Monday, 28 April 2014

(Are We Ready To Die?) کیا ہم مرنے کے لیے تیار ہیں؟

اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی
موت کے معنی کسی چیز کے پرسکون یا بنا حرکت والا ہو جانا وغیرہ کے آتے ہیں۔اسی لیے جب کوئی چیز پر سکون ہو جاتی ہے تو کہا جاتا ہے ’مات‘۔جیسے آگ جب بجھ جاتی ہے تو کہتے ہیں :
ماتت النار موتا برد رمادھم فلم یبق من الجمر شئی۔
آگ بجھ گئی اور انگارے میں سے کوئی چیز باقی نہ رہی۔
اس دنیا میں انسان ایک مسافر کی طرح ہوتا ہے جو کچھ دیر آرام کرنے کے لیے ایک جگہ ٹہرتا ہے اور پھر اپنی حقیقی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے ۔یہ عارضی زندگی اسے اس لیے عطا کی جاتی ہے کہ وہ اپنی دائمی زندگی یعنی آخرت کی تیاری کر لے۔جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
و من اراد الاٰخرة و سعیٰ لھا سعیھا و ھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکورا۔(بنی اسرائیل(19:
اور جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کی سعی اس کے لیے کرنی چاہیے،اور ہو وہ مومن ،تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔
آخرت کی تیاری میں تقویٰ کا اہم کردار ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے:
و الاٰخرة عند ربک للمتقین۔(الزخرف:(35
اور یہ آخرت تیرے رب کے وہاں صرف متقین کے لیے ہے۔
یہ دنیوی زندگی بڑی ہی مختصر ہے جو ہمیں آج بہت لمبی دکھائی دے رہی ہے لیکن جب حشر کے میدان میں کھڑے ہوں گے تو ایسا محسوس ہوگا کہ دنیامیں تو بس ایک دن یا آدھے دن رہے تھے۔قرآن اسی کو اپنے مخصوص انداز میں کہتا ہے:
 ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا الا ساعة من النھاریتعارفون بینھم۔(یونس:(45
اور جس روز اللہ ان کو اکٹھا کرے گاتو(یہی دنیا کی زندگی انہیں ایسی محسوس ہوگی)گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھیرے تھے۔
ایک اور جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا:
کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا الا عشیةاو ضحٰھا۔(النٰزعٰت:(46
جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ(دنیا میں یا حالتِ موت میں)یہ بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھیرے ہیں۔
 انسان دنیا میں رہنے کے لیے نہیں بلکہ واپس جانے کے لیے آتا ہے اور اس سے کسی کو نجات نہیں ہے ۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے:
این ما تکونوا یدرککم الموت و لو کنتم فی بروج مشیدة۔(النسا:(78
                    رہی موت،تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی،خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔
ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
قل ان الموت الذی تفرون منہ فانہ ملاقیکم(الجمعة:(08
ان سے کہو،جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:
کل نفس ذائقة الموت و انما توفون اجورکم یوم القیامة فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز و ما الحیاة الدنیا الا متاع الغرور۔(آل عمران:(185
آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔کام یاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے۔رہی یہ دنیا،تو یہ محض ایک ظاہر فریب کی چیز ہے۔
حتی کہ موت سے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نہ بچ سکے اور آپ سے بھی کہا گیا :
انک میت و انھم میتون(الزمر:(30
(اے نبی )تمہیں بھی مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے۔
اللہ تعالی نے ایک اور جگہ آپ کو مخاطب کر کے فرمایا:
وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افاءن مت فھم الخالدون۔(الانبیا(34:
 اور اے نبی ،ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے،اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟
 اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قدیم و جدید میں سے کسی کی بھی زندگی کو دوام حاصل نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے:
کل شئی ھالک الا وجھہ لہ الحکم و الیہ ترجعون۔(القصص:(88
 ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے۔فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔
قرآن کریم میں ایک اور جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:
کل من علیھا فان و یبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال و الاکرام۔(الرحمٰن(26-27:
              ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔
اسی طرح موت کا وقت بھی متعین ہے اور اس میں نہ تو تقدیم ہو گی اور نہ ہی تاخیر۔قرآن نے اسی کو کہا :
ان اجل اللہ اذا جآءلا یوخر لو کنتم تعلمون(نوح:(04
                    حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا،کاش تمہیں اس کا علم ہوتا۔
اسی طرح ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے:
و لکل امة اجل فاذا جاءاجلھم لا یستاخرون ساعة و لا یستقدمون(الاعراف:(34
ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے،پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم بھی نہیں ہوتی۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ انسان زندگی سے اکتا کرموت کی تمنا کرنے لگے جیسا کہ عورتیں مصیبت یا پریشانی میں اور مریض اپنی بیماری کرتا ہے لیکن اس سے منع کیا گیا ہے۔نبی نے فرمایا:
لا یتمنین احد منکم الموت لضر نزل بہ،فان کان لا بد متمنیا للموت،فلیقل:اللھم احینی ما کانت الحیاة خیرا لی،و توفنی اذا کانت الوفاة خیرا لی۔(بخاری:(6351
 تم میں سے کوئی شخص کسی پریشانی کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے، اگر وہ ایسا کرنا ہی چاہے تو یوں کہے :
  اے اللہ!مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے باعثِ خیر ہو اورمجھے موت دے دے جب موت میرے لیے بہتر ہو۔
آپ نے اس کی وجہ سے بتا دی اور فرمایا :
لا یتمنین احدکم الموت اما محسنا فلعلہ ان یزداد خیرا وامامسیئا فلعلہ ان یستعتب ۔ (سنن النسائی الصغری:(1805
 تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے۔کیوں کہ اگر وہ اچھا ہے تو ممکن ہے کہ وہ مزید خیر کا کام کرے اور اگر برا ہے تو ممکن ہے کہ توبہ کرے اور اللہ تعالی سے معافی مانگ لے۔
جب موت برحق ہے تو کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو اس کا جواب ہمیں نفی میں ملے گا ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہمارے سامنے موت کا تذکرہ بھی آجاتا ہے تو ہم گھبرا کر موضوع بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور موضوع نہیں ملا تھا؟ابھی تو ہم نے دنیا بھی نہیں دیکھی ہے۔ لیکن عقل مند انسان وہی ہوتا ہے جو اس کے لیے شروع سے ہی تیاری کرتا ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند صحابہ کرامؓ نے سوال کیا:
من اکیس الناس و احذر الناس ؟قال اکثرھم للموت ذکراً،واشدھم استعدادا للموت قبل نزول الموت ،اولئک ھم الاکیاس ،ذھبوا بشرف الدنیا و کرامة الآخرة۔(اتحاف الخیرة المھرة بزوائد المسانید العشرة:(7/10
انسانوں میں سب سے زیادہ عقل مند اور سمجھ دار کون ہے؟آپ نے فرمایا: جو کثرت سے موت کو یاد کرے۔ اورموت آنے سے قبل اس کی خوب تیاری میں لگا رہے،یہ ہیں عقل مند لوگ، جو دنیا کی شرافت اور آخرت کی عظمت لے گئے۔
جب کہ ہمارا معیار یہ ہے کہ جس کے پاس بہت مال و دولت ہو اور بڑی بڑی کمپنیوں اور فیکٹریوں کا مالک ہو یا بہت بینک بیلنس ہو تو وہی شخص اس دنیا میں عقل مند ہے۔
                  ہمیں اپنی زندگی کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔آپنے بھی اسی کی تعلیم دی ہے۔ایک جگہ آپ نے ارشاد فرمایا:
من فتح لہ باب من الخیر فلینتھزہ،فانہ لا یدری متیٰ یغلق عنہ۔(مسند شہاب:(435
 جس کے لیے خیر کا کوئی دروازہ کھول دیا جائے وہ اس کو غنیمت سمجھے،اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ یہ دروازہ کب بند کر دیا جائے گا۔
                    تو ہم سے کو جو موقع ملا ہوا ہے اس سے بھرپور فا ئدہ اٹھانا چاہیے۔ایک اور جگہ آپ نے فرمایا:
اغتنم خمساً قبل خمس:شبابک قبل ھرمک،و صحتک قبل سقمک،غناءک قبل فقرک،فراغک قبل شغلک و حیاتک قبل موتک۔(المستدرک علی الصحیحین:(4/302
پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔بیماری سے پہلے صحت کو،مشغولیت سے پہلے فرصت کو،تنگ دستی سے پہلے فراخی کو ،بڑھاپے سے پہلے جوانی کو اور موت سے پہلے زندگی کو۔
ویسے بھی مرنے کے بعد کوئی کسی کے کام نہیں آتا ہے۔بیٹا باپ کو قبر میں دفن کر تا ہے اور واپس ہو جاتا ہے کہ آگے آپ جانیں اور آپ کے اعمال۔بات کیا ہوئی؟جن کی خاطر آپ نے جھوٹ بولا،جن کی محبت میں آپ نے ناجائز طریقے سے مال کمایا،دوسروں کے حقوق ہڑپ کیے۔اس نے تو آپ کی کوئی مدد نہیں کی۔پھر مزید یہ کہ رفتہ رفتہ لوگ اسے بھول جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کا نام و تذکرہ بھی اس دنیا سے مٹ جاتا ہے۔
اس لیے ہمیں بذاتِ خودآخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔کیوں کہ موت تواپنے مقررہ وقت پر اچانک آ جائے گی۔ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی اعلان کرے گا کہ آج ہماری موت ہونے والی ہے اور ہم وضو کریں گے، نفل نماز پڑھیں گے اورتوبہ کریں گے پھر بڑی شان سے مر جائیں گے۔ایسا ممکن نہیں ہے۔
تیاری ایسے کہ آدمی سے جو کچھ گناہ ہو جاتے ہیں اس سے توبہ کرے۔اس میں سب سے اہم شرک ہے۔ اگر انسان کا عقیدہ ہی خراب ہے اور وہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک کر رہا ہو، خواہ وہ خواجہ کے ذریعہ ہو، قبروں اور مزارعوں پر چڑھاو ے یا یا علی اور یا حسین کے نعرے کی وجہ سے ہو تو اگر اس نے آخری وقت میں توبہ نہ کی تو اس کا شمار غیر مسلمانوں میں سے ہوگا۔چاہے وہ کتنا ہی پرہیز گار متقی ہی کیوں نہ ہو اور کتنا ہی نیک کام کیوں نہ کرتا ہو۔
اس میں دوسری اہم چیز انسان کا گناہوں پر اصرار کیے جانے سے بچنا ہے۔انسان جو کچھ زندگی میں کرتا رہا ہوگا موت کے وقت خود بخود اس کی زبان سے وہی نکلے گا۔اس لیے گناہوں سے اصرار پر بچنا چاہے۔علامہ ذہبی اپنی کتاب، کتاب الکبائر میں لکھتے ہیں کہ ہر میت کے سامنے اس کے ہم نشینوں کی تصویر آتی ہے جس کے ساتھ وہ بیٹھا کرتا تھا۔ ایک شطرنج کھیلنے والے کاآخری وقت آیا تو اس سے کہا گیا کہ لا الہ الااللہ کہو تو اس نے شاھک کہا اور مر گیا۔ (شاھک شطرنج کھیلتے وقت بولا جاتا ہے۔)ایک شرابی کا آخری وقت آیا تو اسے جب کلمہ توحید کی تلقین کی گئی تو اس نے کہا پیو اور پلاواور مر گیا۔(کتاب الکبائر،علامہ ذہبی:91)۔ان کے علاوہ بھی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ایسا بھی ہوا کہ بعض موت کے وقت گالیاں بک رہے تھے ۔اس میں ان نوجوانوں کے لیے عبرت ہے جن کی زبانوں پر ہر ایک جملے کے بعد گالیاں رکھی ہوئی ہیں۔
دیگر اہم چیزوں میں ضروری ہے کہ آدمی بندوں کے حقوق کو ادا کرے،اگر کسی کا حق دبایا ہے تو واپس کرے اور معافی مانگے ۔ہمارے یہاںلوگوں کومعافی مانگنا’ انا‘ کے خلاف لگتا ہے ۔خاص کر لڑکوں کا اپنے والدین سے یا شوہر کا اپنی بیوی سے معافی مانگنا مردانگی کے خلاف سمجھا جاتا ہے جو غلط ہے۔
اسی طرح لین دین کے معاملات کو صاف رکھے، وراثت کی تقسیم کا خاص خیال رکھے کیوں کہ اکثر بہنوں کو بعد میں بھائیوں کی طرف سے حصہ میں محروم کر دیا جاتا ہے ۔وراثت کی تقسیم کے لیے علماءکرام کی طرف رجوع کرے کہ میرے مرنے کے بعد کتنا کس کو دیا جائے گا۔ورنہ اس نے کتنی ہی نیکیاں کی ہوں اور پاک بازی کے ساتھ زندگی گزاری ہو ،لیکن اس کی وجہ سے اس کے سارے اعمال غارت ہو جائیں گے ۔جیسا کہ حدیث نبوی ہے :
ان الرجل لیعمل او المراة بطاعة اللہ ستّین سنة،ثم یحضرھما الموت فیضارّان فی الوصیة فتجب لھما النار۔(ابوداﺅد:(2867
ایک انسان مرد اور عورت ساٹھ سال تک اللہ تعالی کی اطاعت کے عمل کرتے رہتے ہیں پھرجب ان کی موت کا وقت آتا ہے تووصیت میں(وارثوں کو) نقصان پہنچا جاتے ہیں تو ان کے لیے آگ واجب ہو جاتی ہے
اسی طرح آدمی وصیت کی سنت پر عمل کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما حق امری مسلم یبیت لیلتین و لہ شئی یوصی فیہ الا ووصیة مکتوبة عندہ۔ (تر مذی : (943
کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ دوراتیں بھی اس طرح سے گزارے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کی وصیت کرنی چاہیے لیکن وہ وصیت کتابت کی صورت میں اس کے پاس موجود نہ ہو۔
یعنی جس شخص کے پاس امانت ہو یا اس کے ذمہ کوئی قرض ہو یا حقِ واجب ہو خواہ حقوق اللہ میں سے ہو یا حقوق العباد میں سے ہو،وارث کا حق ہو یا غیر وارث کاتو اس کے لیے وصیت کرنا واجب ہوگا لیکن اگر کسی کا حق اس کے ذمہ نہ ہو تواس کے لیے وصیت کرنا واجب نہیں۔
ایک بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے اگر کسی کو سنگین بیماری ہو اور اس کا آخری وقت ہو تو اس سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے کہ تم ٹھیک ہو جاوگے ۔ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ اب بچنے کی امید نہیں ہے لیکن مریض سے کہا جا رہا ہے کہ آپ اچھے ہو جائیں گے۔اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی حیات کے حوالے سے کش مکش کا شکار ہوجاتا ہے اور اسی میں اس کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔اسے اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا موقع بھی نہیں ملتا اور نہ ہی اپنے لین دین ، قرض اور دیگر معاملات کو حل کر پاتا ہے اور غفلت کی حالت میں ہی اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
دوسری غلطی لوگ یہ کرتے ہیں کہ مرنے والے کے آخری وقت میں اس کی توجہ بجائے کلمہ پڑھانے اور اس کی تلقین کرنے کے دوسرے باتوں میں لگانے کی کوشش کرتے ہیںجیسے کہ چھوٹے بچوں کو آگے بڑھا دیتے ہیں کہ آپ نے اس کو پہچانا؟یا کوئی پانی پلا رہا یا کوئی کچھ پوچھ رہا ہے۔اس طرح سے اس کو اتناتنگ کر دیا جاتا ہے کہ وہ یکسوئی سے کلمہ پڑھنا چاہتا ہے تو اس میں اس کی توجہ بھٹکتی ہے اور شیطان اس وقت اپنا پورا زور لگا رہا ہوتا ہے کہ کسی بھی طرح سے اس کو آخری وقت میں ایمان سے بھٹکا دے۔اس لیے ان سب باتوں سے اجتناب کرنا چاہیے اور مرنے والے کے سامنے کلمہ پڑھنا چاہیے کہ وہ سن کر پڑھ لے اور اس کی زبان سے آخری الفاظ کلمہ ہی ہوں۔
 بہت سے لوگ موت کے وقت بے ہوشی کا ٹیکہ لگادیتے ہیں اور یہ کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہے۔اس سے آدمی کلمہ پڑھنے سے محروم رہ جاتا ہے۔عموماًسکرت الموت یعنی موت کی شدت اور سختی سب کے لیے ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو محسوس کیا تھا۔جیسا کہ روایتوں میں آتا ہے :
عن عائشة انھا قالت رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ھو بالموت و عندہ قدح فیہ ماءو ھو یدخل یدہ فی القدح ثم یمسح وجھہ بالماءثم یقول اللھم اعنی علی غمرٰت الموت و سکرات الموت۔(ترمذی(967:
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب ہوا تو آپ کے پاس ایک پیالہ تھا جس میں پانی بھرا ہوا تھا۔ آپ اس میں ہاتھ ڈال کر پانی منہ پر ملتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے اللہ!موت کی بے ہوشیوں یا سختیوں پر میری مدد فرما۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی سختیاں دیکھیں تب سے میں کسی کی آسان موت پر رشک نہیں کرتی۔پہلے میری خواہش تھی کہ موت آسان ہو اور جاں کنی کی سختی نہ ہو کہ شاید بری علامت ہے لیکن جب میں نے یہ دیکھا کہ حضور کو بھی اتنی ہی سختی اور جان کنی میں مبتلا ہونا پڑا تو میں نے یہ سمجھ لیا کہ یہ کوئی بری علامت نہیں ہے کہ صر ف بدکردار ہی اس میں مبتلا ہوں بلکہ یہ چیز سب کے لیے عام ہے۔
٭٭٭٭

Saturday, 26 April 2014

(Tomat Ka Anjam) تہمت کا انجام

Osama Shoaib Alig
Research Scholar, Jamia Millia  Islamia
New-Delhi

مدینہ میں ایک حمام تھا۔جس میں مردہ عورتوں کو نہلایا جاتا تھا اور ان کی تجہیز وتدفین کی جاتی تھی۔ایک مرتبہ اس میں ایک خاتون جن کا انتقال ہو چکا تھا،نہلانے کے لیے لایا گیا۔اس کو غسل دیا جارہا تھاکہ ایک عورت نے اس مردہ خاتون کو بر ابھلا کہتے ہوئے اس کی کمر کے نیچے ایک تھپڑ مارا۔لیکن اس کا ہاتھ جہاں اس نے  مارا تھا وہیں چپک گیا۔عورتوں نے بہت کوشش اور تدابیر کی لیکن ہاتھ الگ نہ ہوسکا۔بات پورے شہر میں پھیل گئی۔مردہ کو دفن کرنا بھی ضروری تھا۔اس کے لواحقین بھی پریشان ہوگئے۔معاملہ شہر کے والی اور حاکم تک پہنچ گیا۔انہوں نے فقہاسے مشورہ کیا۔بعض نے رائے دی کہ اس زندہ عورت کا ہاتھ کاٹ کر الگ کیا جائے۔کچھ کی رائے یہ بنی کہ مردہ عورت کے جس حصہ سے اس زندہ خاتون کا ہاتھ چپکا ہے،اتنے حصہ کو کاٹ لیا جائے۔کچھ کا کہنا تھا کہ مردہ کی بے عزتی نہیں کی جاسکتی ہے۔ایک فقیہ کے سامنے پورا معاملہ پیش کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نہ تو زندہ عورت کا ہاتھ کاٹا جائے اورنہ ہی مردہ عورت کے جسم کا کوئی حصہ الگ کیا جائے۔میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ مردہ عورت پر اس زندہ خاتون نے جو الزام اور تہمت لگائی ہے وہ اس کا بدلہ اور قصاص طلب کر رہی ہے۔لہٰذا اس الزام لگانے والی عورت کو شرعی حد سے گزارا جائے۔چنانچہ شرعی حد جو تہمت لگانے کی ہے یعنی 80 کوڑے اسے مارنے شروع کیے گئے۔ایک دو،دس،بیس،پچاس،ساٹھ،ستر بلکہ اناسی(79) کوڑوں تک اس زندہ خاتون کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم کے نچلے حصہ سے چپکا رہا۔جیسے ہی آخری کوڑا مارا گیا۔اس کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم سے الگ ہوگیا۔(بحوالہ بستان المحدثین للشاہ عبدالعزیز دہلوی،ص25)

Friday, 25 April 2014

(Secularism Aor Milli Qaa-e--Deen) سیکولرزم اور ملّی قائدین

اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی
سیکولرزم قدیم لاطینی لفظ سیکولارس (Secularise)سے لیا گیا ہے۔جس کے معنی ’وقت کے اندر محدود‘ کے ہیں۔اس لفظ کو باقاعدہ ایک اصطلاح کی حیثیت سے 1846 میں جارج جیکب ہیولیوک (1906-1817) نے متعارف کرایا۔ اس سے مراد  'دنیاوی امورسے مذہبی تصورات کا اخراج اور ان کی بے دخلی‘ ہے۔یہودیوں نے اس اصطلاح کا اس طور سے ڈھنڈورا کیا کہ ساری دنیا میں جمہوریت کا ڈنکا بجنے لگا۔سوال یہ ہے کہ یہودیوں نے صرف سیکولرزم ہی کو کیوں اختیار کیا ؟اس کی وجہ یہ تھی کہ لامذہبیت (سیکولرزم ) ہی کے ذریعہ اہلِ مذاہب کو ان کے مذہب سے دور کیا جا سکتا تھا تا کہ ان پر تسلط جمایا جا سکے اور اس سے ایک ایسے نظامِ حکومت کی داغ بیل ڈالی جا سکے جن پر ان کا پورا کنٹرول ہو۔ یہ ایک آسان طریقہ تھا جس کویہودیوں نے انتہائی قلیل تعداد میں ہونے کی وجہ سے اختیار کیا ۔
آزادی کے بعد ہندوستان میں بھی جمہوری نظام ( سیکولرزم) کا نفاذ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کاروبارِ زندگی چلانے میں کسی بھی مذہبی رہنمائی سے آزاد ہو گی یا اس میں کسی مذہب کے احکام کی پاسداری نہیں کی جائے گی ۔ہر فرد کو اپنی ذاتی زندگی میں مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہوگی۔
حیرت اس بات پر ہے کہ مسلمان اپنے پسندیدہ مسلکی اختلافات کو تو چھوڑنے میں یکجہتی نہ دکھا سکے مگر اس کو تسلیم کرنے میں انھوں نے پوری یکجہتی دکھائی اور حد تو یہ ہے کہ جمہوریت کے تمام معاملات پر قرآن و حدیث سے رہنمائی کی جا رہی ہے لیکن مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ دین کو فرد کا پرائیوٹ معاملہ قرار دے کر مطمئن رہیں۔شریعت کی نظر میں زندگی کے کسی بھی گوشے میں اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت سے عمداً پہلو تہی کرنا یا اس کوکنارے کر دینا کفر کے مشابہ ہے اور ایسا کرنے والے خود اپنے ہاتھوں اپنی آخرت تباہ کر رہے ہیں۔جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
 ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ و ہو فی الآخرة من الخٰسرین) اٰلِ عمران:85)
جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے،اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں  ہوگا
 اگر بات جمہوری نظام کی ہو تو اسلام ایسے جمہوری نظام کا سرے سے قائل ہی نہیں جس میں اقتدار ِ اعلی اللہ تعالی کے بجائے اوروں کے ہاتھ میں ہو۔اللہ تعالی فرماتا ہے:
ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ و لو کرہ المشرکون )التوبہ:33)
اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر د۔
آزادی کے بعد ملی قائدین اور سیاسی رہنماں نے بھی قرآنی احکام سے قطعِ نظر کرکے جمہوریت کا راگ الاپنا شروع کردیا۔لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں کی سیاست شروع سے ہی بے یقینی اور بے سمتی کا شکار رہی ہے ۔مسلمان جس بے سمتی میں آج سے 65 سال پہلے تھے کم و بیش آج بھی وہیں پرہیں۔اس دوران اگرچہ سیاسی میدان میں وہ آگے بڑھے مگر کوئی واضح مقصد نہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی دائرے میں گھومتے ہوئے آغازِ نقطہ ہی پر پہنچتے رہے ۔
تقسیمِ ہند کے بعد مسلمانوں کے پاس تین راستے تھے۔اول یہ کہ متحدہ قومی تصور کے ساتھ ملک کی سیاست میں حصہ لیتے ۔دوم یہ کہ متحدہ قومیت کو تسلیم کرنے کے بجائے کتاب و سنت کے مطابق ایک نیا لائحہ عمل تیار کرتے ۔سوم یہ کہ صورتِ حال کے یکسر تبدیل ہو جانے کی وجہ سے ایک نیا رویہ اختیار کرتے ۔مگر مذہبی قائدین ہوں یا دینی جماعتیں شاید ہی کسی کے ذہن میں یہ تصویر صاف ہو کہ امت کو آخر اب کس رخ پر لے جانا ہے؟ مسلمانوں سے کہا گیا کہ ان کو اپنے علماءکرام کی بس پیروی کرنی ہے۔ اس طرح سے قرآن و سنت کے مقابلے میں علماءکرام کی رائے کو ترجیح دی جانے لگی اور اس کے ساتھ ہی اہم مسائل پر قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کا دروازہ بند ہو گیا ۔ جب مسلمانوں نے مختلف مسائل کے حل کے لیے علماءکرام کی طرف نظرپھیری تو ان ’معصوم‘ علماءکرام میں آپسی اختلافات اور متضاد فیصلے دکھائی دیئے چنانچہ ان لوگوں نے بددل ہو کرخود کو حالات کے دھارے پر بہنے دیا ۔
شروع سے ہی ان علماءکرام اور قائدین ملت (الا ما شاءاللہ)نے یہ راگ الاپا کہ مسلمان اس ملک میں اپنی بقا اور تحفظ کی فکر کریں، اختلافات کو مٹائیں اور آپس میں بھائی چارہ پیدا کریں اور اجتماعی قوتوں کا استعمال کر کے’صحیح نظام‘پر گامزن رہیں۔اب کوئی ان سے پوچھے کہ اسلامی نظام کے ہوتے ہوئے آخر وہ کون سا’صحیح نظام‘ہے جس کی اتنی تلقین کی جا رہی ہے؟؟ آخرکار سب نے مل کر ایسی’تحفظی مہم ‘چلائی کہ عام ذہن سے یہ بھی محو ہو گیا کہ اس امتِ رسول پر تحفظ کا نہیں بلکہ دنیا کی رہ نمائی کا فریضہ عائد کیا گیا ہے۔تحفظ بذاتِ خود ایک مدافعانہ رویہ ہے اور مدافعت سے قیادت یا رہنمائی کا کام نہیں لیا جا سکتا ہے نہ اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ کسی چیز کا مکمل طور سے تحفظ کر سکے۔
قدرت کا اصول ہے کہ کوئی بھی چیز ایک حالت میں زیادہ دیر تک باقی نہیں رہ سکتی۔یا تو وہ ترقی کرے گی یا وہ زوال پذیر ہو جائے گی۔ یہی حال قوم اور امت کا ہوا کرتا ہے۔اگر کوئی قوم آگے کا سفر چھوڑ کر موجودہ پوزیشن پر برقرار رہنا چاہے تو عملاً یہ ہوگا کہ ہر آنے والا دن اس کی تخلیقی صلاحیت کو خشک کرتا جائے گا اور وہ دوسری قوموں سے بچھڑتی چلی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اس امت نے تحفظ کی جان توڑ کوشش کے باوجود رفتہ رفتہ اپنا قیمتی سرمایہ کھو دیا ہے اور مزید کھوتی چلی جا رہی ہے۔
اس سرمایہ میں ہماری تاریخ ،تہذیب وتمدن ،سیاسی،سماجی اور معاشرتی نظامِ زندگی کے ساتھ ساتھ ہمارے افکار و نظریات بھی شامل ہیں۔اسی وجہ سے ہم نے ایک ہاتھ آگے بڑھ کر انبیائی خواب کو خیرآباد کہہ کر غیر اسلامی خواب کو تعمیری شکل دینا شروع کر دیا ہے۔چنانچہ اب تقریبا ہماری محترم شخصیات علی الاعلان سیکولر اور جمہوری نظام کو مکمل طور سے فعال بنانا چاہتی ہیں کہ مسلمان اس نظام کی برکتوں سے محروم نہ ہونے پائیں۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے مختلف مسلم سیاسی پارٹیاں وجود میں آئیں، جن کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے ۔سبلو گ اپنی اپنی دوکانیں سجائے عام مسلمانوں کو اپنی طرف لبھانے میں لگے ہوئے ہیں ۔مسلمان بے چارہ جذباتی ٹہرا، جائے تو کدھر جائے ؟ان لوگوں کے زبانی دعوے تو آسمان کو چھو رہے ہیں مگر عملی طور پر زمین پر چاروں خانے چت نظر آتے ہیں۔
مسلم سیاسی پارٹیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انھیں نہ تو مقصد کا پتہ ہے اور نہ ہی منزل کا ۔ پرانی نسل میں کم از کم اس بات کا احساس تھا کہ وہ بنیادی طور پر مسلمان ہیں اور کسی اسلامی سرمایے کو ضائع ہونے دینا کسی لحاظ سے صحیح نہیں ہے مگر موجودہ نسل کا صرف یہ مقصد ہے کہ اپنے ہم وطنوں کی طرح اس میدان میں بھی اپنی صلاحیت کا استعمال کر لیا جائے ۔اس لیے یہ لوگ صرف اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہیں البتہ اگر اس سے کہیں امت کا بھی بھلا ہو جائے تو کوئی اعتراض نہیں ۔آخر سیاست تو بہرحال ’مسلم ٹھپہ‘سے ہی کرنی ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے سیکولر آڈر کے قیام کو اپنا مقصد بنا لیا ہے اور ہر وقت حکومت سے اپنی التجا اور فریاد کے ذریعہ سیکولرزم اور جمہوریت کے تقدس کی دہائی دیتے رہتے ہیں۔ جو لوگ حکومت سے براہِ راست مستفید ہو رہے ہیں ،ان بے چاروں کوبھی بار بار دستور ،جمہوریت اور ملک کے تئیں اپنی وفاداری کا اعلان کرنا پڑتا ہے اور اگر ترنگ میں آکر کبھی غلطی سے بھی مسلمانوں کے حق میں منہ سے کچھ نکل گیا اور ’اوپر ‘سے پھٹکار پڑ گئی تو فورااپنا قبلہ تبدیل کر لیا جاتا ہے اورایک غلطی کی ہزاروں’سجدہ سہو‘سے تلافی کی جانے لگتی ہے۔
 اس نظام کا اتنا سخت دبا ہے کہ صحیح مسلم شناخت کے ساتھ اس نظام میں کوئی جگہ نہیں بنائی جا سکتی ہے ۔اسی وجہ سے ملی قائدین و علماءکرام جب جب مسلمانوں کا مقدمہ لے کر مختلف وزرائے اعظم کے پاس گئے تو ان کی گفتگو میں فدویانہ ،ملتجیانہ اور خوشامدانہ لب و لہجہ غالب رہا ۔ایساکیوں ہوتا ہے اس لیے کہ ہم میں جرات کی کمی ہے اوربزدلی ہماری شناخت بن چکی ہے۔آزادی کے بعد سے ہمارے اندر چیلنج قبول کرنے کا جذبہ ر وزبروز ختم ہوتا جا رہا ہے۔کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے خود کو خطرے میں ڈالنے کی نہ تو عادت ہے اور نہ اس کو پسند کرتے ہیں ۔محض مطالبات اور خوشامدوں سے سارے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
اگر ہمارے ملی قائدین ،علماءاوردانشوران پر نظر ڈالی جائے تو بمشکل ہی چند ایسے افراد ملیں گے جنھوں نے امت کے لیے مصیبتیں جھیلی ہوں بلکہ اب تو سب سے معتبر وہ قائد ہے جسے اسلام کی راہ میں کوئی خراش بھی نہ آئی ہو۔ان میں سے اکثر علماءکرام نے تو خود کو مدارس اور مساجد اور تنظیموں تک محدود کر رکھا ہے ۔وہ نماز ، روزہ ،زکوة ،حج یا زیادہ سے زیادہ نکاح اور طلاق کے معاملات میں شرعی رہنمائی کرتے ہیں اور معاشی،تعلیمی اور سیاسی میدانوں میں خود کو شریعت سے باہر تصور کرتے ہیں ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عام مسلمان مسجد کے اندر تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور مسجد سے باہر نکلتے ہی خود کو کفریہ نظام کے حوالے کر دیتے ہیں اور کیوں نہ کریں؟جب نظام ِ کفر کے اندر رہ کر اسلامی زندگی کا کاروبار آسانی سے چل رہاہو ۔ جب کسی مہم جوئی کے بغیرجنت کا حصول ممکن ہو۔جب شخصی مغفرت کے لیے اس نظام میں رہ کر خوشی خوشی دونوں ہاتھوں ثواب کا ڈھیرحاصل کیا جا سکتا ہو ۔ جب کئی سارے’ امیر الہند‘ الگ الگ امت کی نگہبانی کر رہے ہوں تو کسی کو کیا پڑی ہے کہ ا س فکر میں گھلے کہ اللہ اور اس کے رسول کی شریعت مغلوب ہے اور جگہ جگہ اس کی پامالی ہو رہی ہے تووہ اس کو غالب کرنے کے لیے کوئی مشکل ترین اور لمبا راستہ اختیار کرے اور جان و مال کی قربانی دے ۔خاص کر جان کی ،مال کی تو آج کے دور میں باآسانی دی جا سکتی ہے۔
مسلم قائدین کی اس سیاست کا مقصد کیا ہے؟اگر صرف یہ مقصد ہے کہ مسلمانوں کے لیے کچھ تحفظات حاصل کر لیے جائیں اور غیر مسلم آقاں سے زندگی جینے کی کچھ زیادہ مراعات لے لی جائیں یا ووٹوں کے عوض ان سے اپنی جان ومال کے تحفظ کا سودا کر لیا جائے یایہ کہ ہم ملک کے تئیں وفادار ہیں اور ہم نے آزادی کی جنگ میں ملک کے لیے خدمات انجا م دیں ،اس لیے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیں بھی جینے کا حق دیا جائے ،یا ہم پر وطن سے بے وفائی کا جو الزام ہے اور ہم نے ماضی میں علیحدہ شناخت یاقومیت کا جو مطالبہ کیا تھا اس کو دھویا جا سکے تو اس کے لیے الگ سے سیاسی پارٹی بنانے کی ضرورت نہیں ،اسے تومختلف سیاسی پارٹیوں کی خوشنودی کے ذریعہ زیادہ آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اسی وجہ سے باوجود اس کے کہ ہندوستان میں مسلم سیاسی پارٹیاں بارش کی طرح برس رہی ہیں اور یکے بعد دیگرے وجود میں آتی جا رہی ہیں لیکن اب تک مسلمانوں کی کوئی بھی پارٹی ایک طاقتور متبادل کی حیثیت سے ہندوستان میں منظرِ عام پر نہیں آسکی ہے۔اگر مقصد موجودہ نظام کو ہٹا کر اس کی جگہ کوئی نیا نظام ِحق قائم کرنا نہیں ہے تو آخر اس ساری دوڑ دھوپ ،وعظ و نصیحت ،کانفرنس،جلسے جلوس کی ضرورت کیا ہے؟؟اگر یہ سب جان و مال کے تحفظ،چند مراعات حاصل کرنے ہی کے لیے تھا تو اس کے لیے آزادی کی جنگ لڑنے اور اس میں لاکھوںخواتین کی عصمت دری اور بے انتہا جانی و مالی قربانیوں کی کیا ضرورت تھی؟یہ مقصد تو انگریزوں کے دور میں حاصل ہو رہا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی بھی مسلم سیاسی پارٹی ایسی نہیں ہے جو کسی اسلامی سیاسی ایجنڈاپیش کرتی ۔جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں سب کا مقصد یہی ہے کہ کسی خاص غیر مسلم سیاسی پارٹی کو ہٹا کر دوسری غیر مسلم پارٹی کو اقتدار بخش دیا جائے۔مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود جانتے بوجھتے اقتدار غیر مسلم حکمرانوں کی تحویل میں دے دیتے ہیں ۔جب کہ قرآن واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ کفار مسلمانوں کے امور کے نگراں نہیں متعین کیے جا سکتے ہیں ۔قرآن کریم میں ہے:
 ولن یجعل اللہ للکافرین علی المومنین سبیلا(النسا:141)
اللہ تعالی نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی امت سے با حوصلہ لوگوں کی نسل ختم ہو جائے ، سخت حالات میں اللہ کے کلمے کو بلند کرنے والے نہ ہوں اور معمولی فوائد کے لیے دین و ایمان بیچنا عام ہو جائے اور قائدین خطرات سے کھیلنا چھوڑ کر’بے ضرر میٹنگیں‘کر کے امت کی قیادت کرنے کی کوشش کریں تو امت کے زوال کے بڑھتے قدم کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔
usama9911@gmail.com

      


Tuesday, 22 April 2014

(Juma Ke Taqaze Aor Hamara Tarz-e-Amal) جمعہ کے تقاضے اور ہمارا طرز عمل

Osama Shoaib Alig
Research Scholar,Jamia Millia Islamia
New-Delhi

اسلامی تقویم میں ہفتے کا ساتواں اور آخری دن جمعہ ہے جسے زمانہ قبل اسلام میں” یوم العروبہ“ کہا جاتا تھا ۔مگر جب اسلام آیا تو اس کا نام” یوم الجمعہ“ رکھا گیا کیوں کہ اس دن مسلمان مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں۔جمعہ ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کا شعارِملت ہے جس طرح سنیچر اور اتواریہودیوں اور عیسائیوں کےلیے شعارِملت ہے۔اس لیے جہاں یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے یوم تعطیل سنیچر اور اتوار ہے وہیں مسلمانوں میں یوم تعطیل جمعہ کا دن ہے۔مگر افسوس اس بات کا ہے کہ مغرب سے مرعوبیت اور اسلامی جس کے خاتمہ سے رفتہ رفتہ مسلمانوں نے بھی اندھی تقلیدمیں اتوار کو یوم تعطیل بنا لیا ہے۔خود ”اسلامی ممالک“میں بھی یوم تعطیل اتوار قرار پایا ہے۔ چاہے وہ بر صغیر کا اسلامی ملک پاکستان ہو یا مصطفی کمال پاشا کا ملک ترکی۔
خود ہمارے ملک میں بھی 'امت مسلمہ' پر فخر کرنے والوں نے نام نہاد مدرسوں کالجوں یونیورسٹیوں میں بھی'مصلحت 'کا لبادہ اوڑھ کے اس میں اندھی تقلید کی ہے۔ الا ما شاءاللہ۔جب کہ تقسیم ہند سے پہلے برطانوی ِہند اور مسلم ر یاستوں کا ایک نمایاں فرق یہ تھا کہ ملک کے ایک حصے میں اتوا ر تودوسرے حصے میں جمعہ یوم تعطیل ہوا کرتا تھا۔
 جمعہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم میں ایک پوری سورة 'سورة الجمعہ'کے نام سے موجود ہےاور اس بات سے بھی اس دن کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کہ اسی دن اللہ تعالی نے حضرت آدم کی تخلیق فرمائی اور اسی دن ان کا حوا سے ملاپ اور اجتماع ہواجیساکہ آپﷺ نے فرمایا:
 بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے وہ جمعہ کادن ہے۔اسی دن حضرت آدمؑ پیدا کیے گئے اور اسی دن جنت میں داخل کیے گئے، اسی دن جنت سے نکالے گئے، اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی،اسی دن ان کی وفات ہوئی۔ اسی دن قیامت برپا ہوگی اورکوئی جاندار ایسا نہیں جو اس دن قیامت کے ڈرسے صبح سے لےکر آفتاب نکلنے تک کان نہ لگائے رکھتا ہو بجز جنوں اور انسانوں کے اور اسی دن ایک گھڑی وہ بھی آتی ہے کہ نماز کی حالت میں اگر کوئی مسلمان بندہ اللہ سے کچھ طلب کرے تو وہ اس کو ضرور دیتا ہے۔( ابوداد)۔
جمعہ کا فرض ہونا اس لیے کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
یا ایھا الذین آمنوا اِذا نودی للصلوة من یوم الجمعتہ فاسعوا اِلی ذکراللہ ﴿الجمعہ:08)
ائے وہ لوگوجو ایمان لائے ہو!جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو۔
 یہاں پر 'فاسعوا' کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آبلکہ یہ کہ اذان کے فورابعد آجا اور کاروبار بند کر دو۔کیوں کہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے۔وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔
جمعہ آپﷺ کی ہجرت سے پہلے ہی فرض ہو چکا تھا مگر چونکہ مکہ میں حالات اس کے لیے مناسب نہیں تھے تو  وہاں  جمعہ کی نماز نہیں ہوئی۔پھر آپﷺ نے ہجرت کے دوران ہی سب سے پہلے بنو سالم بن عوف کی بستی میں جمعہ کی نمازادا کی اور مدینہ پہنچتے ہی پانچویں دن جمعہ قائم کر دیا تھا۔
جمعہ کی فرضیت کےلیے کچھ شرطیں بھی ہیں جو  درج ذیل ہیں ۔
1:مسلمان 2:عاقل 3:بالغ 4:ذکوریت 5:حریت 6:قدرت 7:اقامت 8:قریہ
آپﷺ کے عہد مبارک اور ابوبکرؓ و عمرؓ کے عہد میں جمعہ کے دن پہلی اذان اس وقت کہی جاتی تھی جب امام منبر پربیٹھ جاتا تھا مگر جب حضرت عثمانؓ کے دور میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو آپ نے ایک اذان کا اضافہ کیا۔ قرآن کریم میں سورة جمعہ کی آٹھویں آیت میں جس اذان کا ذکر ہے اس سے مراد امام کا منمبر پر بیٹھ جانے کے بعد دی جانے والی اذان ہے۔ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت خریدو فروخت حرام ہے اور حضرت عطاؓ کا قول ہے کہ اس وقت تمام کام حرام ہیں۔مگر افسوس ہم لوگ کا حال یہ ہے کہ اذان ہوتی رہتی ہے اور سارا'کاروبار' اورسارے'ضروری کام'ہوتے رہتے ہیں۔جلدی جلدی سارے کام نپٹاتے رہتے ہیں اور نماز کھڑی ہونے سے 10 منٹ پہلے مسجد پہنچ جاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ فرماتے ہیں 'ارے ابھی تو خطبہ ہو رہا ہو گاکیا جلدی ہے'؟۔افسوس بھی نہیں ہوتا کہ حرام کام اس دوران انجام دیا ہے۔جب کہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ فرماتے ہیں:
جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور رجسٹر میں آنے والوں کا نام ترتیب وار لکھتے جاتے ہیں۔پہلاآنے والا شخص اس شخص کی طرح ہے جو اونٹ کی قربانی کرے،دوسرا آنے والا اس شخص کی طرح جو گائے کی،تیسرا آنے والا اس شخص کی طرح جو دنبہ کی،چوتھا اس شخص کی طرح جو مرغی کی اور پانچواں اس شخص کی طرح جو انڈے کی قربانی کرے اور جب امام خطبے کے لیے جاتا ہے تووہ اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں اور خطبہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔(بخاری و مسلم)
اس حدیث کی رو سے دیکھا جائے تو بعد میں آنے والے لوگ رجسٹر میں اپنا نام درج کرانے سے محروم رہ جاتے ہیں جس کی ہمیں کل قیامت کے دن سخت ضرورت ہوگی مگر ہم لوگوں کو آج نہ تو اس کا احساس ہے اور نہ ہی افسوس سوائے چندے معدودے کے۔ہم لوگ دنیاوی چیزوں کے لیے نہ صرف پہلے پہنچتے ہیں بلکہ اس کے لیے لائن لگاتے ہیں اور اس میں بھی دھکا مکی کرکے سامنے والے کو پیچھے ڈھکیل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کی مثالیں ہم سینما ہال،ریلوے اسٹیشن اور یونیورسٹی وغیرہ میں ٹکٹ اور فارم وغیرہ لیتے وقت بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ شیطان ہمارا ازلی دشمن ہے اور وہ کبھی نہیں چاہتا کہ لوگ جمعہ کے لیے  وقت پر مسجد پہنچ پائیں چنانچہ وہ مسلسل لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے اور یہ بات حدیث سے بھی ثابت ہے ۔
حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کو فرماتے سنا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے لشکر لے کر بازاروں میں نکل جاتے ہیں اور لوگوں کو کاموں میں لگا کر جمعہ میں شرکت کرنے سے روک دیتے ہیں۔ فرشتے صبح سے ہی آکر مسجد کے دروازوں پربیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے متعلق لکھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ امام خطبہ کےلیے نکلتا ہے پھر جو آدمی ایسی جگہ بیٹھتا ہے جہاں سے امام کو دیکھ اور سن سکے اور دورانِ خطبہ خاموشی اختیار کرے اور کوئی بیہودہ بات نہ کرے تو اس کو اجر کےدوحصے ملتے ہیں۔اور اگر ایسی جگہ بیٹھا جہاں سے وہ خطبہ سن اور دیکھ سکتا ہے مگر وہ لغو کام کرتا ہے،خاموشی اختیار نہیں کرتا ہے تو اس پر گناہ کا ایک بوجھ لاد دیا جاتا ہے اور جس نے خطبے کے دوران اپنے ساتھی سے کہا کہ چپ رہ تو اس نے بھی لغو کام کیا اور جس نے لغو کام کیا تو اسے جمعہ کا کچھ بھی ثواب نہ ملے گا۔   ( ابوداد)
جمعہ کا ثواب اتنا زیادہ ہے کہ اگر ہم صحیح معنوں میں اس کو جان لیں تو انشاءاللہ شیطان کا کوئی حربہ ہم پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔بس ہمیں اس کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ایک خاص بات ہم مسلمانوں میں خصوصا نوجوان طبقہ میں رواج پا رہی ہے کہ خطبوں میں لیٹ آتے ہیں اور پھرخطبہ کے دوران حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور باتیں شروع ہو جاتی ہیں اورغیبتیں،چغلیاں اور برائیاں ہوتی رہتی ہیں بلکہ اب تو موبائل میں 'گیم'اور 'چَیٹنگ'کی جاتی ہے۔جیسے خطبہ سننے نہیں بلکہ 'ٹائم'پاس کرنے آئے ہیں اور کچھ لوگ نیند کے مزے لیتے ہیں  جب کہ خطبہ کے دوران اس طرح کی تمام حرکتیں ممنوع ہیں۔جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے:
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ فرماتے ہیں کہ جمعہ میں تین طرح کے لوگ آتے ہیں ۔ایک تو وہ جو وہاں آکر بیہودہ بات کرے تو اس کا حصہ یہی ہے یعنی اس کو کچھ نہ ثواب ملے گا۔دوسرا وہ ہے جو وہاں آکر اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے اگر اللہ چاہے گا تو دعا قبول کرے گا اور نہیں چاہے گاتو نہیں۔اورتیسرا وہ ہے جو وہاں آکر خاموش سے بیٹھ جائے ،نہ لوگوں کی گردن پھاند کر آگے بڑھے اور نہ ہی کسی کو تکلیف پہنچائے تو اس کا یہ عمل اس جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک بلکہ مزید تین دن تک گناہ کے لیے کفارہ بن جائے گا۔    ( ابوداد)
اس حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنے اپنے عمل کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہمارا شمار کس طرح کے لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس میں جہاں عوام کی غلطی ہے وہیں ہمارے 'علمائے کرام' یا 'مولوی حضرات'کی بھی کمی ہے کہ عموما خطبے کی 'رسم' پوری کرتے ہیں اور خطبہ عربی زبان میں دیتے ہیں۔چونکہ اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہوتی ہے تو عام طور سے نوجوان طبقہ یا تو ’باتوں‘میں یا’موبائل‘میں مشغول ہو جاتا ہے اور بوڑھے لوگوں کو نیند آنے لگتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردومیں بھی خطبہ دیا جائے اور علمائے کرام ،مولوی حضرات اپنے اس'اسٹیٹس ' یا'خول' سے باہرنکلیں جس میں عموما'مصلحت،دوراندیشی اوررواداری'کا غلاف چڑھا ہوا کرتا ہے (الاما شاءاللہ)اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں اور نئے نئے درپیش مسائل کو خطبوں کا موضوع بنائیں۔
اگر ہم نے حتی الامکان جمعہ کی نماز کے لیے ا حادیث پر پورا پورا عمل کرنے کی کوشش کی تو ہمیں اس کا کتنا زیادہ اجر ملے گا اس کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے:
 آپﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور جس قدر ممکن ہو پاکیزگی حاصل کرتا ہے ،بقدر استطاعت تیل خوشبو لگاتا ہے اور پھر نماز کےلیے اس طرح سے نکلے کہ دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے اور جتنا اس کے مقدر میں ہو نماز پڑھے اور جب امام خطبہ پڑھے تو خاموش رہے تو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔مزید روایت میں ہے کہ ساتھ ساتھ تین دن کے اور گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اور جو آدمی کنکریوں کو چھوئے تو اس نے لغو کام کیا۔(مسلم و ابوداد)
سبحان اللہ !اتنے سے عمل سے اتنی زیادہ معافی کیا ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے؟؟ تصور کیجیے آخرت میں حساب کتاب کے دن جب ہمیں نیکیوں کی کمی پڑ رہی ہوگی تب ہمارا کیا حال ہوگا؟؟آج ہمیں موقع ملا ہوا ہے مگر ہم میں سے اکثر کا حال یہ ہے کہ مسجدمیں خطبہ شروع ہونے کے بعد آتے ہیں اور فرشتوں کے رجسٹر میں نام لکھانے سے محروم رہ جاتے ہیں اور مزید یہ کہ بعد میں آنے کے باوجود گردنوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے منع کیا گیا ہے۔جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے:
حضرت معاذ بن انسؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا!جس نے جمعہ کے روزلوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم تک ایک پل بنا لیا۔
ہماری امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ جمعہ کی نماز سے ہی غافل ہے۔ان میں سے ایک قسم ایسی ہے جو عیدَین ہی کو کُل نماز سمجھتی ہے اوردوسری قسم وہ ہے جو اس کے لیے خود کو'مجبور'پاتی ہےاو ربقول ان لوگوں کے ”مجبوری“یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ ایسی 'کمپنیوں'میں کام کرتے ہیں جہاں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے چھٹی نہیں دی جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس میں ہماری ہی کمی ہے۔اس کو ہم اپنے لیے'رخصت'مان کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور اس کے لیے نہ تو ہم کمپنی کے سامنے احتجاج کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی مطالبہ کرتے ہیں البتہ اگر ہماری'تنخواہ' یا کسی سہولت میں کوئی کمی آجائے تو سراپا احتجاج بن جاتے ہیں۔سردار قوم کی مثال ہمارے سامنے ہے۔فوج کا قانون انہوں نے اپنے تبدیل کرا لیا کیوں کہ ان کے مذہب میں بال کاٹنا صحیح نہیں ہےاور ہم لوگ ہر جگہ'حیلے ،مصلحت ،دوراندیشی اور رواداری' کی چادر اوڑھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ جب کہ ترکِ جمعہ پر سخت وعید ہے ۔حدیث ِنبوی ہے:
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہےکہ آپﷺ نے فرمایا کہ لوگ جمعہ کی نماز چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔( مسلم)۔
ایک اورجگہ آپﷺ نے فرمایا !تارکِ جمعہ کی نہ نماز ہے نہ زکوة نہ روزہ اور نہ ہی حج اور نہ ہی اس کے لیے کوئی برکت ہے یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے۔
ان دونوں حدیثوں سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ترکِ جمعہ کتنا بڑا گناہ ہے اور اس کا کیا انجام ہوگا۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو جمعہ کی اہمیت کو سمجھنے اور قرآن و حدیث کے مطابق جمعہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
usama9911@gmail.com