دور،چھوٹی معصوم بچیاں بھی درندوں سے محفوظ نہیں ہیں۔
فقہاءشوافع جیسے اما م الحرمین جوینی،امام ابن رسلان،امام موزعی جیسے مشہور فقہاءکی رائے ہے کہ:
فتنے کا خدشہ ہو یا نہ ہو،عورت کے لیے غیر محرم کے سامنے چہرہ کھولنا جائزنہیں ہے“۔(روضة الطالبین:7/27)
بہرحال درج بالا دلیلیں تو قرآن و حدیث سے تھیں لیکن اگر عقلی طور سے بھی دیکھا جائے تو ایک انصاف پسند آدمی بہت اچھے سے سمجھتا ہے کہ چہرہ ہی عورت کے حسن کا مرجع و منبع ہے اور فتنہ اسی کو دیکھنے سے ہوتا ہے۔چناں چہ وہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایک عورت کو ہاتھ پیر اور گردن وغیرہ کو چھپانا چاہیے کہ اس سے انسان آزمائش میں پڑتا ہے اور اس کے جنسی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں ،البتہ چہرے کو اپنے جلوہ اور تمام ترحشر انگیزیوں کے ساتھ کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور مرد اسے دیکھ کر قابو میں رہے گا۔
جو لوگ چہرے کاپردہ ضروری نہیں سمجھتے ہیں ان کو چاہیے کہ لڑکی کی منگنی کے وقت اس کاچہرہ دیکھنے کے بجائے صرف اس کا ہاتھ پیر ہی دیکھ لیا کریں،لیکن وہ ایسا نہیں کرتے ۔ اس وقت چہرہ دیکھنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اصل حسن کس میں ہے؟
جو لوگ چہرے کے پردے کے قائل نہیں ہیں ،ان کی پہلی دلیل حضرت جابرؓ سے مروی یہ حدیث ہے :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن اپنے خطبہ کے آخر میں خواتین کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ایک’ میلے رخسار والی‘ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے پوچھا:ائے اللہ کے رسول !کیوں؟....“
اس میں حضرت جابرؓ کا لفظ ’میلے رخسار والی‘سے ان لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اس عورت کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس واقعہ کو حضرت جابرؓ کے علاوہ حضرت ابوہریرةؓ،حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ،ابن عباسؓ،ابن عمرؓ اور ابوسعید خدریؓنے بھی بیان کیا ہے لیکن کسی نے بھی لفظ’میلے رخسار والی‘ کا استعمال نہیں کیا ہے۔اس لیے ممکن ہے کہ جابرؓ اس خاتون کو پہلے سے جانتے رہے ہوںیا حکمِ حجاب سے پہلے بھی انہوں نے اسے دیکھا ہویاہو سکتا ہے کہ وہ لونڈی ہوں کہ اس دور میں عموماً ایسی ہوا کرتی تھیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ حکمِ حجاب سے پہلے کا ہو کیوں کہ یہ حکم 4ھ میں نازل ہوا اور عید کی نماز 2ھ میں فرض ہو گئی تھی۔فقہ میں ایک اصول ہے کہ کسی روایت کی تشریح میں احتمال ہو تو اس سے استدلال کرنا اور اسے بطور دلیل لینا درست نہیں ہوگا۔
چہرے کے پردے کے منکر اپنی دلیل میںایک یہ بھی حدیث پیش کرتے ہیں کہ خالد بن دریک نے حضرت عائشہؓ کے حوالے سے بتایا:
حضرت اسماءرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو ان کے بدن پر بارک کپڑے تھے۔آپ نے منہ پھر کر فرمایا:اسما!جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے چہرے اور ہاتھ کے سوا بدن کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے“۔
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے کیوں کہ امام ابوداود خود لکھتے ہیں کہ یہ خالد بن دریک کی مرسل روایت ہے ،اس نے حضرت عائشہؓ کا زمانہ نہیں پایا تھا اور اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ابو عبدالرحمٰن بصری ہے جوضعیف ہے۔ان کے علاوہ اس میں دو راوی قتادہ اور ولید بن مسلم ہیں جو حدیث میں تدلیس کے مرتکب ہوئے ہیں۔اس طرح سے یہ حدیث ضعیف ثابت ہوتی ہے اور اس کو بطور دلیل پیش کرنا درست نہیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کے ساتھ بیٹھے ہوں اور حضرت اسماءجو حضرت عائشہ سے ؓؓبڑی ہیں وہ آپ کے سامنے باریک کپڑوں میں آجائیں۔ان سے اس بات کی توقع کرنا نامناسب ہوگا کیوں کہ جاہلی دور میں بھی شرفاءکی خواتین پردہ کرتی تھیں تو اسلام آنے کے بعد تو بدرجہ اولیٰ اس پر توجہ دی گئی ہوگی۔
اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی کہ بعض خواتین سے جب پردے کی بات کی جاتی ہے تو کہتی ہیں کہ اصل تو’ دل کا پردہ‘ ہونا چاہیے۔لیکن کیا ان کے دل امہات المومنین،نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں اور صحابہ کرام کی ماوں اور بہنوں سے زیادہ صاف اور پاکیزہ ہیں؟ہرگز نہیں،لیکن اس کے باوجود ان خواتین نے بشمول چہرے کے پردہ کیا۔اگر اس’ دل کے پردے‘ کے مفروضے کو ایک پل کے لیے مان بھی لیا جائے تو پھر لباس ہی پہننے کی کیا ضرورت رہتی ہے ؟بغیر لباس کے بھی تودل کا پردہ ہوسکتا ہے.... لیکن اس کے لیے کوئی راضی نہ ہوگا۔اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جو پردے کا حکم دیا ہے اس کو بے چوں چرا مان لیا جائے۔اسی میں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی ہے۔
*****








Saturday, 1 November 2014

محرم کی حقیقت اور مسلم معاشرہ(Reality Of Muharram And Muslim Society)



اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

اسلامی تقویم کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ارشادفرمایا:
ان عد ة الشھور عند اللہ اثنا عشر شھراً فی کتٰب اللہ یوم خلق السمٰوٰت و الارض منھا اربعة حرم(التوبة:36)
حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ تعالی نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار حرام ہیں“
ان بارہ مہینوں کی ترتیب محرم سے شروع ہو کر ذی الحجہ پر ختم ہوتی ہے اور چار مہینے محرم، رجب، ذیقعدہ اور ذی الحجہ ہیں۔
محرم کی فضیلت
عرب دورِ جاہلیت میں ان چار مہینوں کی بڑی تعظیم کرتے تھے اور ان میں لڑائی جھگڑے کو حرام سمجھتے تھے اسی لیے ان کا نام حرمت والے مہینے پڑ گیا۔ اسلام نے ان کی حرمت و عزت میں مزید اضافہ کیا ۔ان مہینوں میں نیک اعمال اور اللہ تعالی کی اطاعت پر ثواب اور اس کی نافرمانی پر گناہ ،عام دنوں کے مقابلے بڑھ جاتے ہیں۔لہٰذا ان مہینوں کی حرمت توڑنا جائزنہیں (تفسیرخازن :3/73)
محرم کی اہمیت
اس مہینہ کو مختلف اسباب کی وجہ سے اہم مقام حاصل ہے۔ اسی سے اسلامی کلینڈر کا آغاز ہوتا ہے ،جو ہم مسلمانوں کی اکثریت کو یاد نہیں رہتا ہاں یاد رہتا ہے تو 31/ دسمبر جس میں ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی ہے ، آتش بازیاں ہوتی ہیں اور ٹھمکے لگائے جاتے ہیں، جو دراصل غیروں کی ایجاد کردہ رسومات ہیں۔
دوسری اہمیت اس وجہ سے کہ اسی مہینہ کی دسویں تاریخ کو اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی اور یہ بھی کہ اسی دن حضرت آدم ؑ کی تخلیق ہوئی، اسی دن جنت وجود میں آئی، اسی دن سفینہ نوح جودی پہاڑ پر رکی ۔ ان کے علاوہ اس مہینہ کی نہ تو کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی کوئی مقام، جیسا کہ آج کے مسلمان سمجھتے ہیں۔
محرم اور عاشوراءکے روزے
حضرت ابو ہریرةؓ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا :
 ” رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں جو اللہ تعالی کا مہینہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے“(مسلم:1163)
حضرت حسین ؓ کی شہادت کا واقعہ اسی مہینہ میں پیش آیا تو لوگ سمجھتے ہیں کہ اسی کی یاد میں عاشوراءکے دن روزہ رکھا جاتا ہے جب کہ یہ واقعہ 61ھ میں پیش آیا تھا اور شریعت کی تکمیل نبیِ کریم ﷺ کے ہی دور میں ہو چکی تھی۔اس لیے اس روزے کا تعلق حضرت حسینؓ کی شہادت سے نہیں ہے۔
 حضرت ابوقتادہؓ فرماتے ہیں کہ آپﷺ سے عاشوراءکے روزے کی فضیلت کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے“(مسلم:1976)
اس کا پس منظر یہ ہے کہ اس دن اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تو اس احسان کے شکرانے کے طور پر روزہ رکھنا مستحب قرار دیا گیا ۔حدیث میں آتا ہے کہ :
نبیِ کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو انہوں نے قومِ یہود کو اس دن روزہ رکھتے ہوئے پایا ۔آپ ﷺ نے دریافت کیا تو جواب ملا کہ اس دن موسیٰؑ کو فرعون سے نجات ملی تھی ۔آپ ﷺ نے فرمایاکہ ہم تمہاری نسبت موسیٰؑ سے زیادہ قریب اور حقدار ہیں ۔پھر آپﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو بھی اس کا حکم دیا(مسلم:1130) ۔
ایک اور روایت میں فرمایا :
اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو اس کے ساتھ 9/ محرم کا بھی روزہ رکھوں گا تاکہ یہود کی مخالفت بھی ہو جائے
 اس لیے اب 9/10 یا 10/11 کا روزہ رکھا جائے گا، تاکہ یہود کی مخالفت ہو۔
محرم میں شرک اور بدعات و خرافات
امت میں زوال آنے کے بعد رفتہ رفتہ اس مہینہ میں بھی مختلف بدعات و خرافات انجام دی جانے لگیں۔یہ صرف اس وجہ سے کہ اس مہینہ میں حضرت حسین ؓ کی شہادت ہوئی۔ ان کی یاد میں یا حسین کے فلک شگاف نعرے، سیاہ لباس ،شادی سے اجتناب ،مساجد و مقابر کی زیارت ،ماتم ، مرثیہ خوانی اور نوحہ وغیرہ کی مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں ، ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے جس میں سینہ کوبی ، تلوار ، چاقو،زنجیر، خنجروغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے اور اسی طرح نیاز و فاتحہ، پانی کی سبیلیں لگانا ، حضرت حسینؓ کا اپنے بیٹے یا بھائی کو ’منگتا‘ بنانااور تعزیہ وغیرہ نکالنے کا اہتمام ہوتا ہے ۔ مردو زن کا اختلاط ہوتا ہے لیکن مزے کی بات یہ کہ ان بدعات و رسومات کو دین کی خدمت سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے۔
جب کہ اسلام نے ان تمام شرکیہ افعال اور بدعات و خرافات سے واضح طور سے منع کیا ہے اور ایسے موقع پر صبر سے کام لینے کی تعلیم دی ہے ۔ ارشادِ ربانی ہے:
الذین اذا اصابتھم مصیبة قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون (البقرة:156)
 ” جب کوئی مصیبت پڑے ،توکہیں کہ:ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے
پھر یہ بھی کہ حضرت حسینؓ شہید کیے گئے ہیں تو وہ زندہ ہیں ، جیسا کہ قرآن شہیدوں کے بارے میں کہتا ہے:
ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاءو لکن لا تشعرون (البقرة:154)
اور اللہ تعالی کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو ، وہ زندہ ہیں لیکن تم سمجھتے نہیں
تو جب وہ زندہ ہیں تو ان کے لیے خود کو زخمی کرنا اور رونا پیٹنا کہاں سے جائز ہو سکتا ہے؟یہ کام تو کوئی بے وقوف ہی کر سکتا ہے اور جہاں تک نوحہ کرنے اور گریباں چاک کرکے آہ و فغاں کرنے کی بات ہے تو نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
جو شخص رخساروں پر طمانچہ مارے، گریبانوں کو چاک کر کے جاہلیت کی پکار کے ساتھ پکارے ، واویلا کرے اور مصیبت کے وقت ہلاکت اور موت کو پکارے وہ ہم میں سے نہیں“(بخاری:1294)
ایک اور جگہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
 ”میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو جاہلیت کے چار کام چھوڑنے پر تیار نہ ہوں گے۔ حسب کی بنیاد پر فخر کرنا، کسی کے نسب میں طعنہ زنی کرنا، ستاروں کے ذریعہ قسمت کے احوال معلوم کرنا اور نوحہ کرنا۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا :
نوحہ کرنے والی عورت اگر موت سے پہلے توبہ نہیں کرتی تو قیامت کے روز اس حال میں اٹھا ئی جائے گی کہ اس پر تارکول کی ایک قمیص ہو گی اور بیماری کے ایک لباس نے اس کے جسم کو ڈھانپ رکھا ہوگا“(مسلم:934)
محرم میں ایک اور بدعت جس کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے وہ کھچڑا کی رسم ہے جسے حضرت حسینؓ کی نیاز کا نام دیا جاتا ہے اور بہت ہی متبرک سمجھ کر کھایا، تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصود حضرت حسین ؓ کی روح کو خوش کرنا ہے۔ جب کہ ان کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ ان کے پیچھے کیا کیا بدعات و خرافات انجام دی جا رہی ہیں۔
بعض مولوی حضرات نے اس کو ایصالِ ثواب قرار دے کر جواز کا زبردستی پہلو نکالا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت حسینؓ کی شہادت ہوئی ہے تو ان کو ثواب کی کیا ضرورت ہے ؟ کہ یہ لوگ بانٹتے پھر رہے ہیں؟ پھر یہ کہ کھچڑا خود ہی پکایا ، کھایا اور کھلایا تو اس میں ثواب کا کیا کام ہوا؟؟واقعہ یہ ہے کہ یہ صرف پیٹ بھرنے کا طریقہ ہے جس کو نذرو نیاز اور ایصالِ ثواب کا خوبصورت نام دے دیا گیا ہے۔اسی لیے اس طرح کی کوئی مثال ہمیں عہدِ نبوی یا صحابہ کرام کے دور میں نہیں ملتی ہے۔
تعزیہ داری کی ابتدا
حضرت حسین ؓ کی شہادت کے بعدگریہ و ماتم کی ابتداءیزید کے گھر سے ہوئی اور تین روز تک جاری رہالیکن پھر اس کے بعد تین سو برس تک محرم میں رونے پیٹنے کی رسم کا کہیں وجود نہ تھا۔ سب سے پہلے 352ھ میں معز الدولہ دیلمی نے صرف دسویں محرم کو بغداد میں حضرت حسینؓ کا ماتم کرنے کا حکم نافذ کیا اور اس کے بعد 363ھ میں المعز لدین اللہ فاطمی نے پورے مصر میں اس کا حکم جاری کر دیا(ملا باقر مجلسی، ص 524)
خود ہندوستان میں نویں صدی کے بعد تعزیہ کی شروعات ہوتی ہے اور اس کے آگے منتیں،فاتحہ، چڑھاوے ، نیازوغیرہ پیش کی جاتی ہیں اورپھر اس کو متبرک سمجھ کر کھایا ، تقسیم کیا جاتا ہے۔اس کا جلوس نکالا جاتا ہے ۔ جس طرح دسہرہ اور دیوالی کے موقع پر غیر مسلم دیوی دیوتا کی مورتیاں تیار کر کے پوجتے اور گشت کرتے ہیں پھر اس کو دریا میں غرق کر دیتے ہیں بالکل اسی طرح سے یہ لوگ بھی تعزیہ بنا کر گشت کرتے ہوئے ماتم کرتے اورسینہ کوبی کرتے ہوئے مصنوعی کربلا کے گہرے کنویں میں دفن کر تے ہیں۔بہرحال یہ بت پرستی کا دوسرا رخ ہے اور اس میں کسی بھی طرح سے حصہ لینا جائز نہیں اور نہ ہی دیکھنے کی غرض سے جانا صحیح ہے کیوںکہ اسلام نے ایسی جگہوں پر جانے سے سختی سے منع کیا ہے۔
اچھے یا برے دن منانے کی شرعی حیثیت :حضرت حسینؓ کی شہادت کا واقعہ ضرور اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے لیکن جس طرح اس کو 10/محرم کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا ، مختلف طرح کے افسانے گھڑ لیے گئے اور بدعات و خرافات انجام دی جانے لگیں ، یہ غلط اور ناجائز ہے۔ورنہ اس سے پہلے بہت سے انبیاءکرام اور صحابہ کرام کو شہید کیا گیا،خودحضرت عمر ؓ کی شہادت یکم محرم کو ہوئی،جن کے بارے میں نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتے تو وہ عمرؓ ہوتے ۔اتنی اہمیت کے باوجود آپؓ کی وفات پر کسی نئی بدعت اور رسم کا آغاز نہیں ہوا ،کیوں کہ اسلام نے شر اور خیر کو ایام کا معیارِ فضیلت قرار نہیں دیا ہے اوراسی لیے کہا گیا کہ:
 زمانے کو گالی نہ دو کیوں کہ برا بھلا اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے(بخاری:5827)
آج کل جس طرح سے محرم یادوسرے بڑے لوگوں کی سالگرہ یا برسی وغیرہ منائی جاتی ہے،اگر اسلام اس کی اجازت دے دے تو مسلمان پورے سال ایسی ہی تقریبات یا سوگوار ایام منانے اور اس کے انتظامات کرنے میں لگے رہیں گے ۔
کربلا کی حقیقت
حضرت حسینؓ نبی ِکریم کے نواسے تھے ۔ ان کو آپ ﷺ نے جنت کے نوجوانوں کا سردار قرار دیا تھا لیکن کیاآپؓ کا مقام صرف اس وجہ سے بلند تھا کہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے نواسے تھے؟نہیں ،بلکہ اس کی وجہ آپ کا بلند کردار اور وہ قربانی ہے جو آپؓ نے اسلام کے لیے دی۔
حضرت حسین ؓ کا اہلِ عراق کی دعوت پر تشریف لے جانا اوریزید کے مقابلے میں کھڑا ہونا اس لیے نہ تھا کہ آپؓ کو اقتدار کی لالچ تھی، بلکہ آپؓ نے صرف اس وجہ سے مخالفت کی تھی کہ خلافت کے تصور کا خاتمہ نہ ہواور لوگ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ اسلام میں بادشاہت یا ملوکیت بھی ہے۔اسی لیے آپؓ نے مقابلہ کیا اور شہید ہوئے۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ آج امت اس بات پر متفق ہے کہ اسلام میں سیاست خلافت کے ذریعہ ہے ۔اگر آپ مخالفت نہ کرتے تو لوگ یہی سمجھتے کہ ملوکیت کے نظام پر مسلمانوں کا اجماع ہو چکا ہے۔آپؓ کااس کے لیے نکلناصحیح تھا یا غلط؟لیکن صحابہ کرام یا تابعین میں سے کسی نے بھی اس کو غلط قرار نہیں دیا۔
 آخری بات
 اگرچہ کربلا کا واقعہ بہت ہی دردناک ہے لیکن حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جو کچھ سلوک کیا گیا اس کا جواب ہمیں نہیں دینا ہے۔ ان کے مخالفین نے جو کیا ،اس کی سزا وہ بھگتیں گے ۔ہم کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے تو ہمیں اس کی ہی فکر کرنی چاہیے۔جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
تلک امة قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون(البقرة:141)
وہ کچھ لوگ تھے جو گذر چکے ان کی کمائی ان کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے۔ تم سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے ہمارے سارے اعمال غارت ہو جائیں اور عذاب کے مستحق ہو جائیں۔

usama9911@gmail.com

Sunday, 31 August 2014

(Hajj Mubarak and his teachings) حجِ مبارک اور اس کی تعلیمات


اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر ہے ،ان میں سے ایک حج ہے۔یہ ہراس مسلمان عاقل و بالغ مرد، عورت پر عمر میں ایک بار فرضِ عین ہے جس کے پاس اتنی دولت ہو کہ وہ اپنی ضروریات کے علاوہ آنے جانے کے اخراجات اور اس دوران اپنے اہل و عیال کے خرچ کو پورا کر سکتا ہو، صحت مند ہو، راستہ مامون و محفوظ ہو اور اگر عورت ہے تو اس کے ساتھ شوہر یا محرم ہو۔
 حج کے لیے حلال کمائی کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ حرام کے پیسے سے حج قبول نہیں ہوگا ۔حدیثِ نبوی ہے:
 اللہ تعالی پاک ہے اور صرف پاکیزگی ہی کو قبول فرماتے ہیں۔ (ترمذی:2799)
حج کی مقبولیت کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد کثرت سے نیکیاں کی جائیں اور برائیوں سے بچا جائے اور عدمِ مقبولیت کی نشانی یہ ہے کہ انسان نیکیوں سے غافل اور برائیوں میں منہمک ہو۔
حج کی فرضیت
حج اس لیے فرض ہے کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاً ومن کفر فان اللہ غنی عن العالمین(اٰلِ عمران:97)
اللہ تعالی نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے۔ اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالی (اس سے بلکہ )تمام دنیا سے بے پرواہ ہے
اللہ تعالی نے قرآن میں ایک اور جگہ فرمایا:
 واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالاً و علی کل ضامر یاتین من کل فج عمیق(الحج:27)
 ” اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پاپیادہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے۔
حج کی نیت
اگرہماری نیت حج کی یہ ہو کہ اس سے شہرت مل جائے،’حاجی ‘کا خطاب مل جائے ، مال ودولت حاصل ہوجائے ، کچھ سیاسی مقاصد حل ہو جائیں یا سیرو تفریح ہو جائے تو یہ کوئی ’اولمپک گیم‘ نہیں کہ لوگ سیاحت کی غرض سے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور میدانِ عرفات وغیرہ میں قیام کریںبلکہ اس کی نیت صرف اور صرف اپنے گناہوں کی بخشش اور اللہ تعالی کی رضا کا حصول ہونا چاہیے۔
حج کے لیے روانگی
حج کے لیے جانے سے پہلے پورے خلوص کے ساتھ اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے اوران کو آئندہ نہ کرنے کا عزم ہو،نمازیں چھوٹی ہوں تو ان کی قضا کی جانی چاہیے،اگر کسی کو دکھ دیا ہو تو اس سے معافی مانگنی چاہیے ، کسی کا حق دبایا ہو تو معافی کے ساتھ اس کو واپس کرنا چاہیے، حق دار نہ ملے تو صدقہ کرنا چاہیے ،ساتھ ہی نیت رہے کہ جب ملے گا تو واپس کر دیں گے اور جہاں تک ممکن ہو سکے نمود و نمائش سے اجتناب کرنا چاہیے۔
روایتوں میں آتا ہے کہ تیس صحابہ کرام ایسے تھے ، جن کو ہر وقت نفاق کا دھڑکا لگارہتا تھااور ہمارا حال یہ ہے کہ حج کے لیے جانے سے پہلے اور بعد میں دعوتیں دی اور کھائی جاتی ہیں،کپڑوں کا لین دین ہوتا ہے، جاتے وقت باقاعدہ سہرا باندھ کر ،گلاب یا روپئے کا ہار پہن کر نکلا جاتا ہے گویا حج کرنے نہیں،بارات میں دلہا بن کر جا رہے ہیں،مووی بنائی جاتی ہے اور آتے ہی حاجی کا دم چھلا اپنے نام کے آگے جوڑ لیا جاتا ہے(اگرچہ اعمال پہلے ہی جیسے رہیں)۔اس طرح کی تمام چیزیں نہ صرف غلط ہیں بلکہ اجر کو ضائع کرنے والی ہیں ، کیو ں کہ ان سے انسان ریاکاری ،فضول خرچی اور خودنمائی وغیرہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
آدابِ سفر
دورانِ سفر اپنے ساتھیوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا چاہیے اورلڑائی، بغض وعداوت، بخل، مول تول ، جھوٹ،خیانت، غصہ اور لالچ وغیرہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ قانوناً جتنا سامان لے جانے کی اجازت ہو ،اتنا ہی لے جانا چاہیے ، اس میں دھوکہ دھڑی سے کام نہیں لینا چاہیے اور اگر تکلیف یا پریشانی ہو رہی ہے تو برداشت کرنا چاہیے، اس پر واویلا نہیں مچانا چاہیے کیوںکہ اللہ تعالی کی راہ میں نکلے ہیں۔
 وقت کا صحیحاستعمال:حج کے دوران ہمیں اس کے مقصد کو ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ عبادات اورسنن و نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے۔بے سود وقت ضائع کرنا مناسب نہیں اور اگر اس کو حرام کاموں میں کیا جائے تو مزید گناہوں کا سبب بنتاہے جیسے فوٹو گرافی کرنا،ویڈیو بنانا،گانا سننا،نامحرم کو گھورتے رہنا،فحش باتیں کرنا،غیر ضروری خریداری کرنا،گانوں کی سی۔ڈی یا آلات خریدنا وغیرہ ۔ایسا کرنے والوں کے لیے اندیشہ ہے کہ ان کا حج ہی قبول نہ ہو۔
حج کے مطالبات
ہرعبادت انسان کی زندگی میں انقلاب لانا چاہتی ہے،جب بھی اس کو اصل روح کے ساتھ ادا کیا جائے گا تو وہ عابد سے اسی کا مطالبہ کرے گی۔حج بھی حاجی کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے اور اگر اس کے اعمال و ارکان کو پورے شعور کے ساتھ اد اکیا جائے تو یہ مشکل بھی نہیں ہے۔اس سے حاجی کی بعد کی زندگی میں انقلاب آنا لازمی ہے لیکن ہماری دوسری عبادتوں کی طرح یہ عبادت بھی شجرِ بے ثمر بنی ہوئی ہے۔اسی لیے حاجی حضرات کی زندگی میں کوئی خاص تغیر یا انقلاب رونما نہیں ہوتا ہے(الا ما شاءاللہ)
 ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ دور میں حج کرنا بھی ایک رسم بن کر رہ گیا ہے جو عمر کے آخری حصے میں کیا جاتا ہے۔ جب دنیا کے سارے کام کر چکے ہوتے ہیںیا دوسرے لفظوں میں جب دنیا کے کاموں کو کرنے کے لائق نہیں رہتے اور ’ہر جگہ‘ سے ریٹائر ہو جاتے ہیںتب حج کرنے کا خیال آتا ہے کہ چلو اب کچھ نہیں بچا ہے ،اب حج کر کے سارے گناہ معاف کرا لیا جائے۔یہ سوچ غلط ہے۔جوانی کی عبادت، بڑھاپے کی عبادت کے برابر نہیں ہو سکتی۔پھر یہ بھی کہ سارے گناہ اس امید پر جانے بوجھے کرتے جائیں کہ عمر کے آخری حصہ میں حج کر کے پاک ہو جائیں گے لیکن اگر بیچ ہی میں رخصت ہو گئے اور توبہ کا موقع نہ مل سکا تو کیا ہوگا؟؟اس لیے بہتر ہے کہ بڑھاپے کا انتظار نہ کیا جائے۔
اگر حج کے اعمال و ارکان پر نظرڈالی جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ اللہ تعالی سے عشق و محبت اور اس کے لیے مجنونانہ اداں کا مجموعہ ہیں کفن سے مشابہ لباس، بکھرے ہوئے بال، گرد و غبار سے اٹا ہو اجسم، لبیک لبیک کی پکار ، کعبہ کے اردگرد پروانوں کی طرح طواف حاجی کی اسی حالِ بے حالی کو دیکھ کر اللہ تعالی اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں:
میرے دیوانوں کی مستی کا عالم تو دیکھو، میرے در پہ کس شان سے آتے ہیں کہ ، نہ بالوں کے بکھرنے کی خبر ہے، نہ جسم کی گردوغبار کا ہوش“۔
اگر حج اور اس کے اعمال و ارکان پر غور کیا جائے تو واضح طور پرہمارے سامنے چندمقاصد سامنے آئیں گے۔
حج کا مقصد
حاجی کا اپنے وطن، گھر اور اہل وعیال کو چھوڑ کر اللہ کے لیے نکلنا او رپھرکفن کا سا لباس پہن کر اپنے ظاہر و باطن سے کٹ کر لبیک لبیک پکارتے ہوئے الٰہِ واحد کی مطلق عبادت کا اعلان کرنا ، یہ اس بات کااعلان ہے کہ اس نے بھی حضرت ابراہیمؑ کی طرح اپنے بارے میں قولی و عملی طور پر فیصلہ کرلیاہے کہ:
قل ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین(الانعام(162,163:
آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنایہ سب خالص اللہ تعالی ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے “
 ورنہ اگر وہ ساتھ ہی یا علی مدد او ریا حسین کے نعرے بھی بلند کرتا رہے اور واپسی پر قبر یا مزار پر جاکر سر بھی ٹیکتا رہے تو پھر اس کا مطلب یہی ہوگا کہ اس نے حج کے مقصد کو پورا نہیں کیا۔
طواف کا مقصد
جب حاجی خانہ کعبہ کا طواف کرے گا تو اس کے سامنے یہ مقصد ہو گا کہ اس گھر والے کی محبت و اطاعت کو تمام دوسری چیزوں پر غالب آنا چاہیے اور اسی کے لیے اپنے اعمال و افکار کو ہمیشہ سرگرداں رکھنا چاہیے، کیونکہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بلا کسی دینوی مقصد ومنفعت کے اس کے دربا رمیںحاضر ہوا ہے اور ایک نہیں دو نہیں ، سات سات چکر لگا رہا ہے اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی و بخشش طلب کر رہا ہے۔
صفاومروہ کی سعی کا مقصد
اس کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ جب حضرت ابراہیمؑ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت حاجرہؓ اوربیٹے حضرت اسماعیل ؑ کوبے آب و گیاہ چٹیل میدان میں اللہ تعالی کے حکم سے لا چھوڑا تھا، تو ہاجرہؓ پانی کی تلاش میںصفاومروہ کے درمیان چکر لگا رہی تھیں۔ بظاہر اس عمل کا تعلق نہ تو عشقِ خداوندی سے ہے اور نہ ہی اس سے کوئی روحانی فائدہ متوقع ہے، لیکن یہ محض اس لیے کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی کا حکم ہے۔بندے کو اس سے مطلب نہیں کہ اس سے کیا فائدہ ہے؟ اس کو تو بس اس کے حکم کی اطاعت کرنی ہے ،خواہ اس کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔
اس سعی نے ہم سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اللہ کے دین کو رائج اور قائم کرنے کے لیے بڑا سے بڑا خطرہ مول لینے میں کبھی نہیں جھجکنا ہے، چاہے اس کے لیے بیوی بچوں سے جدائی یا بھوک پیاس براشت کرنا پڑے اور جان ومال کی قربانی دینی ہوتو بھی پس و پیش سے کام نہ لے جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے کیا تھا:
ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم۔ربنا لیقیمواالصلوٰة فاجعل افئدة من الناس تھوی الیھم وارزقھم من الثمرات لعلھم یشکرون(ابراہیم:(37
ائے ہمارے پروردگار! میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنااور انہیں کھانے کو پھل دے۔ شاید کہ یہ شکر گذار بنیں
اس کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر کامل یقین ہو کہ حاجات اور ضروریات کی ساری کنجیاں اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں، اس میں کوئی شریک نہیں اور نہ ہی وہ اسباب پر موقوف ہیں۔اس لیے ہم تیرے ہی سامنے ہاتھ پھیلائیں گے اور اسبابِ ظاہری میں یہ دم نہیں کہ تیری رحمت اور انعام کو روک سکے۔
 سنتِ ابراہیمی کامقصد
اس کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح سے ابراہیم ؑ ایک خواب کی بنیاد پر اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ تعالی کی راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہو گئے تھے، اسی طرح ہم بھی جب ضرورت ہو تو اللہ کی راہ میں اپنی جان ،مال اور اولاد کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔
اس طرح غور کیا جائے تو حج کے یہ چند اعمال و ارکان اپنے اندر کچھ ایسے مقاصد لیے ہوئے ہیں کہ اگر ان کو سمجھنے اور پورا کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو ہر سال ہماری آبادیوں میں اسلامی زندگی کے لاکھوں نمونے پیدا ہو جائیں، جن سے اسلامی انقلاب آنا ناممکن نہیں ہے۔

٭٭٭٭