Tuesday, 8 July 2014

(Fast: In The Light Of Fiqh And Scientific Theory) روزہ:فقہی اور سائنسی نظریہ سے

اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پر قائم ہے ۔ان میں سے ایک روزہ ہے ۔اس میں انسان کو مخصوص وقت تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے دور رہنا ہے جو کہ نفسِ انسانی کے لیے شاق ہے ۔ اسی وجہ سے حکمت الٰہی نے چاہا کہ انسان پر پہلے ہلکی تکالیف عائد کی جائیں تاکہ وہ اس کا عادی ہو سکے چناں چہ اس کو چوتھے نمبر پر رکھاگیا۔
روزے کی فرضیت
روزے کی فرضیت کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
 یا ایھاالذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون۔ایاما معدودات فمن کان منکم مریضااو علی سفر فعدةمن ایام اخر وعلی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین (البقرة:183,184)
ائے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ،جس طرح تم سے پہلے انبیاءکے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے۔اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی۔ چند مقرر ہ دنوں کے روزے ہیں۔اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو،یا سفر میںہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے“۔
 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ ہر مسلمان ،عاقل اور بالغ پر فرض ہے الاّیہ کہ اسے کوئی شرعی عذر ہوتو وہ قضا کر سکتا ہے یا فدیہ دے سکتا ہے۔ لیکن اس کی فرضیت کا منکر کافر، بلا عذر ترک کرنے والا فاسق اورگناہ گار ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اتنی سخت بات کے باوجود بعض مسلمان روزہ نہیں رکھتے ہیں۔
قرآن کریم میں ایک اور جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:
شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینٰت من الھدی و الفرقان فمن شھد منکم الشھرفلیصمہ۔(البقرة :185)
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جوانسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینہ کو پائے ،اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزہ رکھے“۔
ہر سال کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کا مہینہ رحمت و مغفرت اور نیکیوں کا پیغا م لے کر ہمارے درمیان موجود ہے۔بڑے خوش قسمت اور قابل مبارک باد وہ لوگ ہیں جو اس مہینہ میںاپنے پچھلے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں اور اللہ تعالی کی بندگی و اطاعت اس طرح سے کرتے ہیں گویایہ ان کا آخری رمضان ہے۔
روزہ کا مقصد
روزہ کا بنیادی مقصد انسان کے اندر تقوی پیدا کرنا ہے۔ اس سے لوگوں میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ، بندوں کے حقوق کی ادائیگی ، زیادہ سے زیادہ نیکی کمانے اور برائیوں سے بچنے اور جسمانی اعضاءکو گناہوں سے بچانے، خاص کرنئی نسل کے لیے فلمیں دیکھنے، میچ دیکھنے، انٹرنیٹ اور موبائل پر فیس بک یا چیٹنگ کے ذریعے’ٹائم پاس‘ کرنے سے اجتناب کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہو رہا ہے تو روزہ عبادت نہیں بلکہ بھوک اور پیاس کی لاحاصل مشقت ہے۔
حدیثِ نبوی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
کتنے ہی روزہ دار ہیں جن کو اپنے روزے سے سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتااورکتنے ہی (رمضان ) تراویح پڑھنے والے ہیں جن کو اپنی تراویح میں سوائے رات جاگنے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا۔(ابن ماجہ:1690)
اسی ضمن میں ایک خاص بات یہ ہے کہ ایسا جذبہ ا س وقت پیدا ہوتا ہے جب غذا میں کمی کی جائے ۔نفسانی خواہشات کا بھی زو راسی وقت زیادہ ہوتا ہے جب انسان کا پیٹ بھرا ہو۔ عموما ہم لوگ ایک وقت کا کھانا کیا چھوڑتے ہیں کہ شام سے صبح تک مختلف النوع اورتوانائی بخش غذائیں اورانرجی ڈرنکس وغیرہ پیٹ میں انڈیلتے رہتے ہیں ۔اس سے تو روزے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے کیوں کہ بھوک پیاس کا احساس نہیں ہوتا ہے۔
روزہ کی نیت
ہر دن روزے کی نیت کرنا واجب ہے۔بہتر ہے کہ سحری کے بعد ان الفاظ میں روزے کی نیت کی جائے:
 بصوم غدا نویت من شہر رمضان۔
 ”میں کل رمضان کے روزے کی نیت کرتا ہوں“۔
روزے نہ رکھنے کے شرعی عذر
(1) بیماری ،سفر اور بڑھاپا:جو مرد یا عورت بیمار ہوں یا سفر میں ہوں تو وہ روزہ چھوڑ سکتے ہیں لیکن صحت یابی اور مقیم ہونے کے بعد اس کی قضا واجب ہے اور جوبہت بوڑھے ہوں یا دائم المریض ہوں تو ان کے لیے اجازت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھیں لیکن اس کا فدیہ دینا ضروری ہے۔
(2) حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت:جس عورت کو یہ اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے سے اسے یا اس کے بچے کو نقصان پہنچے گا تو اس کے لیے رخصت ہے لیکن بعد میں قضا واجب ہے۔انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالی نے مسافر کو حالتِ سفر میں روزہ نہ رکھنے اور نصف نماز اد اکرنے کی رخصت دی ہے ۔حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے“۔(ابن ماجہ:1667(
    (3)حیض اور نفاس والی عورت:ان حالتوں میں بھی روزہ رکھنے کی ممانعت ہے لیکن پاک ہونے کے بعد ان کی قضا واجب ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم حیض کی حالت میں ہوتے تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھااور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
جن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا
(1)روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے ۔ٹوتھ پیسٹ یا پوڈر کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مسواک کا استعمال کیا جائے کیوں کہ اگر ٹوتھ پیسٹ یا پوڈر حلق سے نیچے چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
(2)روزے کی حالت میں پیاس کی شدت کو کم کرنے اور جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے سرپر پانی ڈالنا ،کپڑا پانی میں تر کر کے جسم پر لپیٹنا اور کلی کرنا جائز ہے اور نبی کریم ﷺ سے ثابت بھی ہے۔
(3)روزے کی حالت میں کلی کرنے اور ناک میں پانی سے ناک صاف کرنے کی اجازت ہے، البتہ اس میں مبالغہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
(4)روزے دار آنکھ میں سرمہ اور دوا کے قطرے ڈال سکتا ہے یا ناک اور دانت میں بھی لگا سکتا ہے بشرط کہ اس کا اثر حلق تک نہ پہنچے،ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔
(5)انجکشن اگر بطور علاج لگایاجائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیوں کہ اس کے ذریعہ دوا رگوں میں خون کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے ، دماغ یا معدہ تک قدرتی راستوں سے نہیں پہنچتی ہے۔البتہ جسم کو طاقت یا غذا پہنچانے والے انجکشن لینے سے روزہ ٹوٹ جائے گااس لیے کہ اس سے روزے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
(6)بوقتِ ضرورت معائنہ کے لیے روزے دار کا خون نکالا جا سکتا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے حالاں کہ آپ احرام میں تھے ،اسی طرح آپ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔ (ابن ماجہ:1682)
(7) عورت کا شوہر سخت مزاج ہو یا کوئی شخص ریسٹورینٹ میں باورچی ہو تو اسے نمک وغیرہ چکھنے کی اجازت ہے لیکن پھر اس کو تھوک دیا جائے۔
(8)خوشبو سونگھنا،لگانااورسرمہ یاتیل کا استعمال جائز ہے۔
(9) Vention Inhalerکا استعمال کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا اس لیے کہ اس سے کوئی چیز معدہ میں نہیں داخل ہوتی ہے۔اسی طرح سے آکسیجن لینے سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوگا۔
(10)اگر قے خود بخود آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ،خواہ وہ کم ہو یا زیادہ لیکن اگر لوٹا دی جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔اسی طرح سے قصدا قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
(11)کسی انسان کابھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیوں کہ اللہ تعالی نے اسے کھلایا پلایا ہے۔
(12)احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیوں کہ یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے لیکن مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی قضا واجب ہوگی۔
روزے کی قضا،کفارہ اور فدیہ
قضا: ہر مسلمان عاقل و بالغ پر جو کسی عذر یا بغیر عذر روزہ نہ رکھ سکے جیسے حائضہ، بیمار یا مسافر پر روزے کی قضا واجب ہوگی اور اس میں تسلسل شرط نہیں ہے۔
کفارہ: یہ صرف روزے کی حالت میں جماع کرنے سے واجب ہوتا ہے۔کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کیا جائے اور یہ نہ ممکن ہو تودو مہینہ مسلسل روزے رکھے (اگر بیچ میں ایک بھی روزہ چھوڑا تو پھر نئے سرے سے رکھنا ہوگا۔عورت حیض آنے کی صورت میں چھوڑ سکتی ہے لیکن پاک ہونے کے فورا بعد اس کو رکھنا ہوگا)یہ بھی نہ ممکن ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے(صدقہ فطر کے برابر)،کھانا کھلانے میں تسلسل ضروری نہیں ہے۔ہر مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلانا چاہیے اور کھانا بھی اس معیار کا ہو جو وہ اپنے اہل و عیال کو کھلاتا ہو۔کفارہ مسلمانوں کو دینا چاہیے۔کافروں کو دینا جائز نہیں ہے۔
فدیہ:یہ حاملہ ،دودھ پلانے والی عورتیں اور بوڑھے لوگوں کے لیے ہے جو روزہ رکھنے پر قادر نہ ہوں اور اس کی مقدار بھی صدقہ فطر کے برابر ہے یعنی(ایک مُد)۔
روزے کے طبی فوائد
انسانی جسم ایک مشین کی طرح ہے ۔ مشین اسی وقت صحیح کام کرتی ہے جب اس کے تمام پرزے اچھی حالت میں ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہوں۔اسی لیے مشین کو اس کی صحیح حالت میں برقرار رکھنے کے لیے سرویسنگ(Servicing)،اور ہالنگ(Overhauling)کی ضرورت پڑتی ہے ورنہ مشین خراب ہو جائے گی۔ٹھیک اسی طرح سے انسانی جسم کے تمام اعضاءکو صحیح حالت میں رکھنے کے لیے سرویسنگ ،ہالنگ اور ٹیوننگ (Tuning)کی ضرورت ہوتی ہے۔روزہ جسم کی سرویسنگ کرتا ہے ۔
اس سے درج ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
(1)روزے سے مٹاپے کا خاتمہ ہوتا ہے ۔یہ ایک خطرناک مرض ہے جس سے مختلف قسم کی بیماریاں ہوتی ہیں ۔ اس میں انسان کے جسم میں چربی اور روغنی خلیات (Adipose Cells) بڑھ جاتے ہیںاور ایسے لوگوں کے خون میںفیٹی ایسڈFatty Acids) (یاکولسٹرول (Cholersterol) زیادہ ہو جاتا ہے جس سے شوگر،بلڈپریشر،امراضِ قلب اور بانجھ پن وغیرہ جیسی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔یہ بیماریاں ایک بار ہو جائیں تو ان سے چھٹکارا پانا مشکل ہوجاتا ہے۔اس کے لیے مارکیٹ میں ہزاروں روپئے کی دوائیں اور اشتہارات آتے ہیں۔جب کہ روزہ اس کا بہترین علاج ہے اور اس سے ثواب بھی مل جاتا ہے۔
          (2)           انسان جب لگاتار کھاتا رہتا ہے اوراس کے معدہ کو آرام نہیں مل پاتا تو معدہ مسلسل ہائیڈروکلورک ایسڈ (Hydrochloric Acid)          خارج کرتا رہتا ہے جس سے زخمِ معدہ (Peptic Ulcer) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن روزہ رکھنے سے معدہ کو آرام مل جاتا ہے،جس کی وجہ سے اس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
  (3)روزہ رکھنے سے انسان کے جسم میں مختلف طرح کے ہارمون مثلاًCortisol,Noradrenaline,Adrenaline And Liportophine وغیرہ بڑھ جاتے ہیں جس کا اثر انسان کی قوتِ مدافعت ،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ،مزاج اوراخلاق پر پڑتا ہے۔
(4)روزہ رکھنے سے انسان کی جنسی خواہش میں کمی آتی ہے اور اس کو ذہنی سکون ملتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص تم میں سے گھر کا بوجھ اٹھانے کی ہمت رکھتا ہو ،اسے نکاح کر لینا چاہیے کیوں کہ وہ نگاہوں کو نیچی اور شرمگاہوں کو بچانے والا ہے اور جو شخص اس کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے روزہ رکھنا چاہیے کیوں کہ روزہ اس کے حق میں شہوت کو کم کرنے والا ہے“۔(بخاری:5066)
(5)روزے سے انسان کو خود پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔یہ خاص کر سگریٹ،بیڑی،پان گٹکھا اور تمباکو نوشی کرنے والوں کی عادت چھڑانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
(6)روزہ جسم کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ بیماری زدہ اور غیر طبعی بڑھوتری کو جذب کرے ،اس لیے کہ جسم کی قوتِ مدافعت کو اس کا موقع مل جاتا ہے۔
(7) روزے سے بخار،جوڑوں کے درد،سردی،قبض،اسہال،دردِ شکم،ماہواری کی بے ترتیبی اور پیشاب وغیرہ کی جلن میں آرام ملتا ہے(Dr Gala)
    (8) روزہ ہمارے جسم کے لیے ایک قسم کی کیمیائی توانائی مہیا کرتا ہے جس کوBio-Chemical Metabolic Exercise کہتے ہیں، جو غذا ہضم کرانے اور اسے بدن کا جز بنانے میں بہت کام آتی ہے۔
(9) روزے سے انسان کے جسم کو غذا کی کمی میں بھی کام کرنے کی عادت ہو جاتی ہے۔
(10)روزہ انسان کے جسم کے کسی بھی حصہ کو نقصان پہنچانے اورکم زوری یا بیماری کا سبب نہیں بنتا ہے کیوں کہ یہ اعضاءو جوارح اور باطنی قوت کی حفاظت کرتا ہے اور فاسد مادوں کو خارج کرتا ہے۔
ان ساری باتوں سے ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ روزہ ہمارے جسم کے لیے اللہ تعالی کادیا ہوا ایک انمول تحفہ ہے جس کے لیے ہمیں اس کا شکرگذار ہونا چاہیے۔

٭٭٭٭

Monday, 7 July 2014

(Is masturbation break's the fast? And if it is broken then what is his Atonement ) کیا مشت زنی کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے؟ اور اگر ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟

Osama Shoaib Alig
Research Scholar
Jamia Millia Islamia 
New-Delhi 

مشت زنی سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ، جوبھی یہ حرام کام کرے اس کے ذمہ اس دن کی قضاء اوراس عظیم گناہ سے توبہ کرنا ضروری ہے ۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :
روزے کی حالت میں اگر عمدا مشت زنی کی جائے اورمنی کا اخراج ہوجائے تو روزہ باطل ہوجاتا ہے ، اس لیے اسے فرضی روزہ کی قضاء کرنا ہوگي اوراس کےساتھ ساتھ اللہ تعالی سبحانہ وتعالی کے ہاں توبہ بھی کرے ۔
کیوں کہ مشت زنی عام حالت میں بھی حرام ہے چہ جائے کہ روزے کی حالت میں۔ آج کل لوگ اسے سری عادت کا نام بھی دیتے ہیں ۔
دیکھیں : فتاوی الشيخ ابن باز ( 15 / 267 ) ۔
اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
جب روزے دار مشت زنی کرے اورانزال ہوجائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، لھذا اس پر اس دن کی قضاء واجب ہے نہ کہ کفارہ ، کیونکہ کفارہ توصرف جماع کی بنا پر واجب ہوتا ہے ، اس کےعلاوہ اسے اپنے فعل پر توبہ کی کرنی چاہیے ۔ دیکھیں : فتاوی ارکان اسلام صفحہ ( 478 ) ۔
        لہذا جب وہ مشت زنی کرے اورانزال ہوجائے توروزہ ٹوٹ جائے گا لیکن اگرانزال نہ ہوتو پھر روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے شرح ممتع میں کہا ہے :
         اگرانزال کے بغیر مشت زنی کی تو اس کا روزہ نہيں ٹوٹے گا ۔ دیکھیں : الشرح الممتع ( 6 / 388 ) ۔
            بعض علماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ آيا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟ اس میں دوقول ہیں :
پہلا قول : اس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ امام شافعی ، امام احمد کا یہی مذھب ہے ، لیکن امام شافعی نے اس سے نئے مسلمان کومستثنی کیا ہے یا پھر ایسے شخص کو جودیہاتی ہو ،وہیں پرورش پائي ہو اوراہل علم سے دور رہتا ہوتواس کا روزہ فاسد نہيں ہوگا ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی المجموع میں کہتے ہیں :
جب روزہ دارکھانے پینے اورجماع کے حکم سے ناواقف ہونے کی بنا پرکھا پی لیے یا جماع کرلے  تو اگر تو وہ نیا مسلمان ہو یا پھر  دیہات میں پرورش پانے والا ہو جس پریہ مخفی ہوکہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا ، اس لیے وہ بھول جانے والے شخص کے مشابہ ہونے کی بنا پرگنہگار نہيں ہوگا ، اس میں نص بھی وارد ہے ۔
اوراگر وہ شخص مسلمانوں سے میل جول رکھنے والا ہوکہ اس پر اس کے حرام ہونے کا حکم مخفی نہ ہو تواس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ، کیوں کہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے ۔( اھـ المجموع للنووی( 6 / 352 )۔
دیکھیں المغنی لابن قدامۃ المقدسی ( 4 / 368 ) اور الکافی ( 2 / 244 ) ۔
        مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) کے علماءکرام نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے ، لجنۃ الدائمۃ مندرجہ ذیل سوال کیا گيا کہ :
جس نے رمضان میں دن کے وقت مشت زنی کرلی اوراسے اس کے حرام کا ہونے کا علم نہ ہو اورنہ ہی اسے ان ایام کا علم ہوجس میں وہ اس کا مرتکب ہوا تھا اس کا کیا حکم ہے ؟
کمیٹی کا جواب تھا :
اس گندی عادت کی بنا پرتوڑے ہوئے روزں کی قضاء کرنی واجب ہے کیونکہ مشت زنی سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ، اوراسے ان ایام کی کوجاننے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں روزہ توڑا تھا ۔ دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 258 ) ۔
دوسرا قول : اس سے روزہ فاسد نہيں ہوتا جس طرح کہ بھولنے والے کا روزہ فاسد نہيں ہوتا ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ اورحافظ ابن قیم رحمہمااللہ تعالی نے بھی یہی قول اختیارکیا ہے :
شیخ الاسلام " الفتاوی الکبری " میں کہتے ہیں :
روزے دارنے اگر کوئي روزہ توڑنے والا کام اس کی حرمت سے جاہل ہونے کی بنا پر کرلیا توکیا اسے روزہ دوبارہ رکھنا ہوگا ؟
امام احمد کے مسلک میں دو قول ہیں : زيادہ صحیح اورظاہریہی ہے کہ اس سے قضاءواجب نہیں ہوگي ، اورخطاب توابلاغ کے بعدہوتا ہے اس لیےکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
ّّتا کہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈراؤں اورجسے یہ پہنچے ٗٗ ۔
اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :
ّّہم اس وقت تک عذاب نہيں دیتے جب تک کہ رسول نہ مبعوث کردیںٗٗ
اوراس لیے بھی کہ اللہ تعالی نے فرمایا :
ّّتا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالی کے خلاف کوئي دلیل نہ رہےٗٗ۔
اس طرح کی کئی ایک آيات قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں اللہ تعالی نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کسی ایک کواس وقت تک سزا نہيں دیتا اورنہ ہی اس کا محاسبہ کرتا ہے جب تک کہ اس کے پاس رسول کا لایا ہوا دین نہ پہنچ جائے ۔
اورجس کویہ علم ہوکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کےرسول ہیں اوروہ اس پر ایمان لے آيا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائي ہوئي اکثر اشیاء کا علم نہ رکھے تواللہ تعالی اسے اس چيزکی سزا نہيں دے گا جواسے پہنچی ہی نہیں ۔
کیونکہ جب اللہ تعالی بلوغت کےبعد ترک ایمان پراسے سزا نہيں دیتا توپھر اس کی بعض شرائط پربھی ابلاغ سے قبل سزانہ دینا اولی ہوگا ، اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بھی اس جیسی مثالیں ملتی ہیں ۔
شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے ایسے نوجوان کے بارے میں سوال کیا گيا جس نے رمضان میں شہوت غالب آنے پرمشت زنی کرلی کیونکہ وہ اس کے حکم سے جاہل تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، تواس کا حکم کیا ہوگا ؟
شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
حکم یہ ہے کہ اس کےذمہ کچھ نہیں ، اس لیے کہ ہم گزشتہ سطور میں یہ بیان کیا ہے کہ روزہ دار کا روزہ تین شروط سے ٹوٹتا ہے :علم ہونا چاہیے ، یاد ہو ، اورارادہ ہونے پر ۔
لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ : انسان کومشت زنی کرنے سے صبر کرنا چاہیے اس لیے کہ مشت زنی حرام ہے جس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :
ّّ اورجولوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، سوائے اپنی بیویوں اوراملکیت کی لونڈیوں کے یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں ، لھذا جواس کے سوا کچھ اورچاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ٗٗ۔ المومنون ( 5 - 7 ) ۔
اوراس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
ّّ اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جوبھی شادی کرنے کی استطاعت رکھے اسے شادی کرنی چاہیے ، اورجوطاقت نہيں رکھتا وہ روزے رکھے اس لیے کہ یہ اس کے لیے ڈھال ہیں۔ٗٗ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5065 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1400 ) ۔
اوراگر مشت زنی جائز ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی راہنمائی فرماتے ، اس لیے مکلف کےلیے ایسا کرنا آسان ہے ، اور اس لیے بھی کہ انسان اس میں لذت متعہ پاتا ہے ، لیکن روزے میں مشقت ہے ، توجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کی راہنمائی فرمائي تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشت زنی کرنا حرام ہے اورجائز نہيں ۔ ا ھـ
دیکھیں مجموع الفتاوی لابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی ( 19 / 981 ) ۔
آپ کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ان ایام کی قضاء میں روزے رکھیں ، اوران ایام کی تحدید میں کوشش میں ظن غالب پر عمل کریں ۔
شیخ ابن بازرحمہ اللہ تعالی مجموع الفتاوی میں کہتے ہيں :
جس نے رمضان میں دن کےوقت جماع کیا اوراس پرروزہ فرض بھی تھا یعنی وہ مقیم اورصحیح اوربالغ تھا ، لیکن جماع جہالت کی بنا پرکربیٹھا تواس کے بارہ میں اہل علم کا اختلاف پایا جاتا ہے :
کچھ کا کہنا ہے کہ : اس پرکفارہ ہوگا ، کیونکہ اس نے سوال نہیں کیا اورنہ ہی دین کی سمجھ حاصل کی ہے اوریہ کوتاہی ہے ۔
دوسرے اہل علم کہتے ہیں : جہالت کی بنا پراس پر کفارہ لازم نہیں ، تواس سے آپ کویہ علم ہوا ہوگا کہ آپ کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ کفارہ ادا کریں ، کیونکہ آپ نے کوتاہی کی ہے اورحرام کام کرنے سے قبل سوال بھی نہیں کیا ۔ اھـ دیکھیں مجموع الفتاوی لابن باز ( 15 / 304)
اس معاملہ میں احتیاط یہی ہے کہ کفارہ ادا کیا جائے ، اوریہاں کفارہ واجب اس لیے کہ اس نے جماع کے ساتھ روزہ توڑا ہے ، اوررمضان میں دن کے وقت روزہ کی حالت میں جماع کے علاوہ باقی کسی بھی روزہ توڑنے والی چيز سےکفارہ واجب نہيں ہوتا ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب

Saturday, 5 July 2014

(Domestic Violence And Islam) گھریلو تشدد اور اسلام


اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

معاشرے میں گھر کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔جس میں افرادکے درمیان خوش گوار تعلقات کا ہونا ناگزیر ہے کیوں کہ اس کا اثر نہ صرف معاشرے پر ہوتا ہے بلکہ ملک کی ترقی پر بھی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے گھر کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی ہے اور ہر ایک کا دائرہ کار متعین کر دیا ہے۔اب اگر کوئی اپنے دائرہ کار سے نکل کر دوسرے فرد کے دائرہ کارمیں دخل دیتا ہے یا دوسروں کو ان کے فرض کی ادائیگی کے لیے دباو ڈالتا ہے تو یہیں سے’گھریلو تشدد‘ کی شروعات ہوتی ہے۔
اٹھارہویں صدی تک شوہر کے ذریعے بیوی پر تشدد کرنا اور ان کومارنا قانونی لحاظ سے قابلِ قبول تھا۔انیسویں صدی میں یورپ میں جب سیاسی بے داری آئی تو United Kingdomاور United States سمیت دیگر ملکوں میں بھی اس کے خلاف بھی آوازیں اٹھنے لگیں۔1850میںUnited States کی Tennesseeپہلی ریاست تھی جہاں عورت پر تشدد کے خلاف قانون بنا۔بیسویں صدی کے آغاز تک پورے یورپ میں عورتوں پر تشدد کے خلاف سختی کی جانے لگی تاہم پولس کبھی کبھار ہی اس جرم میں کسی کو گرفتار کرتی تھی۔
1970کے آس پاس فیمینزم(Fiminism)،عورتوں کے حقوق اور ان کی تحریک کے تحت گھریلو تشدد کے خلاف باقاعدہ آواز بلند کی گئی اور اس کو بطور اصطلاح استعمال کیا جانے لگاتھا۔
 گھریلو تشدد کی تعریف
امریکہ کے ایک سرکاری ادارے US OFFICE ON VIOLENCE AGAINST WOMENکے مطابق :
"Pattern of abusive behavior in any relationship that is used by one partner to gain or maintain power and control over another intimate partner" .(http://www.usdog.gov/ovw.domviolence.htm)
دو قریبی افراد(مرد او ر عورت )جو کسی بھی رشتہ میں منسلک ہوں،ان میں سے ایک کی جانب سے بد سلوکی کا رویہ ،جو وہ دوسرے کے مقابلے میں طاقت اور اس پر قابو حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے ظاہر کرے“۔
Merriam-Webster Dictionaryکے مطابق:
جب کوئی شخص، کسی دوسرے شخص پر قابو پانے کے لیے دھمکی آمیز، تشدد آمیز یا گھناونا رویہ اختیار کرتا ہے تو وہ گھریلو تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ شوہر،بیوی، پارٹنر، بیٹے، بیٹی اورخاندان کے کسی بھی فرد کے ذریعے انجام دیاجاسکتا ہے۔ اس میں جسمانی تشدد،تیزاب ڈالنا، جنسی حملہ، زنا بالجبر، گھناونی زبان کا استعمال، ہتک آمیز الفاظ کا استعمال، رقم کو روکنا یا چوری کرنا، اہل خانہ یا دوستوں کے تعلقات کو روکنا،بچوں کو اٹھانے یا نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا، شناختی یا امیگریشن کاغذات کو چرانا، طبی دیکھ بھال سے انکار کرنا، گھر میں قید رکھنا اور ملک سے نکالنے کی دھمکی دینا وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں جبراً شادی کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے“۔
بعض لوگوںکو لگتا ہے کہ تشدد دراصل باہمی رشتوں کا ایک فطری نتیجہ ہے،لیکن ایسا نہیں ہے ۔لوگ عموماً دوسروں کا غصہ گھر وں میں آکر اپنی بیویوں پر نکالتے ہیں۔یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ایک انسان کو دوسرے انسان پر بزورِ قوت غالب آنے کی کیفیت کا اظہار ہوتاہے۔
گھریلو تشدد کی قسمیں
جسمانی تشدد:اس میں مارنا ،پیٹنا،دھکا دینا،زخمی کرنا،درد پہنچانااورجسم پر تیزاب پھینک دینا وغیرہ شامل ہیں۔
جذباتی اور ذہنی و نفسیاتی تشدد:اس میں لفظوں سے چوٹ پہنچانا،ذہنی ٹارچر کرنا،عزتِ نفس اور خودداری سے کھیلنا،حقیر سمجھنا،دوسروں کے سامنے بے عزتی کرنا، آزادی سلب کرنا اور دھمکی دیناوغیرہ شامل ہیں۔
مالی تشدد:     اس میں پیسہ نہ دینا ،جمع خرچ روک لینا،تنخواہ نہ دینا، بلا اجازت املاک پر قبضہ کر لینا اور اسے خرچ کر دینا وغیرہ آتا ہے۔
 جنسی تشدد:اس میں زبردستی جنسی تعلقات قائم کرنا،جنسی طور پر ہراساں کرنااورچھیڑ چھاڑ کرناوغیرہ شامل ہیں۔

گھریلو تشدد ایک ’عالمی مرض‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔مجموعی طور سے دنیا کی ایک تہائی عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ان پر ظلم و تشدد کرنے والوں میں زیادہ تر ان کے شوہر،سابق شوہر،بوائے فرینڈ، سابق بوائے فرینڈ اور دیگر قریبی رشتہ دار ہوا کرتے ہیں۔بعض رپورٹس کے مطابق ہر سال%35 عورتیں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔کچھ نے تو اسے %70بتایا ہے۔ 20.9میلین جبری مزدوری کر رہے لوگوں میں%55 عورتیں اور لڑکیاں ہیں۔اسی طرح 4.5میلین لوگ جو زبردستی قحبہ خانوں میں ڈھکیلے گئے ہیں ان میں%98 لڑکیاں اور عورتیں ہیں۔
2011/12کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ میں%7.3 یعنی 1.2میلین عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔%31یعنی 5میلین عورتیں16 سال کی عمر میں گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔اسی طرح ایک ہفتے میں دو عورتیں اوسطاً شوہر کی طرف سے یا سابق شوہر کی طرف سے قتل کر دی جاتی ہیں۔%40سے%70 کے بیچ کناڈا،آسٹریلیا،ساوتھ افریقہ ، اسرائیل اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں عورتیں اپنے پاٹنروں کے ذریعہ قتل کی جاتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت WHO کے مطابق عالمی سطح پر% 38 عورتیں قتل ہوئیں جن کو ان کے پاٹنر یا ایکس پاٹنر کی طرف سے قتل کیا گیا تھا۔زبردستی شادی کیے جانے پر 1,468 لڑکیوں کی موت کے واقعات ہوئے۔
ہندوستان کی صورتِ حال
خواتین پر تشدد میں ہندوستان کازامبیا کے بعد دنیا میں دوسرا نمبر ہے۔رینکا چودھری کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی%70 عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔
نیشنل کرائم برانچ کی رپورٹ کے مطابق ہر 3 منٹ پر ایک عورت پر کسی نہ کسی ظلم کی وجہ سے کیس درج کیا جاتا ہے۔ہر29 منٹ پر ایک عورت سے جنسی زیادتی کی جا تی ہے۔ہر 60منٹ پر ایک عورت جہیز کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہے اور ہر 9منٹ پر ایک عورت سے اس کے شوہر یا شوہر کے رشتہ داروں کی طرف سے تشدد کیا جاتا ہے۔ %7.5عورتیں ذہنی تشدد کی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ان میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں طرح کی عورتیں شامل ہیں لیکن زیادہ تر شادی شدہ عورتیں ہی اس کا شکار ہوتی ہیں۔
نیشنل کرائم برانچ کی رپورٹ2012 کے مطابق خواتین کے خلاف کل2,44,270 کیسز سامنے آئے۔2011میں ان کی تعداد2,28,650 تھی۔یعنی اس میں%6.4 کا اضافہ ہوگیا۔ان میں شوہر اور اس کے رشتہ داروں کی طرف سے بیوی پر تشدد کے%43.6،عورت کی عصمت پر حملہ کرنے کے%18.6،اغوا کے%15.7،جنسی زیادتی کے%10.2،عورت کی بے عزتی کرنے کے%3.8،جہیز کی وجہ سے استحصال کے%3.7،جہیز کی وجہ سے موت کے%3.4 ،عورتوں اور لڑکیوں کی اسمگلنگ کے%01.0 اور عورتوں کے خلاف دیگر جرائم کے%0.1 واقعات ہوئے۔
ریاستوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو آسام%89.54،تری پور%86.95،ویسٹ بنگال%70.30، دہلی%69.75، آندھراپردیش%66.05،راجستھان%63.75،کیرلہ%61.21،اڑیسہ%58.79،جموںکشمیر%58.60 اور ہریانہ %50.31 کے ساتھ سرِفہرست رہے۔
گھریلو تشدد کے اسباب
شوہر اور اس کے رشتہ دار ، بیوی نام کی گھر میں موجود ہستی پر صدیوں سے ظلم کرتے آئے ہیں۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے ۔اس کی مختلف وجوہا ت ہیں۔ 1979 میں ہوئی ایک ریسرچ سے پتہ چلا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ’ان چاہا حمل‘ ہے۔(NIHFW survey 1979)
1995 کی رپورٹ کے مطابق تشدد کی ایک بڑی وجہ شوہر کے ماں باپ تھے کہ گھر میں کس کی چلے گی؟2004 کے سروے میں شوہر کا کم پڑھا لکھا ہونا ،شراب اور دیگرمنشیات کی لت وغیرہ کو بنیادی اسباب میں سے بتایا گیا ۔
2000 میں’ اسکول آف سوشل سائنس‘ ، جے این یو کے ہریہر ساہو نے گھریلو تشدد پر ریسرچ کی۔ان کے مطابق اس کی مختلف وجوہات ہیں: شوہر کا بیوی کودھوکہ باز سمجھنا، بیوی کے گھر سے پیسے اور تحفے کا نہ آنا، بیوی کاساس اور سسر کی عزت نہ کرنا، شوہر کو بنا بتائے بیوی کا باہر چلے جانا، بیوی کا گھر اور بچوں کی ذمہ داری نہ لینا، بیوی کا کھانا ٹھیک سے نہ بناناوغیرہ ۔دیگر وجوہات میں تعلیم کی      کمی ،گھر میںسر پرست افراد کی جاہلیت اور حقوق نسواں سے بے اعتنائی، غر بت و افلاس ،لڑ کی اور لڑ کے کی مر ضی کے خلا ف شا دی جو کہ گھر یلو نا چا قی کا سبب بنتی ہے،آپسی حقو ق سے نا وا قفیت،بے جا پابندی ،اسلا م سے دوری اور تقو ی کا خا تمہ،عورتوں کو فر ما ں بر داراور مطیع بنا نے کی خو ا ہش،غیر ا خلاقی قو ا نین کی تائید چاہنا اورشک کی بنا پر تشد د کرنا وغیر ہ وغیرہ ہیں۔
ہندوستان میں گھریلو تشدد کے خلاف ایک بل پاس کیا گیا جس کا نام ’خانگی تشدد سے تحفظِ خواتین بل 2005‘رکھا گیا ۔لیکن اس کا ایک نقصان دہ پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ اس کا استعمال آپسی رنجشوں کی وجہ سے بدلہ لینے،بلا وجہ مردوں کو ڈرانے دھمکانے،بلیک میل کرنے، انتقام لینے اوران میں خوف و ہراس پیدا کرنا وغیرہ میں ہو رہا ہے۔
گھریلو تشدد کو بڑھاوا دینے میں کچھ حد تک عورتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔وہ سمجھتی ہیں کہ یہ مرد ذات کا حصہ ہے۔خصوصاً بر صغیرمیں اس طرح کا رجحان بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔UNICEFکی 2012کی رپورٹ میں% 57 لڑکوں اور%53 لڑکیوں نے جن کی عمر15سے19 کے درمیان تھی ،بیوی کو مارنا صحیح ٹھیرایا۔اسی طرح جارڈن اور افغانستان میں%90،مالی میں%87اور سینٹرل افریقن ریپبلک میں%80 عورتوں نے تشدد کو صحیح کہا۔
تشددکے نتیجے میں عورتوں کو جسمانی معذوری ، دائمی صحت کے مسائل،ذہنی بیماریاں ،محدود مالی حالت اور ناپائیدارتعلقات کا ہونا جیسے غیر معمولی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اس طرح کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے بھی بڑے ہو کر اسی راہ کو اختیار کر لیتے ہیں اور وہ بھی تشدد کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 750,000بچے بچیاں گھریلو تشدد کے گواہ ہیں ۔اس سے ان کے اندر مایوسی،جارحانہ رویہ،تشدد پسندی،جرائم پسندی کے رجحانات پیدا ہو تے ہیں۔
اسلام کا نظریہ
یورپ نے گھریلو تشدد کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مختلف کوششیں کی ۔انہوں نے عورتوں کو ’خود مختار‘بنایا،ان کو ہر طرح کے ’حقوق‘ عطا کیے اور ان کو مکمل ’آزادی‘ دے دی گئی حتی کہ انہیںان کے والدین،بھائی ،شوہر اور اولاد سے بھی آزاد کر دیا گیا۔لیکن ان تمام تدابیر سے بھی گھریلو تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اسلام نے گھریلو تشدد کا صحیح حل پیش کیا ہے۔اس نے عورت اور مرد کے سامنے ایک ایساخاندانی نظام دیاجس میں دونوں کی فطرت کا خیال رکھا گیا اور دونوں کو ایک دوسرے کا مددگار اور رفیق بنایا۔جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
 و المومنون و المومنٰت بعضھم اولیاءبعض۔(التوبة:71)
مومن مرد اور مومن عورتیں،یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔
اسی طرح اس نے دونوں کے دائرہ کار متعین کر دیے اور اسی کے مطابق انہیں ذمہ داریوں سے نوازا ،ساتھ ہی واضح کر دیا کہ ہر کوئی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے اور اس سے اسی کے مطابق باز پرس کی جائے گی۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الا کلکم راع و کلکم مسﺅل عن رعیتہ،فالامام الذی علی الناس راع و ھو مسﺅل عن رعیتہ،والرجل راع علی اھل بیتہ و ھو مسﺅل عن رعیتہ،والمراة راعیة علی اھل بیت زوجھا و ولدہ و ھی مسﺅلة عنھم۔(بخاری:7138)
آگاہ ہو جاو، تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔پس امام(امیر المومنین)لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بار ے میں سوال ہوگا۔
ساتھ ہی اسلام نے مردوںکو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے،ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے اور معاف کرنے کی تاکید کی ۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے:
وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسیٰ ان تکرھوا شیئا و یجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا۔(النسا:19)
ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔
                      متعدد احادیث میں بھی عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کی ہدایت دی گئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خیرکم خیرکم لاھلہ و انا خیرکم لاھلی و اذا مات صاحبکم فدعوہ۔(الترمذی:1828)
تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہواور میں ،تم میں سے سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوںاور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے چھوڑ دو یعنی اسے برائی سے یاد نہ کیا کرو۔
اسی طرح آپ نے ایک اور جگہ فرمایا:
اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقاً وخیارکم خیارکم لنسائھم۔(الترمذی:1161)
مسلمانوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتر ہے اور تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔
ساتھ ہی اسلام نے مردوں کو عورتوں پر تشد د کرنے سے بھی واضح الفاظ میں منع کر دیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا یجلد احدکم امراتہ جلد العبد ثم یجامعھا فی آخر الیوم۔(بخاری:5204)
تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے کہ پھردوسرے دن اس سے ہم بستر ہوگا۔
اسلام میں کہا گیا کہ شوہر بیوی کو کسی طرح کی چوٹ نہ پہنچائے،اس کا خون نہ بہائے، اسے مار ے نہیں اور نہ ہی بیوی کے جسم کا کوئی حصہ توڑے۔
ایک دفعہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بیوی پر شوہر کے کیا حقوق ہیں؟آپنے فرمایا: ”جب توکھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے، لباس پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کے منہ پر نہ مارے نہ برا کہے، بات چیت بھی صرف گھر کی حد تک کرے“۔        (ابو داد)۔
اگرچہ قرآن کریم میں بعض حالات میں بیوی کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس میں بھی پہلے سمجھانے، پھر نفسیاتی طریقے سے متنبہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔اس کے بعد بھی نہ سمجھیں تب کہیں جا کر ضرورت بھرمارنے کی اجازت دی ہے لیکن اس کو بھی ناپسند کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
فالصٰلحٰت قٰنتٰت حٰفظٰت للغیب بما حفظ اللہ و الٰتی تخافون نشوزھن فعظوھن و اھجروھن فی المضاجع و اضربوھن فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلاً ان اللہ کان علیّا کبیرا۔(النسا:34)
پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاو۔خواب گاہوں میں ان سے علاحدہ رہو اور مارو،پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے نہ تلاش کرو،یقین رکھو کہ اوپر اللہ تعالی موجود ہے جو بڑا اوربالاتر ہے۔
اس طرح سے اسلام نے گھریلو تشدد کا راستہ بند کر دیا ہے۔٭٭٭٭