Monday, 19 May 2014

(The Biggest Library of India- National library Kolkata) ہندوستان کی سب سے بڑی لائبریری-نیشنل لائبریری کلکتہ-ایک تعارف

 اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی
لائبریری کی تعریف
لائبریری کے لیے کتاب گھر،کتب خانہ،گنتھ گار وغیرہ لفظوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔قدیم عربی زبان میں کتب خانہ کو خزائن کتب کہا جاتا تھا۔جدید عربی وفارسی میں اسے دارالکتب یا کتب خانہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
 مغربی ممالک میں کتب خانوں کے لیے کئی الفاظ مستعمل ہیں۔لاطینی زبان میں "Libraria"لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو رومن میں لفظ "Liber"سے ماخوذ ہے۔جرمن میں "Bibliothik"(ببلیو یعنی کتاب+ تھک یعنی الماری یا صندوق)،اسپینش میں"Bibliotheck" اور فرنچ میں"Bibliotheque" لفظ اس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
لائبریری کی جدید تعریف (جس کا پہلا لفظ’لائبر‘لاطینی ہے اور جس کے معنیٰ کتاب کے آتے ہیں)پڑھنے اور تحقیق کرنے یا دونوں مقصد کے لیے باقاعدہ کسی ایک جگہ کتب اور مخطوطات کو اکٹھا کرنا ہے۔باقاعدہ اکٹھا کرنے کے نظام میں پیچیدہ کیٹلاگنگ کرنا،اشارے اور دیگر کاغذات،شعبہ جلد سازی،دفاتر اور بڑے عملے سے لے کر سادہ فہرست والا شخصی کتب خانہ سب ہی اس میں شامل ہیں۔(Arthasastra.Ed.Shamasastry,P.62)
لائبریری کی تاریخ
اگر کتب خانوں کی تاریخ کی بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ جب انسان نے لکھنا پڑھنا شروع کیا تو لکھنے پڑھنے کی چیزوں کو بھی اس نے حفاظت سے رکھنے کی کوشش کی۔انسان کی اسی کوشش نے کتب خانوں کو جنم دیا۔
کتب خانہ ایک سمندر ہے جس میں ہر قسم کی کتابیں رہتی ہیں۔اس میں سے پڑھنے والے اپنی دلچسپی کا مواد کھوج نکالتے ہیں اور یہاں دقیق سے دقیق اور ہلکی سے ہلکی دلچسپی والی کتابیں موجود رہتی ہیں جس سے قارئین اپنی ضرورت اور دلچسپی کے مطابق استفادہ کرتے ہیں۔
مشہور فلسفی ایمرسن (1803–1882)کا کہنا ہے کہ:
اچھی کتاب مثالی دوست اور سچا ساتھی ہے جو ہمیشہ سیدھے راستے پر چلنے کی صلاح دیتا ہے۔ایک عالم کے مطابق کتابوں کا پیار ہی انسانوں کو اپنے خالق کے پاس پہنچانے والا جہاز ہے“۔
مشہور فلسفی سقراط(470/469 BC–399 BC)کہتا ہے:
”                 جس گھر میں اچھی کتابیں نہیں ہیں وہ گھر حقیقتاً گھر کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔وہ تو زندہ مُردوں کا قبرستان ہے“۔
الغرض یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ کتب خانہ نہ صرف تعلیمِ عامہ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ایک ایسا ہتھیار بھی ہے جس سے جہالت کی ظلمت کو دور کر کے علم کی روشنی پھیلائی جا سکتی ہے۔فرد کو تعلیم یافتہ بنا کر سیاسی بے داری لانے میں کتب خانہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
نیشنل لائبریری کلکتہ کی تاریخ
انیسویں صدی کے نصف اول کو موجودہ لائبریری تحریک کا آغاز کہا جاسکتا ہے۔اس دور میں یوروپین باشندوں کے تعاون سے کلکتہ،مدراس اور ممبئی میں عوامی کتب خانے قائم کیے گئے۔
کلکتہ میں1836 میں’کلکتہ پبلک لائبریری‘ کے نام سے پہلا عوامی کتب خانہ کھولا گیا۔اس کے بانی مسٹر جے ایچ اسٹاکیولر تھے جنہوںنے اس کے قیام کے لیے بڑی جدوجہد کی تھی۔
/26اکتوبر1836 میں کلکتہ کے شہریوں کا ایک اجلاس ٹاون ہال میں منعقد ہوا۔جس میں اتفاق رائے سے مندرجہ ذیل تجویز پاس ہوئی:
یہ ضروری ہے کہ کلکتہ میں ایک پبلک لائبریری قائم کی جائے جو حوالہ جاتی خدمات بھی انجام دے اور کتابیں بھی مستعار دے۔یہ لائبریری بلاکسی امتیاز سب کے لیے ہو اور ہر شعبہ میں وافر تعداد میں کتابیں ہوں تاکہ قوم کی ضروریات پوری ہو سکیں“۔
اسی تجویز کے نتیجے میں کلکتہ پبلک لائبریری وجود میں آئی لیکن ابتدا میں یہ صرف سرکاری ملازمین کے استعمال تک ہی محدود رہی۔بعدمیں اس کو عوام کے لیے بھی کھول دیا گیا۔لائبریری کے فنڈ کے لیے طے پایا کہ اگر کوئی شخص تین سو روپئے یک مشت یا تین قسطوں میں ادا کرے تو اسے لائبریری کا مالک تصور کیا جائے گا۔
شہزادہ دوارکا ناتھ ٹیگور نے تین سو روپئے یک مشت جمع کر کے اپنا نام اول مالک کی حیثیت سے تاریخ میں درج کرا لیا۔اس کے علاوہ تین قسم کے اور ممبر تھے جو فیس داخلہ اور چندہ ادا کر کے ممبری حاصل کر سکتے تھے۔غریب طالب علموں کے لیے مفت استفادے کی اجازت تھی۔
لارڈ میڈ کاف (Lord Metcalf,1785–1846)جو اس وقت گورنر جزل کے عہدے پر فائز تھے،انہوں نے4675 کتابیں فورٹ ولیم کالج سے کلکتہ پبلک لائبریری کو دیں۔یہ اور اس طرح کی دوسری انفرادی طور پر ملنے والی کتابیں ہی اس لائبریری کا سرمایہ ہیں۔اس لائبریری کے لیے ہندوستانی اور غیر ملکی خصوصاً برطانوی کتابوں کو خریدا گیا اور لگاتار اس میں انفرادی طور سے اور حکومت کی طرف سے بھی کتابیں آتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہاں پر کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے جس میں بہت سی نادر اور کتابیں اور رسائل و جرائد بھی ہیں۔
امپیریل لائبریری کا قیام
1891میں کلکتہ میں کئی ساری سکریٹریٹ لائبریریوں کو ملا کر ایک لائبریری بنائی گئی جس کا نام امپیریل لائبریری رکھا گیا۔ان لائبریریوں (جن کو ملایا گیا تھا)میں سے ایک اہم لائبریری ’ہوم ڈپارٹمنٹ‘ کی لائبریری تھی،جس میں بہت ساری کتابیں فورٹ ولیم کالج اور ایسٹ انڈیا بورڈ لندن کی لائبریری سے لائی گئیں تھیں۔اس لائبریری کو گورمنٹ کے بڑے آفیسرز ہی استعمال کر سکتے تھے۔
کلکتہ پبلک لائبریری اور امپیریل لائبریری کا امتزاج
1903میں ہندوستان کے گورنر جزل لارڈ کزن(Lord Curzon,1859–1925) کو عوام کے لیے ایک لائبریری کھولنے کا خیال آیا اور اس نے محسوس کیا کہ کلکتہ پبلک لائبریری اور امپیریل لائبریری سے کما حقہ استفادہ نہیں کیا جارہا ہے اور اس کی وجہ جگہ کا تنگ پڑنا اور بعض دوسری رکاوٹیں ہیں تو انہوں نے ان دونوں لائبریریوں کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا۔اسی امتزاج شدہ لائبریری کا نام ’امپیریل لائبریری‘رکھا گیا،جس کو کلکتہ میں/30 جنوری1903 میں میڈ کاف ہال میں عوام الناس کے لیے کھول دیا گیا۔یہ وہی میڈکاف ہال ہے جس میں پہلے گورنر جزل ویلینگٹن(Wellington,1769 –1852)،کراون ولس(Cron Wallis) اور وارن ہیسٹنگ(Warren Hastings,1732–1818) رہا کرتے تھے۔
اس نوزائیدہ لائبریری سے وابستہ توقعات کو ملّی گزٹ آف انڈیا نے کچھ اس طرح سے بیان کیا:
یہ سوال کہ ہندوستان میں ایک ایسی امپیریل لائبریری قائم کی جائے جہاں عوام بھی جا سکیں،گورنر جزل کی توجہ کا مرکز عرصہ سے بنا ہوا تھا۔وہ اس بات کو بھی دیکھ رہے تھے کہ اس ملک میں طالب علموں کے لیے تحقیق کاکام کرنے کی سہولتیں بے حد کم ہیں۔کلکتہ کی امپیریل لائبریری جو ابھی چند سال پہلے سکریٹریٹ کی متعدد لائبریریوں کو ملا کر بنائی گئی ہے ان مقاصد کے لیے بہت کار آمد ثابت ہوئی۔اسی وجہ سے لائبریری سے فائدہ اٹھانے والے حضرات کی تعداد میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔
موجودہ امپیریل لائبریری اس نئے ادارے کی بنیاد بنے گی جس میں عام و خاص کے لیے مطالعہ کے بڑے ہال ہوں گے جیسے برٹش میوزیم اور یوڈ پلین لائبریری میں ہیں۔
ارادہ ہے کہ اس لائبریری میں حوالہ جاتی کام کی سہولت ہو۔طلبہ کے لیے مطالعہ کا انتظام ہو اور یہ لائبریری ہندوستان کے مستقبل کے مورخوں کے لیے مواد فراہم کرے۔یہاں حتی الامکان ہر وہ تصنیف ہو گی اور پڑھی جا سکے گی جو ہندوستان کی تاریخ کے موضوع پر لکھی گئی ہو“(بمل کماردت،ہندوستان کے زمانہ قدیم و وسطیٰ کے کتب خانے ص(103)
امپیریل لائبریری میں بے شمار بیش قیمتی اکتسابی تھیں جو اب بھی نیشنل لائبریری میں موجود ہیں۔اس کتب خانے میں قرآن کریم کا ایک نایاب اور بیش قیمتی نسخہ بھی موجودہے جسے افغانستان کے امیر کو فارس کے شاہ نے تحفةً دیا تھا۔اس نسخے کی قیمت اس وقت چھ لاکھ روپئے تھی۔اس میں سونے کے کاغذہیں ساتھ ہی لعل اور ہیرے جیسے بیش قیمتی جواہرات جڑے ہوئے ہیں۔
1953میں برٹش میوزیم لندن کے میک فریسن اس کے لائبریرین مقرر کیے گئے۔اس کے بعد اسداللہ خاں اس عہدے پر فائز رہے۔انہوں نے اس لائبریری کی سرپرستی میں لائبریری سائنس کی ٹریننگ کا کورس شروع کیا اور اس کے علاوہ آل انڈیا لائبریری ایسوسی ایشن بھی قائم کیا۔
امپیریل لائبریر ی کا مقصد اصلاً ریسرچ کا تھا اور اس کا اولین کام ہندوستانی زندگی کے تمام پہلووں پر روشنی ڈالنے والی کتابیں اور رسائل و جرائد وغیرہ کو اکٹھا کرنا تھا۔اگرچہ اس کا مقصد غیر ملکی حکام یعنی انگریزوں کو ہندوستان سے متعلق تمام معلومات کو جاننا اور حاصل کرنا تھا۔
امپیریل لائبریری -نیشنل لائبریری کلکتہ میں تبدیل
آزادی کے بعد ہندوستانی حکومت نے اس لائبریر ی کانام امپیریل لائبریری سے بدل کر نیشنل لائبریری رکھ دیا۔اس کتب خانے کو 1948کے اکیانوے(91) ایکٹ کے تحت ’نیشنل لائبریری کلکتہ‘ کے نام سے موسوم کیا گیا اور یکم فروری1953 میں اس کو عوام کے لیے کھول دیا گیا۔البتہ اس کو سپلاندے(Esplanade) سے بلودیر ریاست(Belvedere State) میں منتقل کردیا گیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد جو اس وقت ایجوکیشن منسٹر تھے،انہوں نے بی ایس کساوان (B.S.Kesavan,1909-2000)کو نیشنل لائبریری کا لائبریرین مقرر کیا۔یہ لائبریری ہندوستان کی سب سے بڑی لائبریری ہے جس میں2.2 میلین کتابیں موجود ہیں۔اس کا شمار ان چار لائبریریوں میں ہوتا ہے جہاں ڈیلیوری آف بک اینڈ نیوز پیپر (پبلک لائبریری)ایکٹ 1954کے تحت پبلشرز کو بلایا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان میں چھپنے والی کتابوں کی سپلائی کریں یا کسی بھی ملک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی کتابوں کو جو ہندوستان میں چھپی ہوں اور اس موضوع پر جن میں ہندوستانیوں کو دلچسپی ہو سکتی ہو کتابیں مہیا کرائیں۔
یہ ہندوستان کی واحد ایک ایسی لائبریری ہے جہاں ساری کتابیں،ایڈیشن اور سرکاری دستاویز موجود ہیں اور ہمیشہ ممکن الحصول بھی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پبلک لائبریری ایکٹ 1954-56کی ترمیم کے بعد اس کتب خانے میں ہر طرح کی کتابیں مفت حاصل ہونے لگیں کیوں کہ اس ایکٹ کے مطابق ملک میں شائع ہونے والی ہر اشاعت کی ایک کاپی ،جس میں اخبار و رسائل بھی شامل ہیں اس لائبریری میں جمع کرنا ضروری ہے۔اسی وجہ سے انڈین نیشنل ببلیو گرافی کی اشاعت بھی ممکن ہو سکی ہے۔
نیشنل لائبریری کلکتہ کے قیام میں پنڈت جواہر لال نہرو،گورنر جزل راج گوپالی اچاریہ اور وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔حکومت ہند کے وزارتِ تعلیم کو نیشنل لائبریری سپرد کرتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا:
میں ویل ویڈیئر کو صرف کتابیں جمع کرنے کے لیے نہیں چاہتا ہوں۔ہم اسے ایک دل کش مرکزی کتب خانے میں بدلنا چاہتے ہیں۔جہاں بہت سے طالب علم،تحصیل علم اور تحقیق کر سکیں اور جس میں کسی جدید کتب خانے کی ہر ایک سہولیات حاصل ہو سکے
نیشنل لائبریری کلکتہ ڈیپارٹمنٹ آف کلچر،منسٹری آف ٹورزم اینڈ کلچر اور گورمنٹ آف انڈیا کے ماتحت ہے۔اس کی دیکھ ریکھ اور ترتیب و تزئین کے لیے مختلف کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جو اپنا کام بحسن خوبی انجام دے رہی ہیں۔
نیشنل لائبریری کلکتہ کا محل وقوع
نیشنل لائبریری کلکتہ بلودیر اسٹیٹ (Belvedere State)میں واقع ہے،جو کلکتہ میں علی پور چڑیا گھر سے قریب ہے اور یہ سپلاندے(Esplande) سے 4 کلومیٹر،ہاوڈا اسٹیشن سے10 کلومیٹر اور نیتا جی سبھاش چندر بوس ہوئی اڈے سے20 کلومیٹر دور ہے۔سپلاندے ریڈنگ روم جہاں اخبارات کے مجموعے رکھے جاتے ہیں،کلکتہ کے سپلاندے ایسٹ میں واقع ہے جو راج بھون سے قریب ہے۔
نیشنل لائبریری کے مقاصد
  ٭قومی سطح پر چھپنے والے سارے اہم مواد کا حصول،بشمول عارضی چیزوں کے۔
  ٭ملک سے متعلق مطبوعات کو اکٹھا کرنا،صرفِ نظر اس سے کہ وہ کہاں سے شائع ہوئے ہیں۔
    ٭ان مواد کی فوٹو کاپی کا حصول جو ملک میں ممکن الحصول نہیں ہیں۔
٭ان مواد کا حصول جن کی ملک کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔
٭موجودہ اور ماضی کے تعلق سے مواد،دستاویز اور ببلیوگرافی وغیرہ کو فراہم کرنا۔
٭ایک مصدر اور مرجع کی حیثیت سے مختلف خدمات کی انجام دہی۔
٭محقق اور مصنف کو ہر ممکن مواد فراہم کرنا۔
نیشنل لائبریری کی دیگر معلومات
پتہ:    دی نیشنل لائبریری
        بلودیر،کلکتہ،انڈیا700027-
فون نمبر:        مین کیمپس:              +91-33-24791381+87
                سپلاندے ریڈنگ روم:    +91-33-22487831
                ڈائریکٹر کا نمبر:           +91-33-24792968
                لائبریرین کا نمبر:         +91-33-24792467
                فیکس نمبر:                       +91-33-24791462
                ای میل:                        nldirector@reddifmail.com
                ویب سائٹ:            www.nationallibrary.gov.in            
                                (http://www.nationallibrary.gov.in/)                                                       
نیشنل لائبریری کے اوقات
نیشنل لائبریری صبح9 بجے سے شام8 بجے تک کھلی رہتی ہے اور سنیچر،اتوار اور دوسری چھٹیوں میں صبح 9:30سے شام 6بجے تک ہی کھلتی ہے۔البتہ یہ لائبریری/26 جنوری،/15اگست اور/02 اکتوبر میں مکمل طور سے بند رہتی ہے۔دوسری چھٹیوں میںلینڈنگ روم ،مین بلڈنگ کا ریڈنگ روم،انیکس بلڈنگ،نئی انیکس بلڈنگ اور سپلاندے ریڈنگ روم ہی کو کھولا جاتا ہے،بقیہ سارے شعبے بند رہتے ہیں۔
نیشنل لائبریری کی ممبر شپ
18سال سے اوپر کا کوئی بھی شخص اس لائبریری کا ممبر بن سکتا ہے۔اس کے لیے مقرر کردہ فارم کو دو پاس پورٹ سائز فوٹو کے ساتھ بھرنا ضروری ہے اور یہ ممبر شپ مختلف شرائط کے تحت دی جاتی ہے۔ریڈنگ روم اور لینڈنگ سکشن سے استفادہ کے لیے ہر شخص کے پاس ممبر شپ کا ہونا ضروری ہے۔
فوٹو کاپی اور مائیکروفلم کی سہولت
قارئین یا کسی ادارے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے اس لائبریری میں فوٹو کاپی یا مائیکروفلم کی کاپی کی قیمت دے کر لیا جا سکتا ہے۔کتاب اور میگزین وغیرہ میں سے صفحات یا ایک مضمون یا کتاب کا ایک تہائی حصہ کو فوٹوکاپی بھی کرایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے خصوصی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔قیمت میں اضافہ ضرورت کے لحاظ سے ہوتا رہتا ہے۔مائیکروفلم میں مائیکرونیگیٹیو،مائیکروفلم پازیٹیو،مائیکروفلم ریڈر پرنٹر کاپی اور انلارجمنٹ پرنٹس مختلف سائز میں کرانے کی سہولت بھی موجود ہے۔سب کی قیمتیں الگ الگ ہیں۔
نیشنل لائبریری فیگر /گنتی کی نظر سے
31/03/2009کی رپورٹ کے مطابق
بلودیر کیمپس 30ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے۔
لائبریری کی عمارتیں62825.157 اسکوائر میٹر پر مشتمل ہیں۔
شیلف اسپیس تقریباً 45کلومیٹر سے بھی زائد ہے۔
لائبریری میں موجود کتابوں کی کل تعداد24,65,352 ہے۔
ہندوستانی زبانوں میں موجود کتابوں کی تعداد6,43,255 ہے۔
لائبریری میں ڈی بی ایکٹ کے تحت آنے والی کتابوں کی تعداد10,66,936ہے۔
موجود موقت الشیوع ٹائٹل (پرنٹ) کی تعداد17,530 ہے۔
مجلہ ماھناموں کی تعداد1,46,820 ہے۔
اخبارات (ٹائٹل) کی تعداد905 ہے۔
مجلہ نیوز پیپر کی تعداد 11,745ہے۔
ہندوستان کے سرکاری کاغذات کی تعداد5,05,807 ہے۔
نقشوں کی تعداد 88,161ہے۔
مسودوں کی تعداد3,227 ہے۔
مائیکروفلم کی تعداد 6,042ہے۔
مائیکرو فش کی تعداد 97,715ہے۔
ڈیجیٹل امیج (مواد)کی تعداد9,141 ہے۔
ریڈنگ روم کی تعداد 814ہے۔
نیشنل لائبریری میں ایک پوشیدہ کمرے کا انکشاف
 2010میں اس لائبریری کی مالک وزارتِ ثقافت نے اس کی عمارت کو(A.S.I) آرکائیو لوجیکل سروے آف انڈیا کے ذریعہ مرمت کرانے کا فیصلہ کیا۔جب لائبریری کے اسٹاک کو لیا جارہا تھا تو ایک انجینئر کو ایک ایسا کمرہ دکھا جس کا پہلے سے علم نہیں تھا۔یہ گراونڈ فلور پر تقریباً1000 اسکوائر فٹ پر مشتمل کمرہ تھالیکن حیرت کی بات یہ تھی اس میں کسی بھی طرف سے کھلنے کی جگہ یا دروازے وغیرہ نہیں تھے۔
اے ایس آئی نے پہلی منزل پر جا کر اس کی چھان بین کی کہ شاید کہیں سے کوئی دروازہ یا روشن دان مل جائے لیکن ناکامی ہاتھ آئی ۔اس عمارت کے تاریخی ہونے کے سبب اس کو توڑنے کے بجائے اس میں ایک سوراخ کیا گیا تاکہ اس میں داخل ہوا جا سکے ۔اس کمرے کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وارن ہسٹرنگ یا دوسرے برطانوی افسران اسے یا تو سزا دینے کے لیے استعمال کرتے تھے یا پھر اس میں خزانہ چھپایا کرتے تھے۔چھ مہینہ کی اسٹڈی کے بعد انکشاف ہوا کہ یہ دراصل کوئی کمرہ ہے ہی نہیں،بلکہ یہ ایک ہال ہے جسے انگریز انجنیئروں نے عمارت کی مضبوطی کے لیے بنایا تھا اور اس میں کیچڑ بھرا گیا تھا تاکہ عمارت پائیدار اور مستحکم رہے۔
نیشنل لائبریری میں موجود ہندوستانی زبان کے مجموعے
اس لائبریر ی میں (پبلک لائبریری)ایکٹ1954 کے تحت مختلف زبانوں میں کتابیں اور رسائل و جرائد آتے ہیں،خصوصا ہندوستان کی تمام زبانوں میں چھپنے والی کتابیں اور رسائل و جرائد بھیجے جاتے ہیں۔
نیشنل لائبریری میں ہندی،کشمیری،پنجابی،سندھی،تیلگو اور اردو زبان کے الگ الگ شعبہ قائم ہیں جو اپنے اسٹاک کی ترتیب و تزئین کرتے رہتے ہیں۔ان زبانوں کے علاوہ دوسری زبانوں کی کتابوں کو منظم کرنا اسٹاک ڈویزن یا شعبہ اسٹاک کی ذمہ داری ہے۔حوالوں سے متعلق سوالات کے جوابات مہیا کرانا بھی انہیں شعبوں کی ذمہ داری ہے۔اس لائبریری میں آسامی،بنگالی،گجراتی،مراٹھی،ہندی،کنّڑ،کشمیری،ملیالم، اریائی،پنجابی،سنسکرت،سندھی،تمل ،تیلگو اور اردو زبان کے الگ الگ شعبے قائم ہیں جو اپنی اپنی زبانوں میں کتابوں اور رسائل و جرائد کو جمع کرتے ہیں اور ان کی ترتیب و تزئین بھی کرتے ہیں۔
سنسکرت کے شعبہ کی ذمہ داری پالی اور پراکرت کتابوں کی بھی ہے اور انگلش میں کتابیں جو ہندوستان سے شائع ہوتی ہیں ،ان کو ڈی،بی ایکٹ کے تحت جمع کیا جاتا ہے۔
:1 آسامی زبان کے مجموعے
نیشنل لائبریری میں آسامی کتابوں کو جمع کرنے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے1963 میں باقاعدہ ایک شعبہ قائم کیا گیا۔اس وقت اس شعبہ میں تقریباً 12,000سے زائد آسامی زبان میں کتابیں جمع کر رکھی ہیں۔ان میں سے بعض ایسی ہیں جو1840سے 1900کے درمیان شائع ہوئیں۔ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1:Asamiya Lara Mitra(Anandaram Dheklia Phukan,1849)2:Lara Bodh Byakaran(Dharmeswar Goswami,1884)3:Prakrit Bhugol(Lambodara Datta,1884)4:Arunodoi(1846-53,1856-58)
:2بنگالی زبان کے مجموعے
نیشنل لائبریری کے بنگالی زبان کے شعبہ میں85,000 کتابیں موجود ہیں جو نہایت ہی نایاب اور قیمتی ہیں۔ان کی اشاعت اٹھارہویں صدی کے آخر میں وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہیں۔اس میں شروعاتی دور کے ڈرامے اور ناول(بنگالی)پیش کیے گئے ہیں۔ساتھ ہی کچھ نادر مسودے بھی ہیں جیسے سرت چندرا چتوپدھیائے کا مسودہ،بی بھتی بھشان، بندواپدھیائے،جباننداداس اور بشنودی کے مسودے وغیرہ۔                
اس میں 154ایسے خطوط بھی ہیں جنہیں نیتا جی سبھاش چندر بوس نے اپنے بھتیجے شری اشوک بوس اور سرت چندرا بوس کو لکھے تھے۔رابندر ناتھ ٹیگور کے مکمل ادبی مجموعے بھی یہاں موجود ہیں سوائے ان کے چند ادبی کاموں کے ۔جن میں سے 190مجموعوں کا پہلا ایڈیشن بھی موجود ہے۔
یہاں 400شماروں کا مجموعہ بھی بنگالی زبان میں موجود ہے،جس میں کچھ نایاب شمارے انیسویں صدی کے بھی ہیں جیسے دگ درشن(1818)۔چند مشہور مجموعے درج ذیل ہیں:
1:A Grammar Of The Bengal Language(1778)Nathaniel Brassey Halhd.2:Ramayana Translated By Krittibas Ojha(5Volumes)3:Mahabharat Translated By Kashiram Das(1802)4:Tota Itihas By Chandicharan(1805)5:A Vocabulary(English,Bangalee)By Henry Frster. 6:Batris Simhansan By Mrityunjay,1802)7:Dictionary Of The Bengali Language By William Cary(2 Volumes 1815-1825)
:3گجراتی زبان کے مجموعے
اس شعبہ میں تقریباً 37,000ہزار سے زائد کتابیں اس زبان میں موجود ہیں،جن میں سے 11,00کتابیں انیسویں صدی سے پہلے شائع ہوئی ہیں اور اس میں مصوری کے30 البم ایسے ہیں جن کو کانو ڈیسائی نے 1936سے1956 کے درمیان شائع کیا تھا۔یہاں پر کچھ گجراتی شعراءکرام کے اصلی مسودے بھی موجود ہیں جیسے نرسمتھ مہتا،میرا بائی ،پرما نند اور سیمل بھٹ وغیرہ کے مسودے وغیرہ۔چند مشہور گجراتی مجموعے درج ذیل ہیں۔
1:Aesop's Fables Translated By Bapushastri Pandya Raykaval(1818) 2:Suratani Tavarikh(1890)And jnana Chakra-A Gujrapati Encyclopaedia(9Volums-1867)
:4ہندی زبان کے مجموعے
ہندی ہندوستان کی قومی زبان ہے۔اس لائبریر ی میں امپیریل لائبریری کے دور سے ہی ہندی کتابیں جمع کی جارہی ہیں۔1960میں اس کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ الگ سے قائم کیا گیا تھا۔اس وقت اس میں تقریباً 80,000سے زائد کتابیں موجود ہیں۔جن میں اٹھارہویں صدی کے آخر ی دہائی میں چھپی ہوئی کتابیں اور رسالے بھی موجود ہیں۔
اس ذخیرے میں للّو لال کے ذریعہ شائع کردہ کتابیں بھی موجود ہیں جو کلکتہ کے پہلے پرنٹر،پبلشر اور رائٹر تھے۔ان کے ذریعہ شائع کی گئی نایاب کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے:
1:Braja Bhasha Grammar(1811)2:Rajaniti(1827)3:Lataife Hindi(1821)4:Hindi-Roman Orthoepigraphical Ultimatum By John B.Gilchrist(1843)5:Dictionary Of Hindi And English By J.T Thompson(1862)6:Brief Account Of The Solar System In Hindi(1940)7:Microfilm Copy Of Bal Bodhini(1874-77)
یہاں پر کچھ اہم جرنلس کے تقریباً12,000 ہزار پہلے ایڈیشن کے شمارے بھی موجود ہیں۔
:5 کنڑ زبان کے مجموعے
نیشنل لائبریری میں کنڑ زبان کا شعبہ1963 میں وجود میں آیا۔اس وقت اس میں 32,000سے زائد کنڑزبان میں کتابیں موجود ہیںجو کرناٹک کی کلچر کی تاریخ کو پڑھنے میں مدد دیتی ہیں۔لائبریری نے ایچ چنک سیوا اینگر کے ذریعہ جمع کی گئی کتابوں کو 1960میں خرید لیا تھاجو انیسویں صدی کی آخری دودہائیوں اور بیسویں صدی کی پہلی تین دہائیوں کے درمیان شائع ہوئی تھیں۔ان کی1,300 تعداد تھی۔کنڑ زبان میں موجود کتابوں کے ذخیرے کو جمع کرنے میں جی پی راج راتنھم کا اہم کردار رہا جو ایک کنڑ مصنف ہیں۔انہوں نے تقریباً 1,500کتابیں جمع کیں اور اس میں لائبریری کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا۔
:6 کشمیری زبان کے مجموعے
کشمیری زبان کا شعبہ 1983میں قائم ہوا۔اس وقت اس میں سے 500زائد کتابیں کشمیری زبان میں موجود ہیں۔ان میں سے اہم درج ذیل ہیں:
1:Shirin Qalam,2Volums(Mohammad Yusuf Teng)2:Wiyur Edited By Ghulam Muhammad Rafiq,Gulam Nabi Khyaal's Akah Nandun,Nurnama And Compiled By Muhammad Amin Kaim, Fazil And Kashmiri's Krishna Lila.
:7ملیالی زبان کے مجموعے
ملیالم زبان کا شعبہ1963 میں وجود میں آیا۔اس وقت اس میں تقریباً 34,500کتابیں موجود ہیں۔جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1:Centum Adagia Malabarica,Alatin Translation Of Malayalam Proverbs(Earliest Printed Book,1791)2:Malayalam English Dictionary(1791)By Dr Gundart.3:Works Of Niranam(A 15th Century Poet)4:Vadakkan Pattukal(Ballads Of North Malabar)
:8مراٹھی زبان کے مجموعے
 مراٹھی زبان کا شعبہ اس لائبریری میں1963 میں قائم ہوا۔اس وقت 8,900کتابیں مراٹھی زبان میں موجود تھیں۔اب ان کی تعداد3,7000 سے بھی زائد ہے۔1954میں نیشنل لائبریری نے بنگال ناگ پور ریلوے انڈین انسٹی ٹیوٹ،کھڑگ پور کی لائبریر ی کو خرید لیا تھا،جس میں بڑی تعداد میں مراٹھی زبان میں کتابیں تھیں۔
اس میں شری جادو ناتھ کا کلیکشن بھی موجود ہے جس میں850 کتابیں ہیں ،ان میں سے زیادہ تر مراٹھا کی تاریخ بیان کرتی ہیں۔چند اہم اور قیمتی کتابیں درج ذیل ہیں:
1:A Garammar Of The Mahratta Language,Dictionary Of The Mahratta Language,Simhasana Battisi,Raghuji Bhonsalayaci Vanshavali(1805,1810,1814,1815)By William Carey. 2:A Dictioary Of Mahratta Language(1824)By Vans Kennedy. 3:Nava Karar(1850) 4:A Short Account Of Railways By K.Bhatwadekar(1854)
:9اڑیا زبان کے مجموعے
اڑیہ زبان کا شعبہ اس لائبریری میں1973 میں قائم ہوا۔اس وقت اس میں صرف133 کتابیں تھیں،پھر ان کی تعداد425 تک پہنچی۔اب فی الحال اس میں19,500 کتابیں موجود ہیں۔سب سے پرانا مجموعہ1831 کا اشاعت کردہ ہے۔چند اہم مجموعے درج ذیل ہیں:
1:An Oriyan Dictionary By Amos Sutton,3Volums(1841-3) 2:Dharmapustakara Adibhaya(1842-3) 3:Purnachandra Oriya Bhashakosha(1931-40) 4:Aleicon Of The Oriya Language Compiled By Gopal Chandra Praharaj.
:10پنجابی زبان کے مجموعے
عملی طور پر پنجابی زبان کا شعبہ1974 میں قائم ہوا تھا۔اس وقت بھی اس میں کتابیں موجودہ دور ہی کی ہیں،بس چند ایک ہی پرانی اور شروعاتی دور سے تعلق رکھتی ہیں جو درج ذیل ہیں:
1:A Grammar Of Punjabee Language By William Carey(1812) 2:A Dictionary Of English Panjabee By Samuel Starkey(1849) 3:Geographical Description Of The Punjab(1850) 4:Bhai Santosh Singh's Guru Partap Suraj Granthaval(1882) And Gurudas Bhai's Vars(1893)
:11سنسکرت،پالی اور پراکرت زبانوں کے مجموعے
سنسکرت زبان اپنے آپ میں ایک وسیع علم کا ذخیرہ رکھتی ہے۔اس کا ایک علیحدہ شعبہ بھی ہے جس میں 20,000کتابیں سنسکرت پر ہیں اور یہ دیوانگری رسم الخط میں شائع کی گئی ہیں۔
اس لائبریری کے شعبے میں کتابوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو انگلش یا دوسری زبانوں میں ہیں اورجن کو اصل اسکرپٹ کا ترجمہ کرنے یااس میںسنسکرت کے کاموں کو اضافہ کرنے کی غرض سے شائع کیا گیا ہے۔یہ مجموعے تحقیق کرنے والوں کے لیے خاص اہمیت کے حامل ہیں خواہ وہ ہندوستانی ہوں یا کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔
اس شعبہ کے ذریعہ سنسکرت کے علاوہ پالی اور پراکرت زبانوں کے مجموعے کو بھی جمع کیا جاتا ہے۔فی الحال ان کی تعداد500 ہے۔
:12سندھی زبان کے مجموعے
1957سے سندھی کتابوں کا ذخیرہ اس لائبریری میں جمع کیا جا رہا ہے۔فی الحال تقریباً 2,100کتابیں موجود ہیں۔شاہ جو رسالو اور شاہ جو شیریہ دونوں مجموعے شاہ عبداللطیف بھٹی کے ہیں جو نایاب اور قیمتی ہیں۔
:13تمل زبان کے مجموعے
تمل زبان کا شعبہ1963 میں قائم ہوا۔اس وقت اس میں57,000 تمل کتابیں موجود ہیں۔فی الوقت لائبریری میں موجود ویا پوری پلّائی مجموعے میں1000 تمل کتابیں اور 300مسودے موجود ہیں۔شروعاتی دور کی نایاب کتابیں بھی یہاں موجود ہیں۔ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
1:Tamil Bible(1723)2: A Malabar And English Dictionary(1779) 3: Comparative Grammar Of Dravidian Language(1850)By Caldweli.
:14تیلگو زبان کے مجموعے
نیشنل لائبریری کلکتہ میں تیلگو زبان کا شعبہ 1963میں قائم ہوا۔اس میں بڑی تعداد میں ایسی تیلگو زبان میں کتابیں ہیں جو انیسویں صدی کے آغاز میں شائع ہوئی تھیں۔چند اہم اور قیمتی کتابیں درج ذیل ہیں:
1:Grammmar Of Telugu Language(1814)By William Carey. 2: A Vocabulary Of Gentoo And English(1818) By C.P.Brown Vakyavali(1852)3:Catalogue Of Telugu Books In British Library London(1912) Compiled By L.D. Barnett.
:15اردو زبان کے مجموعے
عربی اور فارسی کی طرح اردو زبان کی کتابوں کو بھی امپیریل لائبریری کے دنوں سے ہی جمع کیا جاتا رہا تھا۔کچھ اہم مجموعے بوہر لائبریری،ہدایت حسین کلیکشن،ذکریا کلیکشن اور امام باڑہ کلیکشن میں بھی تھے جن میں کتابیں اور مسودے دونوں تھے۔نیشنل لائبریری میں اردو زبان کا شعبہ1968 میں قائم ہوا اور اس وقت اس میں 20,000سے زائد کتابیں موجود ہیں۔اہم مجموعے یہ ہیں:
1:Indian Ethics(1803) 2:Mir Muhammad Taki's Kulliyat-e-mir(1811)
:17انگریزی زبان کے مجموعے
نیشنل لائبریری میں انگلش کتابیں اور دوسرے پڑھے جانے والے تقریباً تمام موضوعات پرمواد بھی موجود ہیں۔خاص کر ہیومنیٹیز،برطانوی اور ہندوستانی تاریخ اور ادب پر بڑی تعداد میں کتابیں موجود ہیں۔
غیر ملکی زبانوں کے مجموعے
نیشنل لائبریری کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہندوستان پر شائع ہونے والی تمام کتابوں کو خواہ وہ کسی بھی ملک میں اور کسی بھی زبان میں شائع ہوئی ہوں،جمع کرنا ہے۔ایک ہی وقت میں ایک ہی موضوع پر مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے مواد کو ملکی مفاد کے لیے جمع کیا جاتا ہے۔امپیریل لائبریری میں عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ کچھ غیر ملکی زبانوں کی کتابوں کو بھی جمع کیا گیا۔
1985میں یوروپین زبان کے شعبے کی منظوری دی گئی اور الگ الگ شعبوں کا قیام عمل میں آیا۔
:1ایسٹ ایشین زبان کا شعبہ
:2جرمن زبان کا شعبہ
:3رومن زبان کا شعبہ
:4سلاونک زبان کا شعبہ
:5ویسٹ ایشین اور افریقن زبان کا شعبہ
غیر ملکی زبانوں کے مجموعے زیادہ تر تحفہ تحائف یا تبادلے کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔
:1ایسٹ ایشین زبان کا مجموعہ
نیشنل لائبریری کا ایک شعبہ چائنا اور دوسری ایسٹ ایشین زبانوں کی کتابوں کو جمع کرتا اور ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔اس وقت اس زبان میں15,000 کتابیں اورجاپان،کوریا،تبت،نیپال اور تھائی لینڈ کی زبانوں میں تقریباًایک ایک ہزار کتابیں موجود ہیں۔
:2جرمن زبان کا مجموعہ
جرمن زبان کا شعبہ اس لائبریری میں1985 میں قائم ہوا۔اس میں جرمن،ڈچ،نارویجین اور سویڈش زبان کی کتابوں کو رکھا گیا ہے لیکن جرمن کتابوں کی تعداد زیادہ ہے۔اس شعبہ نے جرمن زبان بولنے والے سات ممالک سے کتابوں کے تبادلے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ایسٹ جرمن سے نکلنے والا اخبار"Berliner Zeitung" بھی یہاں موجود ہے۔
:3رومن زبان کا مجموعہ
رومن زبان کا شعبہ1985 میں قائم ہوا۔اس میں5,000 فرنچ زبان کی کتابیں اور تقریبا2,000 رومن کتابیں موجود ہیں۔اٹالین اور اسپینش زبانوں میں بھی چند کتابیں یہاں موجود ہیں۔
:4سلاونک زبان کا مجموعہ
اس میں سلاونک زبان،رشیا،پولینڈ،بلغاریہ،سلوواکیہ اور یوگوسلاویہ وغیرہ کی زبانوں میں کتابیں موجود ہیں،لیکن رشیا زبان کی کتابیں بہت زیادہ ہیں ۔اس وقت اس میں مجموعی طور سے65,000 کتابیں موجود ہیں۔
:5ویسٹ ایشین اور افریقن زبانوں کا مجموعہ
بوہر لائبریری کو ویسٹ ایشین اور افریقن زبانوں کی کتابوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔اس میں12,000 کے آس پاس عربک اور تقریباً اتنی ہی فارسی زبان میں کتابیں موجود ہیں۔ان دونوں زبانوں کی کتابوں اور مسودوں کی ایک بڑی تعداد سر عبدالرحیم کے کلیکشن ،ہدایت حسین کلیکشن،ذکریا کلیکشن اور امام باڑہ کلیکشن میں بھی پائی جاتی ہے۔سر جادو ناتھ سرکار کے کلیکشن میں بھی 200فارسی کے مسودے موجود ہیں۔یہ مسودے مغل دور(1659-1837)اور برطانوی سرکار شروعاتی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔
نایاب کتابیں
نیشنل لائبریری میں نایاب کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔اس کا 1973میں الگ سے ایک شعبہ قائم کیا گیا۔فی الوقت جو کتابیں 1860سے پہلے شائع ہو ئی ہوں وہ اس زمرے میں آتی ہیں اور اس کے علاوہ اس کے بعض دوسرے معیار بھی متعین کیے گئے ہیں۔یہاں پر لائبریری کے مسودے اور مائیکروفلم بھی ہیں۔یہ شعبہ پڑھنے والوں کو پڑھنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔اس وقت 4,700مونوگراف،3,000مسودے اور1,500 مائیکروفلم موجود ہیں۔
مسودے
نیشنل لائبریری میں تقریباً 3,600انتہائی نایاب اور قیمتی مسودے مختلف زبانوں میں موجودہیں۔ان کو نایاب کتابوں کے ساتھ نایاب والے شعبہ میں رکھا جاتا ہے۔
سائنس اور ٹکنالوجی کا مجموعہ
1968میں ریویونگ کمیٹی کی تجاویز پر1972 میں سائنس اور ٹکنالوجی کا ایک شعبہ قائم کیا گیا۔اس کا اہم کام سائنس اور ٹکنالوجی کی اہم کتابوں کو جمع کرنا تھا۔فی الحال یہاں پر 17,000کتابیں اورمونوگراف موجود ہیں اور 800شمارے موجودہ دور کے ہیں۔یہ شعبہ پڑھنے والوں کو پڑھنے کی سہولت بھی دیتا ہے۔
انڈین سرکاری کاغذات
نیشنل لائبریری کلکتہ میں ہندوستان کی حکومت،ریاستی حکومت،یونین ٹیریوٹریز ،حکومت کے ماتحت رہنے والی اور آٹونومس باڈی کی طرف سے شائع ہونے والے سرکاری کاغذات بھی موجود ہیں۔اس کے لیے 1972میں الگ سے ایک باضابطہ شعبہ قائم کیا گیا تھا۔اس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان آنے سے لے کر اب تک کے سرکاری کاغذات کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔اس وقت تقریباً 4,90,000کاغذات یہاں پر موجود ہیں۔
نیشنل لائبریری کلکتہ کے بارے میں لوگوں کے تاثرات
:1”ائے میرے خدا!یہ تو بہت بڑی لائبریری ہے اور کتابوں کی تعداد اس میں لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہے۔مجھے یہ جگہ بہت پسند آئی ہے۔میں اس لائبریری کی کتابوں میں کھو سا گیا ہوں اور مجھے اس کے ممبر شپ کا کارڈ لینا ہے۔اس شہر کے ہر شخص کو یہ لائبریری ضرور دیکھنی چاہیے (Rudranilr,Calcutta,West Bengal,India)
:2”دنیا کی دوسری لائبریریوں کے برخلاف سنیچر کے دن جب میں یہاں پہنچا تو یہ بند تھی اور جب اس کی سرزمین پر قدم رکھا تو مجھے وہاں اس کا کوئی سائن بورڈ نظر نہیں آیا اورنہ ہی سیکورٹی کا پختہ انتظام دکھالیکن جب میں اس لائبریری میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا اور اس کی تعریف کیے بغیر میں نہ رہ سکا(Giancario G,Adelaide,Australia)
:3”میں نے جب بطور اسائنمنٹ ”نیشنل لائبریری کلکتہ“ کو منتخب کیا تو خود مجھے بھی اندازہ نہ تھا کہ یہ لائبریری اتنی بڑی اور اتنی اہم لائبریری ہے۔یہ تو صحیح معنوں میں معلومات کاسمندر ہے۔اس میں ہر موضوع پر ہزاروں کی تعداد میں کتابیں ہیں۔میرا خیال ہے کہ تحقیق و تصنیف کرنے والوں کو کم از کم ایک بار اس لائبریری میں ضرور جانا چاہیے۔
“(Osama Khan,New Delhi)
٭٭٭٭


Saturday, 3 May 2014

(A True Story) انسان نما بھیڑیے-ایک سچا واقعہ

Osama Shaoaib Alig
Research Scholar, Jamia Millia Islamia
New-Delhi
(ہمارےمعاشرےکاایک سچاواقعہ جس میں شرک اور بدعات سے اجتناب کا ایک پیغام ہے ۔اس میں صرف نام اور جگہ کی تبدیلی کی گئی ہے)
حسن پورایک بڑا گاوں تھا جس میں زمیندار شجاعت علی رہتے تھے ۔ان کے اندر زمینداروں کی ساری روایتی خصوصیات موجودتھیں۔لمبا قد،چوڑے شانے لمبی مونچھیں اور چہرے سے رعب ٹپکتا تھا۔پورے گاوں میں آپ کا حکم چلتا تھا۔جب یہ اپنے جلال میں ہوتے تھے تو حویلی میں نوکروں کی روح کانپتی تھی ۔ان کی بیگم قیصرجہاں بھی ایک بڑے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ان کے والدبھی زمیندار تھے ۔
شجاعت علی کی ایک بیٹی ماہ رخ خانم جو 18 سال کی تھی اور ایک بیٹا شمشیر خان جو 12 سال کا تھا ۔بیٹابالکل اپنے باپ پر گیا تھا اور بیٹی کو جہاں اپنے باپ کا مزاج ملا تھا وہیں حسن و خوبصورتی اور سیرت ماں سے ملی تھی ۔بالکل اپنے نام کا عکس تھی۔لمبا قد ،گلابی رنگ ،تیکھے نقوش یعنی مکمل طور سے قدرت کے حسن کا شاہکار تھی۔پھر دیہات کی صاف ستھری اور صحت بخش ہوا نے حسن کو سونے سے کندن بنا دیا تھا۔چہرے پر جوانی کا رنگ ایسا چڑھا کہ جو بھی دیکھتا بس دیکھتا ہی رہ جاتا ۔حالاں کہ ابھی زیادہ عمر نہیں ہوئی تھی مگر شادی کے رشتے آنے لگے تھے ۔شجاعت علی خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔اللہ کا دیا ہو سب کچھ تھا اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا مگر کہتے ہیں نہ کہ زمانہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ۔اور نہ ہی خوشیاں بہت دنوں تک باقی رہتی ہیں۔زمینداری میں لڑائیاں عام بات ہوا کرتی ہے۔زمین کا مسئلے کو لے کر لڑائی ہوئی ۔اور اسی لڑائی نے شجاعت علی کو نگل لیا ۔
بیگم قیصر جہاں ٹوٹ کے رہ گئیں ۔لیکن وقت رفتہ رفتہ سارے غم بھر دیتا ہے ۔اور مالی طور پر بھی کوئی تنگی نہ تھی ۔شوہر زمیندار تھے تو گھر بیٹھے ہزاروں کی آمدنی ہوا کرتی تھی۔اس لیے کوئی خاص دقت ہوئی نہیں ۔ بیٹا گھر میں موجود ہی تھا ۔اب اٹھتے بیٹھتے بیگم قیصر جہاں کے دماغ میں ایک ہی بات گونجتی رہتی تھی کہ جلد سے جلد ماہ رخ اپنے گھر کی ہو جائے۔مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔اچانک سے ایک دن ماہ رخ کو دورے پڑنا شروع ہو گئے ۔شروع شروع میں کسی نے خاص توجہ نہ دی۔مگر پھر یہ بڑھتے ہی گئے ۔ایک دم سے دورا پڑتا اور پورا بدن اینٹھ جاتا اور ماہ رخ مچھلی کی طرح تڑپنے لگتی اور اس دوران عجیب وغریب زبان میں اول فول بکنے لگتی۔دس بیس منٹ یہ حالت رہتی اور پھر اپنے آپ ٹھیک ہو جاتی۔بیگم قیصرجہاں پریشان ہو گئیں ۔ڈاکٹر پہ ڈاکٹربدلے گئے مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔رفتہ رفتہ بات پھیلنے لگی ۔لڑکی کا معاملہ تھا ۔بیگم قیصرجہاںکو ڈر تھا اگریہی حالت رہی تو شادی ہونا مشکل ہو جائے گی۔اوپر سے عیادت کے لیے آنے والی عورتیں جن بھوت آسیب کا سایہ کی بات کہنے لگیں تھیں ۔(ویسے بھی گاں دیہات کی عورتوں کو جب کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے تو اس کوجن بھوت کی طرف منسوب کرکے مطمئن ہو جایا کرتی ہیں )۔ہندوستان ہی کیا پورے بر صغیر میں اوہام پرستی اور جن بھوت کے قصے عام ہیں ۔بیگم قیصرجہاں کو ان سب باتوں پر یقین نہیں تھا مگر جب بیماری کو ایک سال گزر گیا اور ڈاکٹر بھی کچھ نہیں بتا پائے اور عورتوں کے قصے جاری ہی تھے تو ان کو بھی رفتہ رفتہ آسیب ہونے کا یقین ہوتا چلا گیا اور اب عاملوں ،سیانوں اور جھاڑ پھونک کرنے والوں کے چکر لگنے شروع ہو گئے ۔اور جہاں بھی عامل کا پتہ چلتا فورا اس کے یہاں جا کر اس سے علاج شروع کرا دیتی تھیں مگر بات جہاں کی تہاں تھی۔
ہر عامل ڈھیر سارے دعووں سے علاج شروع کرتا تھا اور اس کی تگڑی فیس بھی وصول کرتا تھا۔اور” کالے بکرے،ناریل،لوبان،اگربتیاں اور ڈھیر سارا غلہ“ اور پتہ نہیں کیا کیا الم غلم منگا کر کام کا آغاز کرتا اور پھر دعوی کرتا کہ سخت مقابلے کے بعد جن کو بھگا دیا ہے مگر ماہ رخ کو کچھ دن بعد پھر دورے پڑنے شروع ہو جاتے۔اسی دوران حویلی کے ایک ملازم نے ایک بہت بڑے’ شاہ صاحب‘ کا پتہ بیگم قیصرجہاں کو بتایا اور ان کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیا۔اندھا کیا چاہیے دو آنکھیں ۔بیگم قیصرجہاں فورا تیار ہو گئیں اور بیٹی کو لے کر اس مشہور شاہ صاحب کے پاس چل دیں۔ شاہ صاحب کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی کہ بہت تہجد گزار ہیں اور پنج وقتہ نمازی بھی ہیں (جو اپنے حجرے ہی میں ادا کرتے تھے)مسجد سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔اور کہا جاتا تھا کہ ایک خاص نماز وہ کنویں میں لٹک کر پڑھتے تھے اور اگر اس دوران کسی کی نظر ان پر پڑ جاتی تھی تو وہ ان کے جاہ و جلال کا دیوانہ ہو جاتا تھا اور یہ دیوانے سب کچھ تیاگ کر ان کے’ در‘ کے ہو کر رہ جاتے تھے (یہ الگ بات ہے کہ یہی لوگ شاہ صاحب کا کاروبار چلاتے تھے اور انہیں کے تیار کردہ تھے)۔
بہرحال بیگم قیصرجہاں اپنی بیٹی کو لے کر ان کے دربار میں پہنچ گئیں اور اپنی باری پر جب اندر گئیں تو شاہ صاحب کو مراقبہ میں پایا ۔بیگم صاحبہ نے سلام کیا اور اپنی مشکل بتانے کے لیے اسٹارٹ لینا چاہا تھا کہ شاہ صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور آنکھ کھول کر خود ہی بیگم قیصرجہاں کے بارے میں اور ان کے شوہر کے بارے میں اور حویلی کی باتوں کو بیان کرنا شروع کر دیا۔(وہ ساری باتیں جو ان کو بیگم قیصرجہاں کے ملازم نے ہی بتائیں تھیں)اور بیگم صاحبہ کا یہ حال تھا کہ حیرت کے مارے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی کہ اف!کس قدر پہنچے ہوئے ہیں یہ حضرت!!اور مارے عقیدت کے فورا اپنا سر شاہ صاحب کے قدموں پر رکھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کے رونا شروع کر دیا۔اپنے آنسوں سے شاہ صاحب کے پیر دھونے لگیں ۔بڑی مشکل سے شاہ صاحب نے ان کو اٹھایا ۔بیگم قیصرجہاں نے سارے حالات بیان کیا تو شاہ صاحب پھر مراقبے میں غرق ہو گئے اور 10 منٹ بعد آنکھیں کھولی اور ناامیدی اور مایوسی سے فرمایا کہ آپ نے بڑی دیر کر دی ہے ۔آپ کی بچی پر” شاہ جنات کا سایہ “ہو گیا ہے اور وہ بہت دنوں سے اس پر قابض ہے اس کو چھڑانا بڑی جان جوکھم کا کام ہے ۔بیگم صاحبہ گڑگڑا اٹھیں کہ حضرت آپ کے بس میں سب کچھ ہے آپ سب کچھ جانتے ہیں آپ کچھ بھی کریے اور میری بیٹی کو بچا لیجئے میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی اور روپیہ پیسہ کی فکر مت کریے جتنا بھی ہو گا سب میں دوں گی۔
شاہ صاحب کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ دوڑ گئی اور بولے آپ کو پتا ہے کہ میں روپیہ کی طرف دیکھتا بھی نہیں اور یہ بات درست بھی تھی شاہ صاحب ایک روپیہ خود نہیں لیتے تھے البتہ ان کے ’چیلے چپاڑے ‘بڑی باریک چالوں سے اور نفسیاتی حربوں سے لوگوں کی جیب سے ایسے پیسہ نکلواتے تھے کہ لوگوں کو احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ شاہ صاحب نے روپیہ لیا ہے۔بیگم صاحبہ نے گڑگڑاکے کہا کہ غلطی ہو گئی معاف کر دیں اور اللہ کے نیک بندے تو ایسے ہی ہوتے ہیں جو انسانوں کی ’بے لوث خدمت‘ کرتے ہیں ۔آپ ہم بے سہارا کی مدد کریے ۔بیگم صاحبہ شدت جذبات سے بلک بلک کے رو پڑیں۔شاہ صاحب نے کہا اچھا بی بی ذرا اپنا ہاتھ تو دکھانا ۔اور بڑی بے نیازی کے ساتھ اپنا ہاتھ ماہ رخ کی طرف بڑھا دیا ۔ماہ رخ نے شرماتے ہوئے اپنا ہاتھ شاہ صاحب کی مضبوط گرفت میں دے دیا۔ہاتھ تھا یا آگ کا انگارہ اور اس کے ساتھ ہی شاہ صاحب کا دماغ آگ سے جل اٹھا اور ان کے سفلی جذبات میں آگ لگ گئی ۔ماہ رخ کے ہاتھ نے انہیں ایک سیکنڈ میں ہی بتا دیا تھا کہ اصلی بیماری کیا ہے مگر انھوں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔اس دوران ایک بار بھی انھوں نے ماہ رخ کا چہرا نہیں دیکھا۔خوبصورت ہاتھ ہی نے بتا دیا تھا کہ برقع کے اندر کیا ہو گا؟وہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی تھے ،جانتے تھے کی ذرا سی جلد بازی بنا بنایا کھیل بگاڑ دے گی۔معصوم اور بھولی بھالی عورتوں کا شکار کرنے میں تو انھیں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ چنانچہ ایک گہری سانس لی اور فرمایا اچھا بی بی ذرا اپنی آنکھ تو دکھانا انھوں نے سپاٹ اور غیر جذباتی لہجے میں کہا۔اس کے لیے ان کو بہت محنت کرنی پڑ رہی تھی۔ماہ رخ گھبرا گئی وہ ایک سیدھی سادھی لڑکی تھی ۔غیر مردوں کے سامنے اس نے آج تک چہرا نہیں کھولا تھا وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ بیگم قیصرجہاں نے کہا بیٹی!سن نہیں رہی ہو حضرت کیا’ حکم‘ دے رہے ہیں؟بیگم قیصرجہاں نے بے چینی سے پہلو بدلتے     ہوئے بیٹی کو ڈانٹ پلائی۔ماہ رخ نے گھبرا کر جلدی سے نقاب الٹ دیا اور نگاہیں جھکا لیں۔شاہ صاحب کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئی اور وہ مارے حیرت کے گنگ ہو کر رہ گئے ۔سب کچھ ناک نقشہ، رنگ روپ سب ان کی بہن مہ جبیں جیسا تھا جو کہ ان سے آج سے پندرہ سال پہلے بچھڑ گئی تھی ۔جس کے ساتھ اسی کے کلاس میٹ نے پہلے تو پیار کا ناٹک کھیلا اور پھر اس کی عصمت لوٹ لی تھی۔جس کو ان کی بہن برداشت نہ کر سکی تھی اور اس نے خود کشی کر لی تھی۔آج وہی ماہ رخ کی شکل میں ان کے سامنے موجود تھی اور ان کو لگا کہ وہ بھی اسی لڑکے کا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں جس نے ان کی بہن کو ان سے محروم کر دیا تھا ۔کیا پھر ایک بار وہی کہانی دہرائی جائے گی؟اور کیا پھر آج ایک مہ جبیں ہوس کی بھینٹ چڑھ جائے گی؟ ان کے دل میں خیالات کی آندھیاں چلنے لگیں اورآخر کار باطل کو شکست ہوئی، شیطان ہارگیا۔اور شاہ صاحب زور سے چیخ پڑے ہر گز نہیں بیگم قیصرجہاں اور ماہ رخ ڈر کے اچھل پڑیں اور بیگم قیصرجہاں کانپتے ہوئے پوچھنے لگیں کہ کیا ہوا حضرت ؟؟
ہاں کیا؟؟ شاہ صاحب جیسے ہوش میں آ گئے اور کہا کچھ نہیں بی بی سب ٹھیک ہے اور انھوں نے ایک لمبی ٹھنڈی سانس لی اورماہ رخ سے کہا کہ تم ذرا باہر جا اور پھر انھوں نے بیگم قیصرجہاں سے کہا کہ میں نے آپ سے جھوٹ بولا کہ بچی پر’ شاہ جنات کا سایہ‘ ہے ۔آپ کی بچی کی صحت غیر معمولی طور پر اچھی ہے اور اس کی اب تک شادی ہو جانی چاہیے تھی ۔آپ جلد سے جلد شادی کرا دیجیے سارے دورے خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے اور کہا کہ میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا کہ کبھی کسی شاہ یا عامل کے پاس نہ تو خود جائیے گا اور نہ ہی اپنی بچی کو لے جائیے گا ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔یہ دنیا بہت ہوس پرست شکاریوں سے بھری پڑی ہے اور جن کا کام آپ کی طرح معصوم عورتوں اور لڑکیوں کو اپنے جال میں پھسانا ہوتا ہے اور پھر وہ عورتیں اور لڑکیاں مال و عزت دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔دنیا اور آخرت دونوں سے جاتی ہیں۔میری بہن آپ کی بیٹی سی مشابہ ہے تو مجھے احساس ہو گیا کیوں کہ اس کو بھی ایک انسان نما بھیڑیے نے برباد کر دیا تھا۔کسی بھی مرد کے ’پرنور چہرے‘ اور’ پر تقدس حلیہ‘ سے دھوکا نہ کھانا۔مرد بہرحال مرد ہوتا ہے چاہے جوان ہو یا بوڑھا۔جو عامل یا شاہ نامحرم عورتوں لڑکیوں کو بے پردہ اور تنہائی میں دیکھنے کا خواہش مند ہو وہ کیسے نیک اور پاکباز ہو سکتا ہے؟اور نہ ہی اس کی نیت درست ہو سکتی ہے۔آپ نے غلطی کی جو میرے پاس چلی آئیں اب آپ جایئے اور میری باتوں کو یاد رکھیے گا ۔یہ کہتے ہوئے عامل بابا باہر نکل گئے اور بیگم قیصرجہاں جو خوف اور شکوک وشبہات سے کانپ رہی تھیں اپنی بیٹی ماہ رخ کو ساتھ لیے واپس گھر آگئیں ۔اور اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ بیٹی کی عزت بچ گئی اور اللہ تعالی نے میری لاج رکھ لی۔
مگر ضروری نہیں ہے کہ ہر بار عزت محفوظ رہ جائے اور شیطان کا حملہ ناکام ہو جائے اس لیے اس سے سبق لے کر ان تمام جگہوں پر جانے سے اجتناب کرنا ہوگا۔اور یہ جائز بھی نہیں ہے ۔حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ:
سئل النبی عن النشرة فقال!ھو من عمل الشیطان ﴿ ابوداﺅد:3868 )
 آپ ﷺ سے نشرة(یعنی جادو کا علاج جادو کے ذریعہ کرنا)کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا!یہ شیطانی کام ہے۔
البتہ مسنون دعاں،اذکارو وظائف اور شرعی دم کے ذریعہ ضرورت پڑنے پر علاج کیا جا سکتا ہے۔
جہاں تک ان دوروں کی بات ہے تو یہ دورے (یہ ایک بیماری ہے جسے اختناق الرحم کہا جاتا ہے)عموما نازک مزاج اور مقوی، مرغ مسلم،روغن والی غذائیں کھانے اور ورزش ،بھاگ دوڑ نہ کرنے والیں غیر شادی شدہ لڑکیوں پر پڑتے ہیں جس میں مریضہ بے قابو ہو جاتی ہے اور اول فول بکنے لگتی ہے جس سے جاہل عوام یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ جن کا سایہ ہے اور پھر عامل،پیر، شاہ صاحب اور مزاروں کے چکر لگنے شروع ہو جاتے ہیں جس میں مال کی بربادی تو ہوتی ہی ہے اور عصمت و عفت کے بھی لالے پڑ جاتے ہیں۔جب کہ عموما اس کا آسان علاج شادی ہے۔ہم سب کو اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ usama9911@gmail.com