Monday, 7 July 2014

(Is masturbation break's the fast? And if it is broken then what is his Atonement ) کیا مشت زنی کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے؟ اور اگر ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟

Osama Shoaib Alig
Research Scholar
Jamia Millia Islamia 
New-Delhi 

مشت زنی سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ، جوبھی یہ حرام کام کرے اس کے ذمہ اس دن کی قضاء اوراس عظیم گناہ سے توبہ کرنا ضروری ہے ۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :
روزے کی حالت میں اگر عمدا مشت زنی کی جائے اورمنی کا اخراج ہوجائے تو روزہ باطل ہوجاتا ہے ، اس لیے اسے فرضی روزہ کی قضاء کرنا ہوگي اوراس کےساتھ ساتھ اللہ تعالی سبحانہ وتعالی کے ہاں توبہ بھی کرے ۔
کیوں کہ مشت زنی عام حالت میں بھی حرام ہے چہ جائے کہ روزے کی حالت میں۔ آج کل لوگ اسے سری عادت کا نام بھی دیتے ہیں ۔
دیکھیں : فتاوی الشيخ ابن باز ( 15 / 267 ) ۔
اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
جب روزے دار مشت زنی کرے اورانزال ہوجائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، لھذا اس پر اس دن کی قضاء واجب ہے نہ کہ کفارہ ، کیونکہ کفارہ توصرف جماع کی بنا پر واجب ہوتا ہے ، اس کےعلاوہ اسے اپنے فعل پر توبہ کی کرنی چاہیے ۔ دیکھیں : فتاوی ارکان اسلام صفحہ ( 478 ) ۔
        لہذا جب وہ مشت زنی کرے اورانزال ہوجائے توروزہ ٹوٹ جائے گا لیکن اگرانزال نہ ہوتو پھر روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے شرح ممتع میں کہا ہے :
         اگرانزال کے بغیر مشت زنی کی تو اس کا روزہ نہيں ٹوٹے گا ۔ دیکھیں : الشرح الممتع ( 6 / 388 ) ۔
            بعض علماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ آيا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟ اس میں دوقول ہیں :
پہلا قول : اس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ امام شافعی ، امام احمد کا یہی مذھب ہے ، لیکن امام شافعی نے اس سے نئے مسلمان کومستثنی کیا ہے یا پھر ایسے شخص کو جودیہاتی ہو ،وہیں پرورش پائي ہو اوراہل علم سے دور رہتا ہوتواس کا روزہ فاسد نہيں ہوگا ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی المجموع میں کہتے ہیں :
جب روزہ دارکھانے پینے اورجماع کے حکم سے ناواقف ہونے کی بنا پرکھا پی لیے یا جماع کرلے  تو اگر تو وہ نیا مسلمان ہو یا پھر  دیہات میں پرورش پانے والا ہو جس پریہ مخفی ہوکہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا ، اس لیے وہ بھول جانے والے شخص کے مشابہ ہونے کی بنا پرگنہگار نہيں ہوگا ، اس میں نص بھی وارد ہے ۔
اوراگر وہ شخص مسلمانوں سے میل جول رکھنے والا ہوکہ اس پر اس کے حرام ہونے کا حکم مخفی نہ ہو تواس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ، کیوں کہ وہ کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے ۔( اھـ المجموع للنووی( 6 / 352 )۔
دیکھیں المغنی لابن قدامۃ المقدسی ( 4 / 368 ) اور الکافی ( 2 / 244 ) ۔
        مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) کے علماءکرام نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے ، لجنۃ الدائمۃ مندرجہ ذیل سوال کیا گيا کہ :
جس نے رمضان میں دن کے وقت مشت زنی کرلی اوراسے اس کے حرام کا ہونے کا علم نہ ہو اورنہ ہی اسے ان ایام کا علم ہوجس میں وہ اس کا مرتکب ہوا تھا اس کا کیا حکم ہے ؟
کمیٹی کا جواب تھا :
اس گندی عادت کی بنا پرتوڑے ہوئے روزں کی قضاء کرنی واجب ہے کیونکہ مشت زنی سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے ، اوراسے ان ایام کی کوجاننے کی کوشش کرنی چاہیے جس میں روزہ توڑا تھا ۔ دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 258 ) ۔
دوسرا قول : اس سے روزہ فاسد نہيں ہوتا جس طرح کہ بھولنے والے کا روزہ فاسد نہيں ہوتا ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ اورحافظ ابن قیم رحمہمااللہ تعالی نے بھی یہی قول اختیارکیا ہے :
شیخ الاسلام " الفتاوی الکبری " میں کہتے ہیں :
روزے دارنے اگر کوئي روزہ توڑنے والا کام اس کی حرمت سے جاہل ہونے کی بنا پر کرلیا توکیا اسے روزہ دوبارہ رکھنا ہوگا ؟
امام احمد کے مسلک میں دو قول ہیں : زيادہ صحیح اورظاہریہی ہے کہ اس سے قضاءواجب نہیں ہوگي ، اورخطاب توابلاغ کے بعدہوتا ہے اس لیےکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
ّّتا کہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈراؤں اورجسے یہ پہنچے ٗٗ ۔
اورایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :
ّّہم اس وقت تک عذاب نہيں دیتے جب تک کہ رسول نہ مبعوث کردیںٗٗ
اوراس لیے بھی کہ اللہ تعالی نے فرمایا :
ّّتا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالی کے خلاف کوئي دلیل نہ رہےٗٗ۔
اس طرح کی کئی ایک آيات قرآن مجید میں موجود ہیں جن میں اللہ تعالی نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ کسی ایک کواس وقت تک سزا نہيں دیتا اورنہ ہی اس کا محاسبہ کرتا ہے جب تک کہ اس کے پاس رسول کا لایا ہوا دین نہ پہنچ جائے ۔
اورجس کویہ علم ہوکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کےرسول ہیں اوروہ اس پر ایمان لے آيا لیکن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائي ہوئي اکثر اشیاء کا علم نہ رکھے تواللہ تعالی اسے اس چيزکی سزا نہيں دے گا جواسے پہنچی ہی نہیں ۔
کیونکہ جب اللہ تعالی بلوغت کےبعد ترک ایمان پراسے سزا نہيں دیتا توپھر اس کی بعض شرائط پربھی ابلاغ سے قبل سزانہ دینا اولی ہوگا ، اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بھی اس جیسی مثالیں ملتی ہیں ۔
شیخ ابن عثيمین رحمہ اللہ تعالی سے ایسے نوجوان کے بارے میں سوال کیا گيا جس نے رمضان میں شہوت غالب آنے پرمشت زنی کرلی کیونکہ وہ اس کے حکم سے جاہل تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، تواس کا حکم کیا ہوگا ؟
شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :
حکم یہ ہے کہ اس کےذمہ کچھ نہیں ، اس لیے کہ ہم گزشتہ سطور میں یہ بیان کیا ہے کہ روزہ دار کا روزہ تین شروط سے ٹوٹتا ہے :علم ہونا چاہیے ، یاد ہو ، اورارادہ ہونے پر ۔
لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ : انسان کومشت زنی کرنے سے صبر کرنا چاہیے اس لیے کہ مشت زنی حرام ہے جس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :
ّّ اورجولوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، سوائے اپنی بیویوں اوراملکیت کی لونڈیوں کے یقینا یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں ، لھذا جواس کے سوا کچھ اورچاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ٗٗ۔ المومنون ( 5 - 7 ) ۔
اوراس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :
ّّ اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جوبھی شادی کرنے کی استطاعت رکھے اسے شادی کرنی چاہیے ، اورجوطاقت نہيں رکھتا وہ روزے رکھے اس لیے کہ یہ اس کے لیے ڈھال ہیں۔ٗٗ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 5065 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1400 ) ۔
اوراگر مشت زنی جائز ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی راہنمائی فرماتے ، اس لیے مکلف کےلیے ایسا کرنا آسان ہے ، اور اس لیے بھی کہ انسان اس میں لذت متعہ پاتا ہے ، لیکن روزے میں مشقت ہے ، توجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے کی راہنمائی فرمائي تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشت زنی کرنا حرام ہے اورجائز نہيں ۔ ا ھـ
دیکھیں مجموع الفتاوی لابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی ( 19 / 981 ) ۔
آپ کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ ان ایام کی قضاء میں روزے رکھیں ، اوران ایام کی تحدید میں کوشش میں ظن غالب پر عمل کریں ۔
شیخ ابن بازرحمہ اللہ تعالی مجموع الفتاوی میں کہتے ہيں :
جس نے رمضان میں دن کےوقت جماع کیا اوراس پرروزہ فرض بھی تھا یعنی وہ مقیم اورصحیح اوربالغ تھا ، لیکن جماع جہالت کی بنا پرکربیٹھا تواس کے بارہ میں اہل علم کا اختلاف پایا جاتا ہے :
کچھ کا کہنا ہے کہ : اس پرکفارہ ہوگا ، کیونکہ اس نے سوال نہیں کیا اورنہ ہی دین کی سمجھ حاصل کی ہے اوریہ کوتاہی ہے ۔
دوسرے اہل علم کہتے ہیں : جہالت کی بنا پراس پر کفارہ لازم نہیں ، تواس سے آپ کویہ علم ہوا ہوگا کہ آپ کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ کفارہ ادا کریں ، کیونکہ آپ نے کوتاہی کی ہے اورحرام کام کرنے سے قبل سوال بھی نہیں کیا ۔ اھـ دیکھیں مجموع الفتاوی لابن باز ( 15 / 304)
اس معاملہ میں احتیاط یہی ہے کہ کفارہ ادا کیا جائے ، اوریہاں کفارہ واجب اس لیے کہ اس نے جماع کے ساتھ روزہ توڑا ہے ، اوررمضان میں دن کے وقت روزہ کی حالت میں جماع کے علاوہ باقی کسی بھی روزہ توڑنے والی چيز سےکفارہ واجب نہيں ہوتا ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب

Saturday, 5 July 2014

(Domestic Violence And Islam) گھریلو تشدد اور اسلام


اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

معاشرے میں گھر کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔جس میں افرادکے درمیان خوش گوار تعلقات کا ہونا ناگزیر ہے کیوں کہ اس کا اثر نہ صرف معاشرے پر ہوتا ہے بلکہ ملک کی ترقی پر بھی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے گھر کے نظم و نسق کو برقرار رکھنے پر خصوصی توجہ دی ہے اور ہر ایک کا دائرہ کار متعین کر دیا ہے۔اب اگر کوئی اپنے دائرہ کار سے نکل کر دوسرے فرد کے دائرہ کارمیں دخل دیتا ہے یا دوسروں کو ان کے فرض کی ادائیگی کے لیے دباو ڈالتا ہے تو یہیں سے’گھریلو تشدد‘ کی شروعات ہوتی ہے۔
اٹھارہویں صدی تک شوہر کے ذریعے بیوی پر تشدد کرنا اور ان کومارنا قانونی لحاظ سے قابلِ قبول تھا۔انیسویں صدی میں یورپ میں جب سیاسی بے داری آئی تو United Kingdomاور United States سمیت دیگر ملکوں میں بھی اس کے خلاف بھی آوازیں اٹھنے لگیں۔1850میںUnited States کی Tennesseeپہلی ریاست تھی جہاں عورت پر تشدد کے خلاف قانون بنا۔بیسویں صدی کے آغاز تک پورے یورپ میں عورتوں پر تشدد کے خلاف سختی کی جانے لگی تاہم پولس کبھی کبھار ہی اس جرم میں کسی کو گرفتار کرتی تھی۔
1970کے آس پاس فیمینزم(Fiminism)،عورتوں کے حقوق اور ان کی تحریک کے تحت گھریلو تشدد کے خلاف باقاعدہ آواز بلند کی گئی اور اس کو بطور اصطلاح استعمال کیا جانے لگاتھا۔
 گھریلو تشدد کی تعریف
امریکہ کے ایک سرکاری ادارے US OFFICE ON VIOLENCE AGAINST WOMENکے مطابق :
"Pattern of abusive behavior in any relationship that is used by one partner to gain or maintain power and control over another intimate partner" .(http://www.usdog.gov/ovw.domviolence.htm)
دو قریبی افراد(مرد او ر عورت )جو کسی بھی رشتہ میں منسلک ہوں،ان میں سے ایک کی جانب سے بد سلوکی کا رویہ ،جو وہ دوسرے کے مقابلے میں طاقت اور اس پر قابو حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے ظاہر کرے“۔
Merriam-Webster Dictionaryکے مطابق:
جب کوئی شخص، کسی دوسرے شخص پر قابو پانے کے لیے دھمکی آمیز، تشدد آمیز یا گھناونا رویہ اختیار کرتا ہے تو وہ گھریلو تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ شوہر،بیوی، پارٹنر، بیٹے، بیٹی اورخاندان کے کسی بھی فرد کے ذریعے انجام دیاجاسکتا ہے۔ اس میں جسمانی تشدد،تیزاب ڈالنا، جنسی حملہ، زنا بالجبر، گھناونی زبان کا استعمال، ہتک آمیز الفاظ کا استعمال، رقم کو روکنا یا چوری کرنا، اہل خانہ یا دوستوں کے تعلقات کو روکنا،بچوں کو اٹھانے یا نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا، شناختی یا امیگریشن کاغذات کو چرانا، طبی دیکھ بھال سے انکار کرنا، گھر میں قید رکھنا اور ملک سے نکالنے کی دھمکی دینا وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں جبراً شادی کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے“۔
بعض لوگوںکو لگتا ہے کہ تشدد دراصل باہمی رشتوں کا ایک فطری نتیجہ ہے،لیکن ایسا نہیں ہے ۔لوگ عموماً دوسروں کا غصہ گھر وں میں آکر اپنی بیویوں پر نکالتے ہیں۔یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ایک انسان کو دوسرے انسان پر بزورِ قوت غالب آنے کی کیفیت کا اظہار ہوتاہے۔
گھریلو تشدد کی قسمیں
جسمانی تشدد:اس میں مارنا ،پیٹنا،دھکا دینا،زخمی کرنا،درد پہنچانااورجسم پر تیزاب پھینک دینا وغیرہ شامل ہیں۔
جذباتی اور ذہنی و نفسیاتی تشدد:اس میں لفظوں سے چوٹ پہنچانا،ذہنی ٹارچر کرنا،عزتِ نفس اور خودداری سے کھیلنا،حقیر سمجھنا،دوسروں کے سامنے بے عزتی کرنا، آزادی سلب کرنا اور دھمکی دیناوغیرہ شامل ہیں۔
مالی تشدد:     اس میں پیسہ نہ دینا ،جمع خرچ روک لینا،تنخواہ نہ دینا، بلا اجازت املاک پر قبضہ کر لینا اور اسے خرچ کر دینا وغیرہ آتا ہے۔
 جنسی تشدد:اس میں زبردستی جنسی تعلقات قائم کرنا،جنسی طور پر ہراساں کرنااورچھیڑ چھاڑ کرناوغیرہ شامل ہیں۔

گھریلو تشدد ایک ’عالمی مرض‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔مجموعی طور سے دنیا کی ایک تہائی عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ان پر ظلم و تشدد کرنے والوں میں زیادہ تر ان کے شوہر،سابق شوہر،بوائے فرینڈ، سابق بوائے فرینڈ اور دیگر قریبی رشتہ دار ہوا کرتے ہیں۔بعض رپورٹس کے مطابق ہر سال%35 عورتیں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔کچھ نے تو اسے %70بتایا ہے۔ 20.9میلین جبری مزدوری کر رہے لوگوں میں%55 عورتیں اور لڑکیاں ہیں۔اسی طرح 4.5میلین لوگ جو زبردستی قحبہ خانوں میں ڈھکیلے گئے ہیں ان میں%98 لڑکیاں اور عورتیں ہیں۔
2011/12کی ایک رپورٹ کے مطابق یورپ میں%7.3 یعنی 1.2میلین عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔%31یعنی 5میلین عورتیں16 سال کی عمر میں گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں۔اسی طرح ایک ہفتے میں دو عورتیں اوسطاً شوہر کی طرف سے یا سابق شوہر کی طرف سے قتل کر دی جاتی ہیں۔%40سے%70 کے بیچ کناڈا،آسٹریلیا،ساوتھ افریقہ ، اسرائیل اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں عورتیں اپنے پاٹنروں کے ذریعہ قتل کی جاتی ہیں۔عالمی ادارہ صحت WHO کے مطابق عالمی سطح پر% 38 عورتیں قتل ہوئیں جن کو ان کے پاٹنر یا ایکس پاٹنر کی طرف سے قتل کیا گیا تھا۔زبردستی شادی کیے جانے پر 1,468 لڑکیوں کی موت کے واقعات ہوئے۔
ہندوستان کی صورتِ حال
خواتین پر تشدد میں ہندوستان کازامبیا کے بعد دنیا میں دوسرا نمبر ہے۔رینکا چودھری کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی%70 عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔
نیشنل کرائم برانچ کی رپورٹ کے مطابق ہر 3 منٹ پر ایک عورت پر کسی نہ کسی ظلم کی وجہ سے کیس درج کیا جاتا ہے۔ہر29 منٹ پر ایک عورت سے جنسی زیادتی کی جا تی ہے۔ہر 60منٹ پر ایک عورت جہیز کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہے اور ہر 9منٹ پر ایک عورت سے اس کے شوہر یا شوہر کے رشتہ داروں کی طرف سے تشدد کیا جاتا ہے۔ %7.5عورتیں ذہنی تشدد کی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ان میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں طرح کی عورتیں شامل ہیں لیکن زیادہ تر شادی شدہ عورتیں ہی اس کا شکار ہوتی ہیں۔
نیشنل کرائم برانچ کی رپورٹ2012 کے مطابق خواتین کے خلاف کل2,44,270 کیسز سامنے آئے۔2011میں ان کی تعداد2,28,650 تھی۔یعنی اس میں%6.4 کا اضافہ ہوگیا۔ان میں شوہر اور اس کے رشتہ داروں کی طرف سے بیوی پر تشدد کے%43.6،عورت کی عصمت پر حملہ کرنے کے%18.6،اغوا کے%15.7،جنسی زیادتی کے%10.2،عورت کی بے عزتی کرنے کے%3.8،جہیز کی وجہ سے استحصال کے%3.7،جہیز کی وجہ سے موت کے%3.4 ،عورتوں اور لڑکیوں کی اسمگلنگ کے%01.0 اور عورتوں کے خلاف دیگر جرائم کے%0.1 واقعات ہوئے۔
ریاستوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو آسام%89.54،تری پور%86.95،ویسٹ بنگال%70.30، دہلی%69.75، آندھراپردیش%66.05،راجستھان%63.75،کیرلہ%61.21،اڑیسہ%58.79،جموںکشمیر%58.60 اور ہریانہ %50.31 کے ساتھ سرِفہرست رہے۔
گھریلو تشدد کے اسباب
شوہر اور اس کے رشتہ دار ، بیوی نام کی گھر میں موجود ہستی پر صدیوں سے ظلم کرتے آئے ہیں۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے ۔اس کی مختلف وجوہا ت ہیں۔ 1979 میں ہوئی ایک ریسرچ سے پتہ چلا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ’ان چاہا حمل‘ ہے۔(NIHFW survey 1979)
1995 کی رپورٹ کے مطابق تشدد کی ایک بڑی وجہ شوہر کے ماں باپ تھے کہ گھر میں کس کی چلے گی؟2004 کے سروے میں شوہر کا کم پڑھا لکھا ہونا ،شراب اور دیگرمنشیات کی لت وغیرہ کو بنیادی اسباب میں سے بتایا گیا ۔
2000 میں’ اسکول آف سوشل سائنس‘ ، جے این یو کے ہریہر ساہو نے گھریلو تشدد پر ریسرچ کی۔ان کے مطابق اس کی مختلف وجوہات ہیں: شوہر کا بیوی کودھوکہ باز سمجھنا، بیوی کے گھر سے پیسے اور تحفے کا نہ آنا، بیوی کاساس اور سسر کی عزت نہ کرنا، شوہر کو بنا بتائے بیوی کا باہر چلے جانا، بیوی کا گھر اور بچوں کی ذمہ داری نہ لینا، بیوی کا کھانا ٹھیک سے نہ بناناوغیرہ ۔دیگر وجوہات میں تعلیم کی      کمی ،گھر میںسر پرست افراد کی جاہلیت اور حقوق نسواں سے بے اعتنائی، غر بت و افلاس ،لڑ کی اور لڑ کے کی مر ضی کے خلا ف شا دی جو کہ گھر یلو نا چا قی کا سبب بنتی ہے،آپسی حقو ق سے نا وا قفیت،بے جا پابندی ،اسلا م سے دوری اور تقو ی کا خا تمہ،عورتوں کو فر ما ں بر داراور مطیع بنا نے کی خو ا ہش،غیر ا خلاقی قو ا نین کی تائید چاہنا اورشک کی بنا پر تشد د کرنا وغیر ہ وغیرہ ہیں۔
ہندوستان میں گھریلو تشدد کے خلاف ایک بل پاس کیا گیا جس کا نام ’خانگی تشدد سے تحفظِ خواتین بل 2005‘رکھا گیا ۔لیکن اس کا ایک نقصان دہ پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ اس کا استعمال آپسی رنجشوں کی وجہ سے بدلہ لینے،بلا وجہ مردوں کو ڈرانے دھمکانے،بلیک میل کرنے، انتقام لینے اوران میں خوف و ہراس پیدا کرنا وغیرہ میں ہو رہا ہے۔
گھریلو تشدد کو بڑھاوا دینے میں کچھ حد تک عورتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔وہ سمجھتی ہیں کہ یہ مرد ذات کا حصہ ہے۔خصوصاً بر صغیرمیں اس طرح کا رجحان بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔UNICEFکی 2012کی رپورٹ میں% 57 لڑکوں اور%53 لڑکیوں نے جن کی عمر15سے19 کے درمیان تھی ،بیوی کو مارنا صحیح ٹھیرایا۔اسی طرح جارڈن اور افغانستان میں%90،مالی میں%87اور سینٹرل افریقن ریپبلک میں%80 عورتوں نے تشدد کو صحیح کہا۔
تشددکے نتیجے میں عورتوں کو جسمانی معذوری ، دائمی صحت کے مسائل،ذہنی بیماریاں ،محدود مالی حالت اور ناپائیدارتعلقات کا ہونا جیسے غیر معمولی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اس طرح کے ماحول میں پرورش پانے والے بچے بھی بڑے ہو کر اسی راہ کو اختیار کر لیتے ہیں اور وہ بھی تشدد کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 750,000بچے بچیاں گھریلو تشدد کے گواہ ہیں ۔اس سے ان کے اندر مایوسی،جارحانہ رویہ،تشدد پسندی،جرائم پسندی کے رجحانات پیدا ہو تے ہیں۔
اسلام کا نظریہ
یورپ نے گھریلو تشدد کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مختلف کوششیں کی ۔انہوں نے عورتوں کو ’خود مختار‘بنایا،ان کو ہر طرح کے ’حقوق‘ عطا کیے اور ان کو مکمل ’آزادی‘ دے دی گئی حتی کہ انہیںان کے والدین،بھائی ،شوہر اور اولاد سے بھی آزاد کر دیا گیا۔لیکن ان تمام تدابیر سے بھی گھریلو تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اسلام نے گھریلو تشدد کا صحیح حل پیش کیا ہے۔اس نے عورت اور مرد کے سامنے ایک ایساخاندانی نظام دیاجس میں دونوں کی فطرت کا خیال رکھا گیا اور دونوں کو ایک دوسرے کا مددگار اور رفیق بنایا۔جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
 و المومنون و المومنٰت بعضھم اولیاءبعض۔(التوبة:71)
مومن مرد اور مومن عورتیں،یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔
اسی طرح اس نے دونوں کے دائرہ کار متعین کر دیے اور اسی کے مطابق انہیں ذمہ داریوں سے نوازا ،ساتھ ہی واضح کر دیا کہ ہر کوئی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے اور اس سے اسی کے مطابق باز پرس کی جائے گی۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الا کلکم راع و کلکم مسﺅل عن رعیتہ،فالامام الذی علی الناس راع و ھو مسﺅل عن رعیتہ،والرجل راع علی اھل بیتہ و ھو مسﺅل عن رعیتہ،والمراة راعیة علی اھل بیت زوجھا و ولدہ و ھی مسﺅلة عنھم۔(بخاری:7138)
آگاہ ہو جاو، تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔پس امام(امیر المومنین)لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بار ے میں سوال ہوگا۔
ساتھ ہی اسلام نے مردوںکو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے،ان کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے اور معاف کرنے کی تاکید کی ۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے:
وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسیٰ ان تکرھوا شیئا و یجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا۔(النسا:19)
ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔
                      متعدد احادیث میں بھی عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کی ہدایت دی گئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خیرکم خیرکم لاھلہ و انا خیرکم لاھلی و اذا مات صاحبکم فدعوہ۔(الترمذی:1828)
تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہواور میں ،تم میں سے سب سے زیادہ اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوںاور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اسے چھوڑ دو یعنی اسے برائی سے یاد نہ کیا کرو۔
اسی طرح آپ نے ایک اور جگہ فرمایا:
اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقاً وخیارکم خیارکم لنسائھم۔(الترمذی:1161)
مسلمانوں میں سے کامل ترین ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے بہتر ہے اور تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔
ساتھ ہی اسلام نے مردوں کو عورتوں پر تشد د کرنے سے بھی واضح الفاظ میں منع کر دیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا یجلد احدکم امراتہ جلد العبد ثم یجامعھا فی آخر الیوم۔(بخاری:5204)
تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے کہ پھردوسرے دن اس سے ہم بستر ہوگا۔
اسلام میں کہا گیا کہ شوہر بیوی کو کسی طرح کی چوٹ نہ پہنچائے،اس کا خون نہ بہائے، اسے مار ے نہیں اور نہ ہی بیوی کے جسم کا کوئی حصہ توڑے۔
ایک دفعہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بیوی پر شوہر کے کیا حقوق ہیں؟آپنے فرمایا: ”جب توکھانا کھائے تو اسے بھی کھلائے، لباس پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کے منہ پر نہ مارے نہ برا کہے، بات چیت بھی صرف گھر کی حد تک کرے“۔        (ابو داد)۔
اگرچہ قرآن کریم میں بعض حالات میں بیوی کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس میں بھی پہلے سمجھانے، پھر نفسیاتی طریقے سے متنبہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔اس کے بعد بھی نہ سمجھیں تب کہیں جا کر ضرورت بھرمارنے کی اجازت دی ہے لیکن اس کو بھی ناپسند کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
فالصٰلحٰت قٰنتٰت حٰفظٰت للغیب بما حفظ اللہ و الٰتی تخافون نشوزھن فعظوھن و اھجروھن فی المضاجع و اضربوھن فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلاً ان اللہ کان علیّا کبیرا۔(النسا:34)
پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاو۔خواب گاہوں میں ان سے علاحدہ رہو اور مارو،پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے نہ تلاش کرو،یقین رکھو کہ اوپر اللہ تعالی موجود ہے جو بڑا اوربالاتر ہے۔
اس طرح سے اسلام نے گھریلو تشدد کا راستہ بند کر دیا ہے۔٭٭٭٭










Sunday, 8 June 2014

(Childs growing trend towards crimes) بچوں کا جرائم کی طرف تیزی سے بڑھتا رجحان



اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں لیکن جب وہی بچے غلط راہ روی اختیارکرلیں تو معاشرے کے لیے بڑی فکر کی بات ہو جاتی ہے۔موجودہ زندگی کا جائزہ لیاجائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی کی اس دوڑمیں ہر انسان آگے بڑھنا چاہتا ہے، خوب سے خوب تر روپیہ پیسہ کمانا چاہتا ہے تاکہ عیش وآرام کی زندگی بسر کرسکے۔
اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں بڑوں کے ساتھ بچے بھی عیش وآرام کی زندگی چاہتے ہیں لیکن اسکول جانے والے بچوں کو جب والدین زیادہ جیب خرچ نہیں دے پاتے تو وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے برائیوں کی ساری حدوں کو پار کر جاتے ہیں۔اس میں قصور والدین کانہیں ،بلکہ ان بچوں اور نوجوان نسل کا ہے جو اپنے عیش وعشرت کی خاطر جرائم اوربرائیوں کی طرف تیزی سے راغب ہوتی جارہی ہے۔
 مادیت کے اس دورمیں کچھ کر گزرنے کا جذبہ تو نئی نسل میں سرچڑھ کر بول رہا ہے لیکن انسانی اقدار، پاکیزہ روایات کا تصور ، مفاہمت ، مصالحت ، رواداری ،حلم و برد باری ، قربانی اور اصول وضوابط وغیرہ ان کی طرزِ زندگی سے نکلتے جارہے ہیں۔جس کی وجہ سے یہ نسل بے راہ روی کا شکار ہوکربے شمار برائیوں ، مفاد پرستی اور جرائم کی وادیوں قدم رکھ دیتی ہے ، جہاں نہ والدین کا پاس و لحاظ ہوتا ہے اور نہ ہی قوم وملت کا خیال رہتا ہے۔ بس اپنی زندگی کے لمحات کو حسین اور پر لطف بنانے کے لیے کسی بھی حد تک گزرجانے پر ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔
موجودہ دور میں بچے بچیاں اپنی خواہشات کی تکمیل میں کس حد تک جا سکتے ہیں اس کا اندازہ یورپ میں ہونے والے مختلف واقعات سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے۔
٭سولہ سالہ ایرین کیفی(Erin Caffey) نے مارچ2008 میں اپنی پوری فیملی یعنی والدین اور دو چھوٹے بھائیوں کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر صرف اس لیے قتل کر ڈالا کہ انہوں نے اسے بوائے فرینڈ کے ساتھ باہر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔
٭چودہ سالہ جوشو ااسمتھ(Joshua Smith) نے اپنی ماں کو صرف اس بات پر گولی مار دی کہ وہ اسے دیر رات تک گھر سے باہر رہنے اور گرل فرینڈ کو گھر پر لانے سے منع کرتی تھیں۔
٭پندرہ سالہ نیہما گریگو(Nehemiah Griego) نے جنوری2013 میں صرف اس لیے اپنے والدین،بھائی اور دو بہنوں کو رائفل سے بھون ڈالا کہ ماں نے اسے روپئے دینے سے منع کر دیا تھا۔
 یہ چند نمونے ان ’تہذیب یافتہ ممالک‘ کے ہیں جن کی تقلید کرنے میں ہم لوگ فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔اس کے علاوہ یورپ کی صورتِ حال یہ ہے کہU.S Census Bureau کی 2010کی رپورٹ کے مطابق1.3 میلین بچے بچیوں پر کسی نہ کسی جرم کے مرتکب پائے جانے کی وجہ سے مقدمہ چل رہا ہے۔
خود ہمارے ملک ہندوستان میں بھی بچوں کی صورتِ حال کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔یہاں بھی نابالغوں کے ذریعہ عورتوں اورلڑکیوںسے جنسی زیادتی،چھیڑ چھاڑ،تفریحاً کار میں اغوا کر کے لے جانا،موبائل اور دیگر تفریح کے لیے پیسہ چرانا،لوٹ مار کرنا،جیب کاٹنا،عورتوں کے گلوں سے زنجیر چھیننا وغیرہ جیسے جرائم انجام دیے جاتے ہیں۔
نیشنل کرائم برانچ کی2011 کی رپورٹ کے مطابق I.P.C(Indian Penal Code)کے تحت نابالغوں کی طرف سے ہونے والے کیسز کی تعداد25,125تھی۔جب کہ2010میں ان کی تعداد22,740تھی۔یعنی اس میں٪10.5 اضافہ ہوا۔اس میں جنسی زیادتی کے ٪34،جہیز کی وجہ سے موت کے٪63.5 ،اغوا کے ٪53.5،چوری کے٪21.17،مار پیٹ کر زخمی کرنے کے٪16.3،نقب زنی کے٪10.38،جعل سازی کے٪81.8اورآتش زنی کے٪57.6 کیسیز ہوئے۔ اسی طرح 2011میں S.L.L(Special Local Laws)کے تحت نابالغوں کی طرف سے ہونے والے کیسز کی تعداد2,837 تھی۔ 2010میں ان کی تعداد 2,558تھی۔یعنی اس میں بھی ٪10.9کا اضافہ ہوا۔ اسی رپورٹ کے مطابق نابالغوں کی طرف سے جنسی زیادتی جیسے گھناونے جرم میں٪188،لوٹ مار میں٪200اورلڑکیوں کے اغوا میں٪660 کا اضافہ ہوا ہے۔
نیشنل کرائم برانچ کی 2011کی رپورٹ کے مطابق کل 33,887نابالغ بچے مختلف جرم میں پکڑے گئے۔جن میں 31,909بچے اور1,978 بچیاں تھیں۔ان میں سے 30,766یعنی٪90.7 I.P.C کرائم کے تحت اور3,121 یعنی٪9.3 S.L.L کرائم کے تحت گرفتار ہوئے۔ان میں سے 21,657بچوں کی تعداد ایسی تھی جن کی عمر 16سے 18سال کے درمیان تھیں۔11,019بچوں کی عمر12سے16 سال تھی اور 1,211بچوں کی عمر7سے 12سال تھی۔خود دہلی میں ہی 925بچے مختلف جرم میں گرفتار کیے گئے جن میں سے567 بچے16 سے 18سال کی عمر کے تھے۔
بات اگر ریاستوں کی ہو تو نیشنل کرائم برانچ کی2011 کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹرا6,417(٪20.9) ،مدھیہ پردیش5,495(٪17.9)،راجستھان2,445(٪7.9)،آندھراپردیش2,424(٪7.9)،چھتیس گڑھ2,178 (٪7.1) اور گجرات1,968(٪6.4) کیسز کے ساتھ سرفہرست رہے۔ان تمام اعداد و شمار سے ہمیں بال سدھارک گھر اور ریمانڈ گھروں کی ناکامی کا بھی پتا چلتا ہے جہاں نابالغوں کو اصلاح کی غرض سے رکھا جاتا ہے۔
بچوں کا جرائم کی طرف مائل ہونے کے مختلف اسباب
ٹوٹے بکھرے ہوئے طلاق زدہ گھر،بے باپ کے گھر،گھریلو تشدد اور بدسلوکی ،جائز ناجائز خواہشات کی تکمیل کی خواہش،ٹی وی ، کمپیوٹر،موبائل اور انٹرنیٹ اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دیگر اسباب درج ذیل ہیں:
فیملی بیک گراونڈ
گھر کا ماحول،والدین کی سرگرمیاں،بچوں کے ساتھ ان کا برتاو،معاشی حالت،تعلیمی لیاقت اورحلال کمائی کا خیال نہ کرنا وغیرہ بچوں کا مستقبل طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر یہ تمام چیزیں ناموافق ہوں تو زیادہ تربچے جرائم کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔اس لیے ان پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
عمر کا مسئلہ
انسان اس وقت تک جرم نہیں کرتا جب تک اسے خوف رہتا ہے کہ اگر اس نے یہ جرم کیا تو اسے یقیناًسزا ملے گی لیکن جیسے ہی خوف ختم ہوجاتا ہے وہ جرم کرنا شروع کردیتا ہے۔ یہاں کا قانون ایسا ہے کہ 18سال سے کم عمر کا آدمی’ بچہ‘ ہے، خواہ وہ کتنا ہی سنگین جرم ہی کیوں نہ کرے ،کیوں کہ قانون کی نظر میں بلوغت کی عمر18 سال ہے۔(حالاں کہ بر صغیر کی آب و ہوا میں عموماً 11 سے 13 سال کی عمر میں بچے اور بچیاں بالغ ہو جاتے ہیں)اس سے کم عمر والے بچے خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا نابالغوں کے زمرے میں شمار کیے جاتے ہیں،اس لیے ان کو سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ البتہ ان کو اصلاح کے لیے بال سدھارک یا اصلاحی گھروں اورتنظیموں کے حوالے کر دیا جاتا ہے لیکن اس سے بچوں میں قانون کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور وہ بے خوف ہو کر جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔دسمبر 2012 کے ’دامنی‘ والے کیس میں بھی سب سے فعال لڑکے کی عمر 17 سال 6 مہینہ تھی۔یعنی قانون کی نگاہ میں وہ نابالغ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کم زور قانون اورسست عدالتی نظام کے باعث وارداتیں کرنے والے لڑکے جانتے بوجھتے جرم کرتے ہیں اور اپنی کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جلد عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ بچے رہا ہونے کے بعد دوبارہ وارداتیں شروع کر دیتے ہیں۔ اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
تعلیم
بچوں کو جرائم کی دنیامیں جانے سے روکنے میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن تعلیم سے میری مراد عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی و اخلاقی تعلیم بھی ہے۔موجودہ تعلیمی نظام میں مذہبی و اخلاقی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔یہی وجہ ہے کہ جتنے کرپشن، جرائم، لوٹ کھسوٹ، فراڈ اور بد اعمالیاں پڑھے لکھے افراد کرتے ہیں، ان پڑھ افراد اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آج جو لوگ طرح طرح کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہیں، ان کی اکثریت اسکولوں اور کالجوں سے’ تعلیم یافتہ‘ ہی ہو کر نکلی ہے۔
نیشنل کرائم برانچ کی2011 رپورٹ کے مطابق کل33,887نابالغ مجرم بچوں میں سے6,122(٪18.1)بچے ناخواندہ تھے۔12,803(٪37.8)بچے ابتدائی تعلیم حاصل کیے ہوئے تھے۔٪31بچے ابتدائی تعلیم سے زیادہ مگر ثانوی تعلیم سے کم پڑھے ہوئے تھے۔٪13.11بچے ثانوی تعلیم یا اس سے زیادہ تعلیم حاصل کیے ہوئے تھے۔
ان اعداد و شمار سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم سے فرق پڑتا ہے ۔لیکن ضروری ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاق و اقدار بھی سکھایا جائے اوران کے اندر رشوت خوری سے نفرت اور حرام و حلال کی تمیز کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ ان کے دلوں میں تدریس کے ذریعے جھوٹ، دھوکے دہی، فریب، خود غرضی، نفس پرستی، چوری، جعل سازی، بدعہدی، خیانت، شراب،سود، قمار بازی، ظلم، ناانصافی اور لوگوں کی حق تلفی سے سخت نفرت پیدا کی جائے تاکہ ان میں صداقت و دیانت، امانت و پاس عہد، عدل و انصاف، حق شناسی ، ہمدردی و اخوت، ایثار و قربانی، فرض شناسی اور پابندی حدود اور سب سے بڑھ کر ظاہر اور باطن ہر حال میں اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔
معاشی کم زوری
معاشی کم زوری،طبقاتی فرق،غربت اور بے روزگاری وغیر ہ بھی بچوں کو جرائم کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔بعض حالات میں یہ پیٹ سے مجبورہو کر چوری،لوٹ مار اور ڈاکہ زنی جیسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔نیشنل کرائم برانچ کی2011 کی رپورٹ کے مطابق ٪57مجرم بچوں کا تعلق ایسے غریب خاندان سے تھا جن کی سالانہ آمدنی 25,000تھی۔٪27مجرم بچوں کا تعلق ایسی فیملی سے تھا جن کی سالانہ آمدنی25,000 سے50,000تک تھی۔٪11مجرم بچوں کا تعلق ان فیملی سے تھا جن کی سالانہ آمدنی50,000 سے2,00,000 تک تھی۔ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں معاشی کم زوری کی وجہ سے بھی بچے جرائم کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
ہم عمر ساتھی اور ماحول
گھر کے آس پاس اور محلہ کا ماحول،پڑوسیوں اور ہم عمر دوستوں کا ساتھ بھی بچوں کی سوچ اور ان کی مشغولیات پر اثر انداز ہوتا ہے اور وہ بھی دیکھا دیکھی جرائم کی راہ پر چل پڑتے ہیں ۔اس لیے ان کو جہاں تک ممکن ہو سکے اچھا ماحول مہیا کرایا جائے اور صحیح دوستوں کا انتخاب کرنے کی نصیحت کی جائے۔
الکوحل اور دیگر نشہ والی چیزوں کا استعمال
عموما وہ بچے یا بچیاںزیادہ مختلف جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں جو نشہ کرتے ہیں ،خواہ وہ شراب کے ذریعہ ہو یا دیگر نشہ والی چیزوں کے ذریعہ ہو۔بسا اوقات ان کے حصول میں ناکامی کی صورت میں بھی وہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔واضح رہے کہ نشہ کئی طرح کا ہوتا ہے۔ ہر مہینہ دو مہینہ پرنت نئے اسمارٹ فون ،ٹیبلیٹ،بائیک اورکار خریدنایا گرل فرینڈ بنانا اور ان کو’ متاثر‘ کرنے کے لیے ان پرخرچ کرنا بھی ایک طرح کا نشہ ہی ہے۔ظاہر ہے ان سب کے لیے زیادہ پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے چناں چہ بچے ’شارٹ کٹ‘ کی راہ اختیار کر کے زیادہ پیسہ کمانے کے چکر میں مختلف جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ ان تمام چیزوں پر والدین کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال
حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ دور میں ٹی وی، موبائل اورانٹرنیٹ نے بچوں میں جرائم کو بڑھاوا دےنے میں اہم کردار نبھایا ہے۔امریکہ میں بچے ایک ہفتہ میں اوسطاً 40گھنٹے ٹی وی کے آگے اپنا وقت گزارتے ہیں۔اس سے بچے بچیوں میں دماغی بیماریاں،آنکھ کی روشنی کا کم ہونا،سر درد،چڑچڑاپن اور تشدد کی راہ اختیار کرنا جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ٹی وی پر تشدد کے حامل پروگرام کے اثرات کی مثال امریکہ میں اوہیو ریاست کی ہے جہاں پانچ سالہ بچے نے ماچس سے بستر کو جلا دیا جس سے اس کی تین سالہ بہن بھی جل کر مر گئی۔اس نے یہ عمل Beavis And Butthewsنامی فلم دیکھنے کے فوراًبعد کیا تھا۔اسی طرح The Three Stoogesدیکھ کر ایک بچے نے اپنے سگے بھائی کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔
انٹرنیٹ نے بھی بچوں کو جرائم کی طرف ڈھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سماجی رابطہ کی ویب سائیٹس میں سے سرفہرست فیس بک ہے جسے بچوں اورنوجوانوں میں بے حد مقبولیت ملی ہے۔ فیس بک استعمال کرنے والوں کی ریکارڈ ساز بڑھتی ہوئی تعداد کی بدولت بچوں میں اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے جھوٹ، ڈکیتی،جنسی زیادتی، فراڈ،جعل سازی،سائبر کرائم سمیت دیگر جرائم جنم لے رہے ہیں۔
انٹرنیٹ سے متعلق ’اوپٹی نیٹ‘ کی 2010 کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کا تقریبا% 37 حصہ فحش اور عریاں مواد پر مشتمل ہے اور حالیہ برسوں میں ایسی ویب سائٹوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب بچوں کی ان تک اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے رسائی بہت آسان ہو چکی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایک ماہ کے دوران صرف ایک فحش ویب سائٹ کو 112,000 بچوں نے دیکھا جن کی عمریں 12 سے 18 برس کے درمیان تھیں۔ان تمام چیزوں کو دیکھنے سے ان میں اخلاقی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر وہ جرائم کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی طرف توجہ دیں اپنی زندگی کے کاموں میں اس قدر مصروف نہ ہوجائیں کہ آپ کے بچے جرم اور برائی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں۔والدین کی پیار بھری نگاہ اور توجہ ان بچوں کو نہ صرف برائی کے راستوں سے دور لے جاتی ہے بلکہ ان کے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے میں کافی معاون ثابت ہوگی۔ ٭٭٭٭