Wednesday, 12 February 2014

(Mushterka Khandani Nizam Aor Islam Ka Nazarya) مشترکہ خاندانی نظام اوراسلام کا نظریہ


اسامہ شعیب علیگ

ریسرچ اسکالر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،دہلی


 کسی بھی ملک میں استحکام کے لیے صالح معاشرے کا ہونا ناگزیر ہے اور ایک صالح معاشرہ تب ہی وجود میں آ سکتا ہے جب اس میں صالح خاندان موجود ہوں اور ان میں رہنے والے ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سے واقف ہوں ۔ قرآن و حدیث میں اس کی طرف مکمل طور سے رہنمائی کی گئی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی تعلیمات و احکام کوجانا جائے اور ان پر عمل کیا جائے۔

خاندان کی تعریف
An Essentail English Dictionaryمیں خاندان کی تعریف درج ذیل ہے:
"A Family Is a Set Of People Related To One Another Especially a House Hold Consisting Of Parents And Childrens"
’’خاندان لوگوں کے ایک ایسے مجموعے کو کہتے ہیں جو ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خصوصا ایسا گھر جو والدین اور بچوں پر مشتمل ہو‘‘
ایک خاندان زوجین،اولاداور والدین سے تشکیل پاتاہے۔ان لوگوں کے ایک دوسرے پر کچھ حقوق و فرائض ہوتے ہیں جن کے بغیرایک اچھے خاندان کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ جس طرح سے حکومت کو چلانے کے لیے ایک سربراہ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک خاندان کو صحیح ڈھنگ سے چلانے کے لیے ایک سربراہ کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ خاندان کا سربراہ کون ہو؟
اگر مرد اور عورت کی فطری صلاحیت ،قوت ،عادت و اطوار اور مخصوص مسائل پر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مرد کوعورت پر مختلف وجوہ سے فوقیت حاصل ہے۔
قرآن اسی کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
وللرجال علیھن درجة(البقرة(228:
’’اور مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ برتری حاصل ہے‘‘
اور یہ برتری اس طرح سے کہ:
الرجال قوامون علی النساء(النساء:34)
مرد عورتوں کے سربراہ ہیں
یہ سربراہی کیوں ہے ؟ قرآن نے ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بتا دی ہے:
بما فضل اللہ بعضھم علی بعض و بما انفقوا من اموالھم (النساء:187)
کیوں کہ اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی ہے اور اس لیے مردوں نے عورتوں پر اپنے مال خرچ کیے ہیں‘‘
اس کے ساتھ اللہ تعالی نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم قرار دیاہے تاکہ ازدواجی زندگی میں دونوں کی یکساں اہمیت اور ضرورت برقراررہے ۔
ارشادِ ربانی ہے:
ھن لباس لکم وانتم لباس لھن (البقرة:187)
عورتیں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم عورتوں کے لیے لباس ہو
اس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ میاں بیوی ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں اور دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ مسلم ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کو حقوق کے معاملے میں جواب دہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف(البقرة:228)
عورتوں کا مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردوں کا ان پر ہے
خاندان کی اہمیت
اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک نعمت خاندان کا ہوناہے ۔یہ انسان کے لیے لطف و محبت ،شناخت اور پشت پناہی کا ذریعہ بھی ہے ۔سورة ہود میں ہے کہ حضرت شعیبؑ کی قوم نے ان کو مخاطب کر کے کہا:
ولو لارھطک لرجمنٰک وما انت علینا بعزیز۔ قال یا قوم ارھطی اعز علیکم من اللہ و اتخذ تموہ ورآءکم ظھر یا ان ربی بما تعملون محیط (الھود:91،92)
اور اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو تجھے سنگسار کر دیتے اور ہم تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیںگنتے۔انھوںنے جواب دیاکہ اے میری قوم کے لوگو!کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیادہ ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پسِ پشت ڈال دیا ہے ، یقیناً میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کو گھیرے ہوئے ہے
حضرت شعیبؑ کی پشت پر ان کا خاندان موجود تھا،اس لیے کافروں کو انھیں نقصان پہنچانے کی ہمت نہ ہو سکی۔
اسی طرح حضرت محمدﷺ کی مکی زندگی میں شعبِ ابی طالب میں آپ کے ساتھ آپ کا پورا خاندان موجود تھا اگرچہ یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے مگر انھوں نے آپ کا ساتھ چھوڑنا گوارا نہیں کیا
(سیرتِ ابن ِہشام:1/122)
ہجرت کے موقع پر کفارِ قریش آپ کو( نعوذباللہ) قتل کے لیے پچاس بار سوچنے پر مجبور ہوئے کہ کہیں بنو ہاشم ہم پر چڑھ نہ دوڑیں۔پھر ان لوگوں نے تمام قبائل میں سے ایک ایک فرد کو لیا تاکہ آپ کے قبیلے والے قصاص نہ لے سکیں اگرچہ وہ اپنے ناپاک مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے ۔
ان مثالوں سے ہم خاندان کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
خاندان نکاح کے ذریعے وجود میں آتاہے۔اس کو مستحکم اور پائیدار بنانے کے لیے شریعت نے کچھ اصول و قواعد بتائے ہیں اور خاندان کے ہر فرد کے لیے کچھ حقوق متعین کیے ہیںچنانچہ والدین،میاں بیوی،اولاداور دوسرے رشتے داروں کے حدود اور حقوق قرآن و حدیث میں واضح طور سے بیان کر دیے گئے ہیں۔ایک خاندانی نظام کیسا ہونا چاہیے،اس کا نمونہ خود آپ نے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔آپ نے اپنی تمام ازواجِ مطہرات کو الگ الگ مکان رہنے کے لیے دیا۔حتی کہ کچن کے معاملات کو بھی علیحدہ رکھا جب کہ اگرسب کا کھانا ایک جگہ بنتا تو جدا جداکھانا پکنے کی بہ نسبت کم خرچ آتا۔اس کے باوجود آپ نے سب کے قیام و طعام کا نظام الگ رکھا تا کہ امہات المومنین کے درمیان سوکن والی فطری چپقلش نہ پیدا ہونے پائے۔آپ نے اس سلسلے میں اس قدر احتیاط کی کہ اگر کسی کاسامان ضائع ہو جاتا تو آپ اس کا متبادل اس کو دیتے تھے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے پتا چلتا ہے :
عن انسؓ قال:کان النبی عند بعض نسائہ فارسلت احدیٰ امھات المومنین بصحفة فیھا طعام فضربت التی النبی فی بیتھا ید الخادم فسقطت الصحفة فانفلقت فجمع النبی خلق الصحفة ثم جعل یجمع فیھا الطعام الذی کان فی الصحفة و یقول غارت امکم ثم حبس الخادم حتی اتی بصحفة من عند التی ھو فی بیتھا فدفع الصحفة الصحیحة الی التی کسرت صحفتھا و امسک المکسورة فی البیت التی کسرت (بخاری:5225)
حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم ﷺ اپنی ایک زوجہ(حضرت عائشہؓ) کے یہاں تشریف رکھتے تھے۔اس وقت ایک دوسری زوجہ(حضرت زینبؓ) نے آپ کے لیے ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھیجی۔ جن کے گھر میں آپ اس وقت تشریف فرما تھے انہوں نے خادم کے ہاتھ پر(غصہ میں)مارا جس کی وجہ سے کٹورا گر کر ٹوٹ گیا۔آپ نے اس کے ٹکڑے جمع کیے اور جو کھانا اس برتن میں تھا اسے بھی جمع کرنے لگے اور (خادم سے) فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے۔اس کے بعد خادم کو روکے رکھا۔آخر جن کے گھر میں وہ کٹورا ٹوٹا تھا ان کی طرف سے نیا کٹورا منگایا گیااور آپ نے وہ نیا کٹورا ان زوجہ مطہرہ کو واپس کیا جن کا کٹورا توڑ دیا گیا تھا اور ٹوٹا ہوا کٹورا ان کے یہاں رکھ لیا جن کے گھر میں وہ ٹوٹا تھا‘‘ 
آپ نے تمام ازواجِ مطہرات کا نفقہ بھی الگ الگ متعین کر دیا تھا۔جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے :
عن عمر بن الخطاب قال ان النبی کان یبیع نخل بنالنضیر و یحبس لاھلہ قوت سنتھم (صحیح بخاری:5357)
"حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بنی نضیر کے باغ کی کھجوریں بیچ کر اپنے گھر والوں کے لیے سال بھر کی روزی جمع کر دیا کرتے تھے‘‘
پھر جب مسلمانوں نے خیبر فتح کیا اور خوش حالی آئی تو ازدواج کے لیے 80 وسق کھجور اور 20 وسق جو سالانہ مقرر کیا گیا۔حدیثِ نبوی ہے:
عن عبد اللہ بن عمر ان النبی عامل اھل خیبر بشرط ما یخرج من زرع او ثمر و کان یعطی زواجہ مائة وسق ثمانون وسق تمر و عشرون وسق شعیر و قسم عمر فخیر ازواج النبی ان یقطع لھن من الماءو الارض او یمضی لھن فمنھن من اختار الارض و منھن من اختار الوسق و کانت عائشة اختارت الارض (صحیح بخاری: 2328)
عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے(خیبر کے یہودیوں سے) وہاں(کی زمین میں)پھل کھیتی اور جو بھی پیداوار ہو اس کے آدھے حصہ پر معاملہ کیا تھا۔آپ اس میں سے اپنی بیویوں کو 100وسق دیتے تھے ۔ جس میں 80 وسق کھجور ہوتی اور 20 وسق جو۔پھر حضرت عمر ؓ نے (اپنے عہدِ خلافت میں) جب خیبر کی زمین کی تقسیم کی تو ازواجِ مطہرات کو اس بات کا اختیار دیا کہ اگر وہ چاہیں تو انہیں بھی وہاں کا پانی اور قطعہ زمین دے دیا جائے یا وہی پہلی صورت باقی رکھی جائے۔چنانچہ بعض نے زمین لینا پسند کیا او ربعض نے پیداوارلینا پسند کیا۔ حضرت عائشہؓ نے زمین ہی لینا پسند کیا تھا
حضرت فاطمہؓ آپ کی سب سے چہیتی بیٹی تھیں ان کی شادی آپ نے حضرت علیؓ سے کی جو آپ کو بہت عزیز تھے ،اس کے باوجود شادی کے بعدان کو الگ مکان دیا۔حضرت علیؓ کی شادی کے وقت ان کی مالی حالت تنگ تھی اس لیے حضرت حارثہؓ بن نعمان انصاری نے اپنا گھر آپ کو ہدیہ کے طور پر پیش کیا کہ آپ اور حضرت فاطمہؓ اس گھر میں رہیں ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت شادی کے لیے لڑکوں کے پاس ذاتی گھر کا ہونا ضروری تھا۔ہمارے یہاں زیادہ تر مردوں اور عورتوں کی احکامِ شریعت سے غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ شادی کے وقت لڑکے لڑکی کی صلاحیت کے بجائے پوری توجہ ان کے والدین کی ’ صلاحیتوں ‘ پر مرکوز ہوتی ہے کہ لڑکی کے والدین کتنا جہیز دے سکتے ہیں اور لڑکے کے والدین ہماری بیٹی کو کتنے بڑے گھر میں رکھ سکتے ہیں۔ان سب کے بجائے اس پر توجہ دی جائے کہ لڑکے لڑکیوں کو شروع ہی سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو اور خاص کرلڑکوں کوپتا ہو کہ ہمیں شادی سے پہلے اپنے پیروں پر کھڑا ہو جانا ہے اور والدین کی بیساکھی کے ذریعہ شادی نہیں کرنی ہے تو وہ یقینا کچھ نہ کچھ محنت کر کے بننا چاہیں گے۔
اگر صحابہ کرام کے طور طریقوں پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی اکثریت مشترکہ خاندانی نظام کے بجائے جداگانہ نظام کے تحت رہا کرتی تھی۔قرآن کریم کی یہ آیتِ کریمہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے:
لیس علی الاعمیٰ حرج و لا علی الاعرج حرج ولا علی المریض حرج و لا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم او بیوت اٰبآءکم او بیوت امھٰتکم او بیوت اخوانکم او بیوت اخوٰتکم او بیوت اعمامکم او بیوت عمٰتکم او بیوت اخوالکم او بیوت خٰلٰتکم او ما ملکتم مفاتحہ او صدیقکم لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیة من عند اللہ مبٰرکة طیبة کذالک یبین اللہ لکم الاٰیٰت لعلکم تعقلون (النور:61)
 ’ ’اندھے پر،لنگڑے پر،بیمار پر اور خود تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھا لو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماوں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنی خالاں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیوں کے مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ تم پر اس میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھا یا الگ الگ۔پس جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کر لیا کرو دعائے خیر ہے جو با برکت اور پاکیزہ ہے اللہ تعالی کی طرف سے نازل شدہ،یوں ہی اللہ تعالی کھول کھول کر تم سے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں والدین ، اولاد اور دوسرے رشتہ دار الگ الگ گھروں میں رہا کرتے تھے۔حضرت عبدالرحمان بن ابوبکرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ نہیں رہا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود والدین کی خدمت کا پورا خیال رکھتے تھے اور اس سلسلے میں ان کی ناراضی بھی برداشت کیا کرتے تھے۔
عہدِ حاضر میں مشترکہ خاندانی نظام کو بہتر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خصوصا برِ صغیر میں الگ الگ گھروں میں رہنے کو مغربی تہذیب کے مشابہ قرار دیا جاتاہے۔مگر کیاواقعی یہ نظام صحیح ہے؟ اسلام اس کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے اور اس میں کیا فوائد و نقصانات ہیں ؟ اس پر عموما توجہ نہیں دی جاتی ہے۔
اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ مشترکہ خاندانی نظام کا تصور ہمارے یہاں ہندوں کی دیکھا دیکھی آیا ہے۔ان کے یہاں پردے وغیرہ کا کوئی تصور نہیں ہوا کرتا ہے بلکہ ایک عرصے تک ایک بھائی کی بیوی کو سب بھائیوں کی مشترکہ بیوی سمجھنا،سالی کو آدھی گھر والی کہنا اور دیور بھابھی میں خطرناک حد تک چھیڑ چھاڑاور ہنسی مذاق اس سماج کا حصہ تھا۔بدقسمتی سے ثانی الذکر کو مسلمانوں نے بھی “ سب چلتا ہے” کے اصول پر اپنا لیا ہے،جو کہ کسی حالت میں جائز نہیں ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام سے مراد وہ گھر ہے جہاں ساس ،سسر ،بیٹے ،بیٹیاں اور بہویں وغیرہ ایک ساتھ رہتے ہوں۔ممکن ہے بعض لوگوں کو مشترکہ خاندانی نظام میں بہت سے فوائد نظر آئیں جیسے آپسی تعاون کا فروغ، خاندانی رشتوں کی پاسداری ، بزرگوں سے بچوں کا استفادہ اور تربیت ہونا ، لوگوں کا دکھ سکھ کے موقع پر کام آنا وغیرہ۔مگر اسلام میں کسی چیز کے بارے میں ا س کی اچھائی یا برائی کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جاتا ہے بلکہ اس کے صحیح یا غلط ہونے کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے ۔ ورنہ شراب میں بھی کچھ نہ کچھ فوائد ہیں مگر اس سے شراب حلال نہیں ہو جائے گی۔کیوں کہ مجموعی طور پر اس کے نقصانات زیادہ اور فوائد کم ہیں۔
مشترکہ خاندانی نظام اسلامی اصولوں کے خلاف ہے ۔اس کی وجہ سے جن مسائل کا سامنا مسلم معاشرے کو کرنا پڑ رہا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں جس کے نہایت برے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
(1) بے پردگی اور نامحرم سے اختلاط
اسلام نے انسانی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی کی ہے۔ان میں سے ایک پردہ اور نامحرم سے اختلاط کو روکنا بھی ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
و قل للمومنٰت یغضضن من ابصرھن و یحفظن فروجھن ولا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا و لیضربن بخمرھن علی جیوبھن ولا یبدین زینتھن الا لبعولتھن او اٰبآئھن او اٰبآءبعولتھن اوابنآئھن اوابنآءبعولتھن او اخوانھن او بنی اخوٰتھن او نسآئھن او ما ملکت ایمانھن اوالتٰبعین غیر اولی الاربة من الرجال او الطفل الذین لم یظھروا علی عورٰت النسآءولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن و توبوا الی اللہ جمیعا ایہ المومنون لعلکم تفلحون(النور:31)
اور اے نبی،مومن عورتوں سے کہہ دوکہ اپنی نظر بچا کر رکھیں،اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،اور اپنا بنا سنگھار نہ ظاہر کریں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے،او راپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔وہ اپنا بنا سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے:
شوہر،باپ،شوہروں کے باپ،اپنے بیٹے،شوہروں کے بیٹے،بھائی،بھائیوں کے بیٹے،اپنے میل جول کی عورتیں،اپنی لونڈی،غلام،وہ زیرِدست مردجو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں،اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔وہ اپنے پاں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انھوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔ائے مومنو،تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو،توقع ہے کہ فلاح پا گے
یہ احکام صرف عورتوں کے لیے نہیں بیان ہوئے ہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی ہیں مثلا نگاہیں نیچی رکھنے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے میں دونوں سے خطاب کیا گیا ہے۔مگر اب جب بھی بات پردے کی ہوتی ہے تو اس سے مراد صرف عورتوں کا پردہ لیا جاتا ہے اورمرد حضرات کچھ بھی کرتے پھریں،اس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔
قرآن میں اگر عورتوں کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے تو اس وجہ سے کہ عورتوں کی حفاظت اسلام کا بنیادی نظریہ رہا ہے اور یہ کہ اللہ تعالی نے عورتوں کو زیادہ پر کشش بنایا ہے پھر ان کی شخصیت کو باوقار بنانے کے لیے پردے کے احکام دیے گئے ہیں ۔ارشادِ ربانی ہے:
یاایھا النبی قل لازواجک و بناتک و نسآءالمومنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنیٰ ان یعرفن فلا یوذین(الاحزاب:59)
اے نبی! اپنی بیویوں،بیٹیوںاور مومنوںکی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادر ڈال لیا کریں۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں پریشان نہ کیا جا سکے
اسی وجہ سے عورتوں کو اپنی آواز میں بھی سختی رکھنے کا حکم دیا گیا جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
یٰنسآءالنبی لستن کاحد من النسآءان اتقیتن فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض و قلن قولا معروفا(الاحزاب:32)
نبیﷺ کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے،بلکہ صاف سیدھی بات کرو
بد قسمتی سے ہمارے یہاں پردے کا تصور عورتوں اور لڑکیوں کو تعلیم اور نوکری سے روکنا ، زبردستی شادی کرانا اور اجنبیوں سے پردہ کرانے تک محدود ہے۔نامحرم قریبی رشتے داروں،دیور ،جیٹھ ، کزنس،اور دوستوں وغیرہ سے پردہ کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام میں اس طرح کے رشتہ دار عموما ساتھ رہا کرتے ہیں۔ایک لڑکے کا پورا خاندان اس کے لیے تو محرم ہے لیکن اس کی بیوی کے لئے شوہر کے خاندان کے زیادہ تر لوگ نامحرم ہیں،اب اگر وہ سارے وقت پردے میں رہے تو خود اس کو مشکل ہو گی اور سسرال والے بھی ناراض ہو جائیں گے کہ’ دلہن‘ نامعقول لگتی ہےگھلتی ملتی نہیں ہےمغرور ہے یاملانی ہے وغیرہ وغیرہ۔اس لیے کسی انسان کو حق نہیں کہ بیوی کو ایسے گھر میں رہنے پر مجبور کرے جہاں غیر محرم رہتے ہوں چاہے وہ اس کے کزنس یا بھتیجے بھانجے ہی کیوں نہ ہوں۔حدیث ِ نبوی ہے:
عن عقبہ بن عامر ان رسول اللہ قال: ایاکموالدخولعلیالنساء۔فقالرجلمنالانصاریارسول اللہ !افرایت الحمو؟ قال : الحمو الموت(صحیح بخاری:5232)
رسول ﷺ نے فرمایا!اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچو،ایک انصاری نے عرض کیا:یا رسول اللہ حمو کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟آپ نے فرمایا کہ حمو تو موت ہے
حمو سے مراد شوہر کے وہ عزیز و اقارب ہیں جن سے عورت کا نکاح ہو سکتا ہے۔شوہر کے رشتے داروں سے خلوت نشینی،اجنبیوں کے ساتھ خلوت میں رہنے سے کہیں زیادہ خطر ناک ہے اور اسی وجہ سے مشترکہ خاندانی نظام میں اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ویسے بھی گھروں میں سترِ عورت سے زیادہ حجاب کا مسئلہ ہوتا ہے۔اسی وجہ سے آپ نے اس پر اتنی تاکید کی ہے جیسا کہ اس حدیثِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے آپ نے فرمایا :
لا تلجوا علی المغیبات ، فان الشیطان یجری من احدکم مجری الدم (الجامع للترمذی مع التحفة:1/1188)
جن عورتوں کے شوہر گھر پر موجود نہ ہوں،ان کے یہاں مت جا کیوں کہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح رواں رہتا ہے
(2)پرائیویسی کا خاتمہ
مشترکہ خاندانی نظام میں پرائیویسی کے ان اصولوں کو اپنانا بہت ہی مشکل ہوتا ہے جس کی قرآن و حدیث میں تعلیم دی گئی ہے ۔ارشادِ ربانی ہے:
یٰا ایھا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم و الذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلٰث مرٰت من قبل صلٰوة الفجر و حین تضعون ثیابکم من الظھیرة و من بعد صلٰوة العشآءثلٰث عورٰت لکم لیس علیکم و لا علیھم جناح بعدھن طوٰفون علیکم بعضکم علی بعض کذلک یبین اللہ لکم الاٰیٰت و اللہ علیم حکیم(النور:58)
اے ایمان والو!تمہارے غلام اور وہ لڑکے جو حدِ بلوغ کو نہیں پہنچے ہوں،تین وقت میں تم سے (تخلیہ میں آنے کی) اجازت حاصل کر لیں۔ایک نمازِ فجر سے پہلے ، دوسرے ظہر کے وقت جب تم آرام کے لئے کپڑے اتار لیتے ہو اور عشاءکے بعد،تین وقت تمہارے پردے کے ہیں۔ان کے علاوہ نہ تم پر کوئی الزام ہے نہ ہی ان پرتم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو،اللہ اس طرح کھول کھول کر اپنے احکام تم سے بیان فرما رہا ہے۔اللہ تعالی پورے علم اور کامل حکمت والا ہے‘‘
جب کہ مشترکہ خاندانی نظام میں صورتِ حال عموما یہ ہوتی ہے کہ ایک ہی کمرے میں میاں بیوی،بچے اور بسا اوقات دوسرے لوگ بھی رہتے اورسوتے ہیں۔جس کے نتیجے میں کتنے مسائل کھڑے ہوتے ہیں اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔اس میں شوہر اور بیوی کو زیادہ ملنے کا بھی موقع نہیں ملتا،خاص کر نوجوان جوڑوں میں شروعاتی دور میں اس کا غلبہ رہتا ہے لیکن انھیں اس کے مواقع میسر نہیں ہوتے ،چنانچہ اس کے برے نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے:
اذا دعا الرجل زوجتہ لحاجتہ فلتاتہ و ان کانت علی التنور(جامع الترمذی :1182)
جب کوئی شخص اپنی بیوی کوضرورت پوری کرنے کے لیے بلائے تو وہ فورا آجائے،اگرچہ وہ تنور پر بیٹھی ہوئی ہو‘‘
ایک دوسری حدیث ہے :
عن جابر ؓان رسول اللہرای امراة فاتی امرتہ زینب و ھی تمعس منیئة لھا فقضی حاجتہ ثم خرج الی اصحابہ فقال ان المراة تقبل فی صورة شیطان و تدبر فی صورة شیطان فاذا ابصر احدکم امراة فلیات اھلہ فان ذلک یرد ما فی نفسہ(صحیح مسلم:3407)
حضرت جابر ؓبن عبد اللہ سے روایت ہے کہ آپ نے کسی عورت کو دیکھا تو آپ اپنی بیوی حضرت زینب ؓ کے پاس آئے۔اس وقت وہ چمڑے کو دباغت دینے میں مصروف تھیں،آپ نے انھیں بلایا اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی ۔پھر صحابہ کرام کے پاس آئے اور فرمایا!عورت شیطان کی صورت میں آتی جاتی ہے،اس لیے اگر تم میں سے کسی کی نظر دوسری عورت پر پڑ جائے تو وہ اپنی بیوی سے اپنی ضرورت پوری کر لے کہ یہ چیز اس کی پریشان خیالی کو ختم کرے گی
اس کے ساتھ اس طرح کے گھروں میں شرم و حیاکی وجہ سے نمازیں قضا ہو جایا کرتی ہیں۔لیکن اگر الگ گھر یا کمرے ہوں تو ان تمام مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔اسی وجہ سے شریعت نے بیوی کو یہ حق دیا ہے کہ وہ الگ رہائش کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔ارشادِ ربانی ہے:
و اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم و لا تضاروھن لتضیقواعلیھن (الطلاق:6)
اور عورتوں کو رہائش فراہم کرو جو تمہاری حیثیت کے مطابق ہو اور ان کو تکلیف نہ پہنچا کہ وہ تنگ آجائیں
مفسرین اور فقہائے کرام نے اس سے مراد صرف ایک کمرے کی چھت کو نہیں لیا ہے بلکہ اس سے مراد ایک الگ گھر ہے جس میں عورت آزادی سے رہ سکے اور اپنی نجی زندگی گزار سکے۔اس سلسلے میں علامہ کاسانیؒ فرماتے ہیں:
ولو اراد الزوج ان یسکنھا مع ضرتھا او مع احمائھا کام الزوج و اختہ و بنتہ من غیرھا و اقاربہ فابت ذلک علیہ ان یسکنھا فی منزل مفرد لانھن ربما یوذینھا و یضررن بھا فی المساکنة و ابائھا دلیل الاذیٰ و الضرر و لانہ یحتاج الی ان یجامعھا و یعاشرھا فی ای وقت یتفق ، و لا یمکنہ ذلک اذا کان معھما ثالث حتیٰ لو کان فی الدار بیوت ففرغ لھا بیتاً و جعل لبیتھا غلقاً علی حدة قالوا انھا لیس لھا ان تطالبہ ببیت آخر(بدائع الصنائع :کتاب النفقة:3/428،429)
اگر شوہر اپنی بیوی کو اس کی سوکن،دیوروں،شوہر کی ماں،بہن،لڑکی یا دیگر رشتہ داروں کے ساتھ رکھنا چاہے او ر عورت اس کے لیے آمادہ نہ ہو تو شوہر پر لازم ہے کہ اس کو جدا گانہ مکان میں رہائش دے،اس لیے کہ ایک ساتھ رہنے سے ایک دوسرے کو تکلیف ہو سکتی ہے،چنانچہ انکار کرنا اس کی علامت ہے،نیز عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ کسی بھی وقت تنہائی کی ضرورت ہے اور تیسرے کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں،البتہ ایک بڑے گھر میں کئی کمرے ہوں اور شوہر ان میں سے ایک کمرہ اپنی بیوی کے لیے خاص کر دے اور اس کے لئے تالا چابی الگ کر دے تو فقہا نے کہا ہے کہ پھر اسے مزید کسی کمرہ یا مکان کے مطالبہ کا حق نہیں رہ جائے گا
لیکن بعض فقہاءنے ساتھ میں کچن،باتھ روم وغیرہ کا بھی الگ ہونا ضروری قرار دیا ہے۔
(3)باہمی سوچ کا مختلف ہونا
اللہ تعالی نے انسانوں کو ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے اور سب کو الگ الگ مقاصد اور صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
و ھو الذی جعلکم خلٰئف الارض و رفع بعضکم فوق بعض درجات لیبلوکم فی ما اٰتاکم ان ربک سریع العقاب و انہ لغفور رحیم(الانعام:166)
اللہ تعالی ہی نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور باہم فرق مراتب رکھا تا کہ تم کو عطا کردہ چیز کے بارے میں آزمایے،بے شک تیرا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور وہ یقیناً بخشنے والا اور مہربان بھی ہے
پھرمشترکہ خاندانی نظام میں یہ کیسے ممکن ہے کہ سب کا مقصد اور سب کی پسند ایک ہو ؟ہر ایک اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کھانا پینا ،اٹھنا بیٹھنا چاہتا ہے اور یہ اس کا بنیادی حق ہے ۔اب اگر اس کو اپنا بنیادی حق ہی نہ ملے تو گھر میں سکون اور خوشی کیسے میسر ہوسکتی ہے؟ایک گھر میں بیس پچیس افراد ہوں اور کئی بہویں مل کرساس کی نگرانی میں کھانا پکاتی،صفائی کرتی ہوںاور کیا مجال کہ بیٹا یا بہو منہ کھول سکے تو اس کا نتیجہ عموما یہ ہو تا ہے کہ دلوں میں کینہ و بغض بھرا ہوتا ہے اور ایک دوسرے پر اعتراضات،لعن طعن،تنقیدیں کی جاتی ہیں۔اس طرح گھر کا سکون درہم برہم ہوجاتا ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام میں عموماسارے فیصلے بڑے بھائی کرتے ہیں۔کاروباری معاملات میں فیصلہ کریں تو کریں مگرگھر کے دوسرے میاں بیوی کے ذاتی معاملات میں بڑے بھائی کہاں سے ٹپک پڑے؟اس سے ان کے حقوق کی حق تلفی ہوتی ہے اور رشتوں میں دراڑ آتی ہے۔
(4)گھریلو کام کاج کا مسئلہ
ہمارے یہاں ایک بڑے طبقہ میں لڑکوں کی شادی ہی اس غرض سے کی جاتی ہے کہ کوئی گھر چلانے والی آجائے جوسب کی خدمت کرے،ساس سسر کا دھیان رکھے۔اب اگر بہو تعلیم حاصل کرناچاہے یا کوئی کتاب ہی پڑھنے لگے تو گھر میں طوفان برپا ہو جاتا ہے ۔آج کا دور کمپیوٹر،انٹرنیٹ کا دور ہے۔گھر کے تمام افرادکمپیوٹر چلا سکتے ہیں،حتی کہ بچے بچیاں اس پر گیم کھیل سکتے ہیں مگر بہو صرف کمپیوٹر’ صاف‘ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
بہوپر ساس سسر کی خدمت کے لیے زور دیا جاتا ہے ۔ مگر خدمت و اطاعت کا حکم ماں باپ اور شوہر کے لئے ہے نہ کہ ساس سسر کے لیے۔ان کی خدمت بیٹوں کی ذمہ داری ہے۔ مگر انھیں بہوں سے ہی خدمت کرانے کا شوق ہوتا ہے ۔یہ تو تب ہی ممکن ہوگا جب ساس سسر بہو کو بیٹی کا درجہ دیں اور کسی خدمت کی توقع نہ کریں۔کیوں کہ اولاد سے تو کوئی زیادتی نہیں کرتا ہے اور نہ ہی امید رکھتا ہے کہ بیٹے، بیٹیاں خدمت کے لیے ایک ٹانگ پر کھڑے رہیں۔جب بہو کو بیٹی کا درجہ ملے گا تو وہ بھی بے لوث محبت کے ساتھ ساس سسر کو والدین کا درجہ دے گی ا ور خوشی خوشی خدمت کرے گی۔
بہت سے نیک لوگ بھی اپنی بیوی کو ماں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ارے بھائی!آپ شوہر ہو تو خود معاملات دیکھو۔خود ایک طرف ہو کر بچی کو ایک عورت کے سپرد کر دینا ،یہ کیا بات ہوئی؟؟پھر ساس کو بھی حکومت کرنے میں مزا آتا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا بتنگڑبنا لیتی ہیں۔اپنی بیٹی وہی غلطی کرے تو نظر انداز کر جاتی ہیں اور بہو نے اس سے کم درجہ کی ہی غلطی کر دی تو شہر بھر کا موضوعِ گفتگو بنا دیتی ہیں۔جس سے ساس بہو میں سرد جنگ چھڑ جاتی ہے اور گھر کا ماحول خراب ہوجاتا ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام میں ایک مسئلہ یہ بھی ہوتاہے کہ نندوںکا مہینے میں ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ میکے میں گزرتا ہے اوربھابھی پر اپناپورا حق بلکہ حکم چلایایا جاتاہے حتی کہ اپنے بچوں کی بھی خدمت کرائی جاتی ہے مگر اپنے فرائض و حقوق سے مکمل طور پر آنکھیں موند لی جاتی  ہیں۔اس سے آپسی تعلقات خراب ہوتے ہیں اور دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ قربت دلوں میں دراڑیں پیدا کرتی ہے ۔عربی کا ایک مقولہ ہے:
تعاملوا کالاجانب و تعاشروا کالاخوان
آپس میں معاملات اجنبیوں کی طرح کرو اور رہن سہن بھائیوں کی طرح رکھو
(5)خاندان کا ایک ذات پر منحصر رہنا
عموما مشترکہ خاندانی نظام میں ایک کمانے والا ہوتا ہے اور دس بیٹھ کر مفت کی روٹیاں توڑتے ہیں۔ان گھروں میں ایسے افراد ہوتے ہیں جو کام کر سکتے ہیں مگر کرنا نہیں چاہتے۔مغربی ترقی یافتہ ممالک میں اس کی مثال نہیں ملے گی۔ایسے خاندانوں میں ایک عجیب و غریب مفروضہ ہوتا ہے کہ کسی بے کار آدمی کی شادی کر دو تو وہ خود ہی ’سیٹ ‘ہو جائے گا لیکن اگر اس میں ناکامی ملی تو خاندان کے دوسرے لوگوں کو اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ مرد اگر بیوی کو روٹی ، کپڑا اور مکان مہیا نہ کر سکے تو اسے شادی نہیں کرنی چاہیے۔ ارشادِ ربانی ہے:
و لیستعفف الذین لا یجدون نکاحا حتی یغنیھم اللہ من فضلہ (النور:33)
اور چاہیے کہ بچے رہیں (پاکدامن رہیں) وہ جو کہ نکاح (مقدور) نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ تعالی انھیں اپنے فضل سے غنی کر دیں
ورنہ جب تک والد زندہ رہتے ہیں خرچ برداشت کرتے ہیں کیوں کہ ان کو بہر حال اولاد سے محبت ہوتی ہے پھر ان کے انتقال کے بعد بھائیوں میں بٹوارا ہو جاتا ہے اور لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔آپسی تعلقات ختم ہو جاتے ہیں کیوں کہ بڑا بھائی تمام افراد کا خرچ اٹھانا نہیں چاہتا اور گھر والوں سے الگ ہونے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔
بعض دفعہ مالی تنگی کی وجہ سے لوگ خلیج ممالک کا رخ کرتے ہیں اور سالہا سال باہر رہتے ہیں،بیوی کو دیور یا قریبی رشتے داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہیں جس سے غیر مسلوں تک سے تعلقات قائم ہو جاتے ہیںاورمعاشرے میں سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں پھر گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ آج کل اس طرح کی مثالیں کثیر تعداد میں نظر آتی ہیں۔اسی وجہ سے حضرت عمرؓ نے اپنی بیٹی حضرت حفصہؓ سے پوچھ کر چار مہینہ سے زائد کسی کو جہاد جیسے عظیم فریضے میں جانے سے روک دیا تھا۔
(6)فضول خرچی اور لاپروائی
مشترکہ خاندانی نظام میں لوگ ہر چیز کو پرائے کا مال سمجھ کر اسے بے دردی اور لاپرواہی سے استعمال کرتے ہیں۔اس سے روپے اور سامان کا ضیاع ہوتا ہے جس کو قرآن کریم نے فضول خرچی میں شمار کیا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
ولا تبذر تبذیراان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین ۔وکان الشیطان لربہ کفورا(سورة بنی اسرائیل:27)
فضول خرچی نہ کرو،فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے
اگر وہی چیزیںاستعمال کرنے والوں کی اپنی ہوں تو سوچ سمجھ کے ضرورت کے مطابق استعمال کی جاتی ہیں۔اسی طرح اس نظام میں پانی،بجلی کے یا دوسرے مختلف طرح کے بل زیادہ آتے ہیں جس کا اثر نمایاں طور پر گھر کی ضرورتوں اور بچوں کی تعلیم پر پڑتا ہے ۔
بسا اوقات اس کی وجہ سے انسان لوگوں کا مقروض ہو جاتا ہے۔اسی وجہ سے قرآن نے مسلمانوں کو اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے تا کہ قرض لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔آپ قرض کو ناپسند کرتے تھے کیوں کہ یہ شب و روز کی پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔اوراس سے پناہ مانگا کرتے تھے:
اللھم انی اعوذبک من غلبة الدین و قھر الرجال(ابوداﺅد:1555)
خدایا!میں تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے غلبہ اور آدمیوں کے قہر سے
اورنماز میں اکثر آپ یہ دعا مانگا کرتے تھے:
اللھم انی اعوذبک من الماثم و المغرم فقیل لہ انک تستعیذ من المغرم کثیرا یا رسول اللہ؟ فقال ان الرجل اذا غرم حدث فکذب ووعد فاخلف(صحیح بخاری:823)
خدایا! میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے۔کسی نے پوچھایا رسول اللہ کیا بات آپ اکثر قرض سے پناہ مانگتے ہیں؟فرمایا:آدمی جب مقروض ہو جاتا ہے تو اس کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے
ان ہدایات کے پیشِ نظر انسان کو فضول خرچی سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ وہ کسی کا مقروض نہ ہو اور اگر شدید ضرورت کے تحت لینا ہی پڑ جائے تو ہمیشہ ادائیگی کی نیت رکھنی چاہیے۔حدیث میں ہے:
من ادان اموال الناس یرید اداءھا ادی اللہ عنہ و من اخذھا یرید اتلافھا اتلفہ اللہ(صحیح بخاری:2387)
’’جس نے لوگوں کا مال قرض کے طور پر لیا اور اس کو ادا کرنا چاہا تو اس کا قرض اللہ تعالی ادا فرمائے گا۔ اور جس نے تلف کرنے کے ارادے سے لیا تو اللہ تعالی اس کو تلف فرمائے گا
(7)جائیداد اور ترکہ کی عدمِ تقسیم
مشترکہ خاندانی نظام میںایک خرابی یہ ہے کہ اس میں جائیداد یا ترکہ اور ذرائع آمدنی کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی،بلکہ بسا اوقات تو تقسیم ہی نہیں ہوتی ہے پھر جب سالوں بعد تقسیم کا عمل ہوتا ہے تو ایک دوسرے سے بغض و عداوت،دشمنی،حسد،تہمت اور الزام تراشی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ساری خیر سگالی،تعاون اور ایک دوسرے سے ہمدردی کے جذبہ کی ہوا نکل جاتی ہے۔اگر لوگ جداگانہ طرزِ رہائش شروع سے ہی اختیار کر لیں تو ان تمام مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالی نے میراث کا نظام اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر نافذ کیا ہے۔اس سے تمام حق دار کو ان کا حق مل جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے لوگوں کو احکامِ الٰہی اور شریعت کی پابندی کرنے کا حکم دیا ہے۔جس نے اس کی اطاعت کی تو اس کے لیے جنت ہے اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس کے لیے جہنم ہے۔
جیسا کہ وصیت کے سلسلے میں ارشادِ ربانی ہے :
تلک حدوداللہ ومن یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھٰر خٰلدین فیھا وذلک الفوز العظیم۔ ومن یعص اللہ و رسولہ و یتعد حدودہ یدخلہ نارا خالدا فیھا و لہ عذاب مھین(النسآئ:14،13)
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے
(8)بدگمانی کی کثرت
مشترکہ خاندانی نظام میں اکثر ساس بہو اور نند کے درمیان بدگمانی،غیبت اور تجسس وغیرہ کی فضا چھائی رہتی ہے اورہر آنے جانے والوں سے ایک دوسرے کی شکایت اور لگائی بجھائی کا کام ہوا کرتا ہے۔اس سے میاں بیوی کے رشتے میں دراڑ آجاتی ہے اور کبھی کبھی پورا خاندان متاثر ہو جاتا ہے اور یہ کہ گھریلو معاملات یا باتوں سے باہر کے لوگ یا رشتے دار وغیرہ واقف ہو جاتے ہیں جس کے بسا اوقات خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس سلسلے میں جو رہنمائی کی ہے وہ صرف مردوں کے لیے نہیں ہے ۔
ارشادِ ربانی ہے :
یا ایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم و لا تجسسوا ولا یغتب بعضکم بعضاً ا یحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا فکرھتموہ و اتقوا اللہ ان اللہ تواب رحیم (الحجرات:12)
اے ایمان والو !بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو،بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والامہربان ہے
(9)بچوں پر منفی اثرات
ان تمام باتوں کا بچوں پر بھی نمایا ں اثر پڑتا ہے۔ان کی تعلیم و تربیت صحیح ڈھنگ سے نہیں ہو پاتی ہے کیوں کہ جب ایک ہی گھر میں مختلف سوچ رکھنے والے ہوتے ہیں تو بچے کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کس کی بات صحیح ہے اور کس کی غلط؟اس سے ان کی خود اعتمادی مجروح ہوتی ہے اور آگے کی زندگی میں ان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ بچوں کے بگڑنے میں وجہ یہ رہتی ہے کہ بزرگ مرد یا خواتین، بچوں کو ڈانٹنے یا مارنے نہیں دیتے اور ان کی غلطیوں کی چشم پوشی کرتے ہیں،اس سے بچے بگڑ جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ اس طرح کے خاندانی نظام میں بچوں،بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملات زیادہ ہوتے ہیں اور اس میں قریبی رشتے داروں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے جو ان کے درمیان رہا کرتے ہیں کیوں کہ بچے،بچیاں اجنبی لوگوں کے مقابلے میں مانوس لوگوں سے زیادہ گھلتے ملتے ہیں۔ماں باپ بھی ساتھ رہنے والوں پر اندھا اعتماد کرکے انھیں ان کے پاس چھوڑ دیا کرتے ہیں جس کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑتا ہے۔
ایک مسئلہ اس طرح کے نظام میں بھی یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کی کمائی کم ہوتی ہے ،خودان کے لیے اور ان کی بیوی بچوں کے لیے بھی مصیبت کھڑی ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ زیادہ کما پوت کی مان جان بھی زیادہ ہوگی۔اس سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی اہمیت یا قدر صرف اس وجہ سے نہیں ہوتی ہے کہ ان کے والد نہیں کما رہے ہیںیاکم کما رہے ہیں۔اس وجہ سے ان میں دوسروں سے حسد،بغض اور نفرت کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اسلام نے ان وجوہات کی بنا پر مشترکہ خاندانی نظام کی حوصلہ شکنی کی ہے اور آسان طرزِ زندگی اپنانے پر زور دیا ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب خاندان چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کی شکل میں رہیں چاہے یہ حجرہ( فلیٹ) کی شکل ہی میں کیوں نہ ہو جیسا کہ آپ کا طریقہ تھا۔
بہت ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ خیال آئے اگر مشترکہ خاندانی نظام کو نہ اپنایا جائے تو والدین کہاں جائیں گے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کیسے ہوگی؟کیوںکہ ایسا کرنے سے وہ بالکل تنہا اور بے سہاراہو جائیں گے، تو یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ والدین کے حقوق کو ادا کرنے کا مشترکہ اور غیر مشترکہ خاندانی نظام سے تعلق نہیں ہو تا ہے،بلکہ اس کا تعلق خوفِ خدا اور اللہ اس کے رسول کی اطاعت و فرمابرداری سے ہے۔یہ لازمی نہیں ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام ہی میں اولاد اپنے والدین کا حق ادا کر سکتی ہے اور جداگانہ نظام میں نہیں۔
آج کل باآسانی ایسے فلیٹ بنائے جا سکتے ہیں جن میں سب کے لیے الگ الگ یونٹ ہو۔ایسے والدین اور دوسرے رشتے داروں کے حقوق کی ادائیگی بھی ہو جائے گی اور مشترکہ خاندانی نظام کے مضر اثرات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ورنہ عموما دیکھا یہ جاتا ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام میں والدین ایک کونے میں پڑے رہتے ہیں اور سب لوگ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالے مگن رہتے ہیںیا پھر باری لگا دی جاتی ہے کہ اتنے سے اتنے دن ایک بہو سنبھالے گی اور بقیہ دن دوسری بہو۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہویں بس کام ٹھکانے لگاتی ہیں جس سے حساس طبیعت والے والدین ایک الگ ہی کرب سے گزرتے ہیں۔جب کہ اولاد کا والدین پر یہ حق ہے کہ وہ ان کے ساتھ نیک اور اچھا سلوک کریں۔ان کی اطاعت کریں اور ان کا احترام کریں۔ارشادِ ربانی ہے:
ووصینا الانسان بوالدیہ احسٰنا(الاحقاف:15)
ہم نے انسان کو ہدایت دی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتا کرے
ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا :
من احق الناس بحسن صحابتی؟قال امک،قال ثم من؟قال امک، قال ثم من؟ قال امک، قال ثم من؟ قال ابوک(بخاری:5981)
میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟آپ نے فرمایا:تمہاری ماں۔اس نے کہا اس کے بعد کون؟فرمایا تمہاری ماں۔اس نے کہا اس کے بعد کون؟فرمایا تمہاری ماں۔اس نے کہا اس کے بعد کون؟فرمایا تمہارا باپ”۔
آپ نے والدین کے ساتھ بدسلوکی کو کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے اور جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اس وقت ان کے ساتھ اچھا برتا کرنے کی بڑی تاکید فرمائی ہے کیوں کہ اس وقت ان کو سہارے کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔قرآن کریم نے اس کو اپنے خاص انداز میں بیان کیا ہے:
و قضٰی ربک الا تعبدوا الا ایاہ و بالوالدین احسانا، اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف و لا تنھر ہما و قل لھما قولا کریما۔ و اخفض لھما جناح الذل من الرحمة و قل رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا(الاسراء:23،24)
تیرے رب نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو نہ انھیں اف کہو اور نہ جھڑکو بلکہ ان سے شریفانہ بات کہو۔ اور ان کے لیے رحمدلی کے ساتھ پستی کے بازو جھکائے رہو اور دعا کرتے رہو کہ ائے میرے رب!ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا
آج کے دور میں عموما بچے جہاں بڑے ہوئے اور نوکری مل گئی تو ماں باپ کو تنہا چھوڑ کر چل دیتے ہیں اور بیوی کو بھی پاس بلا لیتے ہیں۔مروتا ً والدین کوپوچھ بھی لیا تووہ حالات کو سمجھتے ہوئے اجنبی جگہ یا اپنے گھر کی یادوں کا بہانا کرکے ٹال دیا کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن مجید ، سیرتِ رسول اور صحابہ کرام کی زندگی کے حوالے سے اسلامی خاندانی نظام کے تصور کو دنیا کے سامنے عملی شکل میں پیش کیا جائے ۔ اس لیے کہ اس وقت دنیا کو اسی کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭

       




Saturday, 8 February 2014

(Mobile Ke Nuqsanat) موبائل کے نقصانات


اسامہ شعیب علیگ 
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

عہدِ حاضر کا دور سائنس اور ٹکنالوجی کا ہے۔ روز بروز نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں اور انسان ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ تمام ایجادات اللہ تعالی کے دیے ہوئے علم کی بدولت ہو رہی ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:
علم الانسان ما لم یعلم(العلق:۵)
انسان کو وہ علم دیا جسے وہ جانتا نہ تھا
 انسان اس علم سے کام لے کر ٹکنالوجی کے میدان میں طرح طرح کی اشیا ایجاد کر رہا ہے۔ جیسے ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر ،انٹرنیٹ، اور موبائل وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں اللہ تعالی کی نعمتیں ہیں اور ہمیں ان کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ ورنہ یہی ہمارے لیے آخرت میں وبالِ جان بن جائیں گی۔ان نعمتوں میں سے ایک نعمت موبائل بھی ہے۔
 موبائل دو طرفہ مواصلت کا ذریعہ ہے۔آپ اس کے ذریعے نہ صرف سن اور دیکھ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ اپنے خیالات بھی شیئر کر سکتے ہیں۔اب یہ تو انسان کی مرضی پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس سے فحش باتیں اور تصاویر دیکھتا ہے یا قرآن و حدیث سنتا ہے اوراسے اچھے کاموں میں استعمال کرتاہے۔یہ آزادیِ انتخاب ہمیشہ سے انسانوں کے لیے ہے اور اسی کا نام زندگی ہے۔جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
 خلق الموت و الحیوة لیبلوکم ایکم احسن عملا(الملک:۲)۔
جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔

 موبائل کے نقصانات

 اس کے جہاں ایک طرف بہت سارے فوائد ہیں وہیں دوسری طرف نقصانات بھی ہیں۔جیسے چاقو سے پھل بھی کٹتا ہے اور چاقو سے گردن بھی کٹتی ہے۔اب یہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ اس کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔اس کے نقصانات درج ذیل ہیں۔
 (۱)سودی قرض پر موبائل خریدنا
 آج کل نوجوان لڑکے لڑکیوں میں موبائل کا کریز دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور مہینے دو مہینے پر موبائل بدل دینا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔یہ مہنگے موبائل کمپنیاںلوگوں کو انسٹرامنٹ (سود)پر دیتی ہیں کہ وہ بعد میں روپئے قسطوں میں سود سمیت ادا کر دیں گے۔مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس میں ملوث نظر آتا ہے۔جب کہ عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”سود کھانے والے،سود کھلانے والے،اس کے گواہوں اور لکھنے والوں پر اللہ تعالی کی لعنت ہے“ (ترمذی:1209) ۔
 ساتھ ہی اس پر بدترین عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔
 (۲)گانے اور فلمیں لوڈ کرنا
نوجوان لڑکے لڑکیوں میں گانے سننے اور فلمیں دیکھنے کا ایک جنون سا نظر آتا ہے۔چوراہے، نکڑوں اور چائے کی دکانوں پر بیٹھ کر ’اجتماعی گانے اور فلمیں‘دیکھی اور سنی جاتی ہیں۔سفر کے دوران بس اور ٹرین میں فل آواز میں میوزک سنی جاتی ہے۔جب سے چائینا موبائل عام ہوئے ہیں ،اس میں تو اتنی’ برکت‘ ہے کہ نہ صرف خود سنا جاتا ہے بلکہ ایک کلومیٹر تک کی ہر ذی روح کو سنایا جاتا ہے ۔یہ صحیح نہیں ہے۔حدیثِ نبوی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”میری امت میں سے کچھ لوگ ریشم،شراب اور معازف کو حلال کر لیں گے“(بخاری:5590) ۔ معازف سے مراد آلاتِ موسیقی ہیںاور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ۔
 (۳)نامحرم لڑکیوں کی تصاویر لوڈ کرنا
امتِ مسلمہ کا نوجوان طبقہ خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں عموماً اپنے موبائل میں نامحرم مرد وعورت جیسے ہیرو، ہیروئن،سنگرس اور کھلاڑیوں کی تصاویر رکھتے ہیں اور اسکرین پکچر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یہ جائز نہیں ہے۔حضرت ابوہریرةؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
 (غافل)آدمی حصے میں زنا کا جو حصہ لکھا ہے ،وہ اس کو پا کر رہے گا۔آنکھوں کا زنا شہوت کی نظر سے دیکھنا ہے،کانوں کا زنا فحش باتوں کا سننا ہے،زبان کا زنا اس طرح کی باتوں میں حصہ لینا ہے،ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے،پیر کا زنا اس کے لیے چل کر جانا ہے ،دل کا زنا اس کی خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ یا تو اس کی تصدیق کر دے گی یا تکذیب“ (مسلم:2657)۔
 (۴)کالر ٹون میں میوزک ،گانے اور قرآن یا اذان وغیرہ کا استعمال کرنا
عموماً لوگ رنگ ٹون میں میوزک یا گانے لگاتے ہیں۔یہ اسلام میں جائز نہیں ہے۔ اسی کی وجہ سے مسجدوں میں بھی گانوں اور میوزک کی آواز سنائی دینے لگی ہیں۔بہتر ہے کہ مسجدوں میں آتے ہوئے موبائل بند کر لیا جائے اور اگر نماز کے دوران کال آ بھی گئی تو اس کو فوراً بند کر دیا جائے۔
 بعض لوگ دین داری کے جذبے میں یا لاعلمی کی وجہ سے رنگ ٹون میں قرآن کی آیت یااذان وغیرہ کااستعمال کرتے ہیں ،جو صحیح نہیں ہے۔یہ تمام چیزیں دینی شعائر میں سے ہیں ان کو مذاق نہیں بنانا چاہیے۔کیوں کہ جب کوئی کال آتی ہے تو انسان کاٹ کر ریسیو کرتا ہے،یہ بھی ان کی بے ادبی کے مترادف ہے یاکبھی انسان ٹوائلٹ وغیرہ میں ہوتا ہے۔ اس لیے ان سب سے اجتناب کرنا چاہیے۔
 (۵)بلا تحقیق ایس ایم ایس بھیجنا 
عموماً لوگ آئے ہوئے میسج کو بلا تحقیق آگے بھیج دیتے ہیں، خاص کر دینی پیغامات کو آگے بڑھانا واجب خیال کرتے ہیں۔مثلاً رجب یا محرم کے مہینہ میں ایسا ایساکیا تو اتنے لاکھ نیکیاں ملیں گی۔گویا کوئی بمپر آفر ہے۔
 بدعات و خرافات ،من گھڑت ضعیف احادیث،شیوخ کے فرضی واقعات اور افواہوں پر مشتمل ایس ایم ایس بھیجے جاتے ہیں اور دوسروں کو نہ بھیجنے کی صورت میں جان ومال کے نقصان اور آخرت میں تباہ ہونے کی بات کہی جاتی ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔اس میں پہلے تحقیق کرلینی چاہیے ،کیوں کہ اگر آپ کے کسی غلط بات پر کسی نے عمل کر دیایا کفر کا مرتکب ہو گیا تو آپ بھی اس گناہ میں شریک ہوں گے۔حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ” آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بڑھا دے“(مسلم:05)۔
 (6)پرائیوسی کا خیال نہ رکھنا
نوجوانوں میں یہ عام بات ہے کہ دوست کا موبائل ہاتھ لگ گیا تو وہ اس کے ایس ایم ایس ،فوٹو اور دوسری ذاتی چیزیں دیکھنے لگتا ہے۔یہ جائز نہیں ہے، الاّ یہ کہ دوست اس کی اجازت دے۔اسی طرح سے چوری چھپے کسی کا نمبر لینا اور نہ ہی دینا درست ہے۔عموماً لڑکے اپنے ساتھیوں کے موبائل سے لڑکی کانمبر نکال لیتے ہیں اور پھر اس کو پریشان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ خیانت کا عمل ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ” اس کا ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں اور اس کا دین نہیں جس میں عہد کی پابندی نہ ہو“(احمد)۔
 (7)بلا سبب لمبی گفتگو کرنا
موبائل کی وجہ سے لوگوں میں فضول گوئی کا رجحان بڑھ گیا ہے،جس میں زیادہ تر فضول باتیں ،غیبت ،جھوٹ اور چغل خوری پر ہوا کرتی ہیں۔کمپنیوں کی طرف سے مختلف طرح کے ٹیرف اور فری کال پیک اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مثلاً اگر فری کال پیک ختم ہو رہا ہے اور بیلینس بچاہے تو اس کو ختم کرنے کے لیے رات بے رات لوگوں کو کال کی جارہی ہے۔اب سامنے والا مصروف ہے ،آفس میں ہے یا سو رہا ہے ،اس سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے۔جب کہ ابوہریرةؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
 ” جو آدمی اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کے لیے زبان کھولے یا چپ رہے(بخاری)۔اورحضرت ابوحذیفہؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا چغل خور جنت میں داخل نہ ہو سکے گا“ (بخاری:6056)۔
 (8)مس کال دینا
عموماً نوجوان لڑکے لڑکیاں بیٹھے بیٹھے اپنے دوستوں،رشتے داروں حتیٰ کہ اجنبی لوگوں کو مس کال دیتے رہتے ہیںکہ ممکن ہے کوئی صنفِ مخالف مل جائے اور ’دوستی‘ ہو جائے۔اس میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو صرف مس کال سے ہی کام چلانا چاہتا ہے اور اپنا بیلنس محفوظ رکھتا ہے۔یہ بخل کی علامت ہے۔انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے تھے :
 ”ائے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور بزدلی سے اور تیری پناہ طلب کرتا ہوں بہت بڑھاپے اور بخل سے“(بخاری:1297)۔
 (9)کال ریسیو کر کے ہیلو ،گڈ مارننگ وغیرہ کہنا
عموماً لوگ فون ریسیو کر کے ہیلو ، ہائے اور گڈ مارننگ وغیرہ کہتے ہیں۔اسلامی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے سلام کیا جائے۔خصوصاً جب یہ معلوم ہو کہ سامنے والا مسلمان ہے ۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہندو اگر نمس کار کہے تو اس کے جواب میں نمس کار نہ کہا جائے ،ہاں اگر یہود و نصاریٰ سلام کریں توان کے سلام کا جواب دے دیا جائے۔
 اس میں ایک بات کا خاص دھیان رکھنا چاہیے کہ بہت بلند آواز میں چلاّ کے بات نہ کی جائے کہ ساری دنیا سنے اور ڈسٹرب ہو۔آواز بس اتنی بلند ہو کہ مخاطب سن لے۔قرآن کریم میں بلند اور کرخت آواز کو گدھے کی آوازکے مشابہ قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی فون پر میں بول کر تعارف کرانا چاہیے ،بلکہ اپنا نام بتانا چاہیے ۔جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے :
  ”میں آپ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے آواز دی تو آپ نے دریافت کیا کون؟ میں نے عرض کیا ’میں‘ ہوں۔آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لائے کہ میں تو میں بھی ہوں“(مسلم:1423)۔
 اگر کسی کو فون کیا جائے اور ریسیو نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ تین بار کرنا چاہیے۔کیوں کہ ممکن ہے وہ مصروف ہو ۔بعض دفعہ لوگ چھ سات بار کال کرنے لگتے ہیں اور ریسیو نہ ہونے پربدگمان ہو کر ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہے۔حضرت موسیٰ اشعری بیان کرتے ہیں کہ:
 ” میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اجازت تین بار مانگنی چاہیے پھر اگر اجازت ملے تو بہتر، ورنہ لوٹ جاو “ (مسلم: 1421) ۔ 
 (10)جھوٹ بولنا
جب سے موبائل آیا ہے لوگوں میں جھوٹ بولنے کا رجحان بڑھ گیا ہے ۔گھر پر رہتے ہیں اور فون پر آفس میں ہوں بتاتے ہیں۔جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 جھوٹ سے بچو ۔بلا شبہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں پہنچانے والاہےالخ“ (ابوداو د:4989) ۔ 
 (11)گاڑی چلاتے وقت فون پر بات کرنا
عموماً لوگ موٹر سائیکل یا کار وغیرہ چلانے کے دوران موبائل پر بات بھی کرتے رہتے ہیںجو حادثہ کا سبب بنتا ہے ۔ اس میں وہ خود بھی ہلاک ہوتے ہیں اور دوسروں کی جان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:
 ولا تلقوابایدیکم الی التھلکة(البقرة:195)
اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔
 اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی کہ لوگ کان میں ’ہیڈ فون یا بلو ٹوتھ‘ لگائے کام انجام دیتے رہتے ہیںلیکن اس سے حادثے کا شکار ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے۔ ریلوے ٹریک پر اس کی وجہ سے آئے دن اموات ہوتی رہتی ہیں۔یہ ایک قسم کی خودکشی بھی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جان کو ہلاکت میں جان بوجھ کر نہ ڈالو۔
 حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ آپ نے ہم لوگوں کو ایسی چھت پر سونے سے منع کیا ہے جس کی منڈیر نہ ہو۔(ترمذی)۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احتیاط کرنا ضروری ہے۔
 (12)فوٹو کھینچنا
جب سے موبائل میں کیمرہ آیا ہے لوگوں میں فوٹو کھنچنے کا رجحان بڑھ گیا ہے،حتیٰ کہ مسجدوں میں بھی بلا ضرورت اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔فوٹو کھینچنا ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے۔بعض اس کے جواز کے قائل ہیں اور بعض اس کو جائز نہیں قرار دیتے ہیں،لیکن اتنے پرتو سب کا اتفاق ہے کہ بلا ضرورت فوٹو لیتے رہنا صحیح نہیں ہے اور یہ تب تو حرام ہو جائے گا جب نامحرم مردوں اور لڑکیوں کی تصا ویر لی جائے اور اس کو موبائل میں رکھا جائے اور دوستوںکو دکھایا جائے۔اس لیے ان سب سے بچنا چاہیے۔ ٭٭٭٭


Wednesday, 5 February 2014

(Islam And Orientalizm) اسلام اور مستشرقین




تحریر: مولا نا ابواللیث اصلاحیؒ مرحوم 
(سابق امیر جماعت اسلامی ہند)
ترجمہ : اسامہ شعیب علیگ 
ریسرچ اسکالر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی
D-321, Abul Fazal Enclave
Jamai Nagar,New-Delhi
M.b 9911319959

پچھلی چند صدی میں یورپ کے اندر جو اسلامی علوم کی تحقیق و جستجو میں ذوق و شوق پیدا ہوا اور ادب و سیرت کے ساتھ ساتھ مختلف اسلامی علوم کی قدیم کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آئیں ، اس عمل کی ستائش کی جانی چاہیے لیکن ہم مسلمانوں کا فرض بنتا تھا کہ اس مبارک عمل میں آگے آتے مگر ہم غفلت کی نیند سوتے رہے اور بہت سی قیمتی کتابیں دنیا کے مشہور کتب خانو ں کی الماریوں کی زینت بنی رہیں اور اہلِ علم حضرات کی نگاہوں اور تحقیق سے دور رہیں۔اس سلسلے میں مستشرقین کی کو ششیں اور ان کی جد وجہد قابلِ تحسین ہیں، جو لوگ بھی مستحسن عمل کریں ،اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ ان کا مشکور ہوا جائے۔
لیکن چند گوشے ایسے بھی ہیں جن کو اپنی نظر کے سامنے رکھنا ضروری ہے ،جو درج ذیل ہیں:
(۱) میں سمجھتا ہوں کہ مستشرقین کی یہ کوششیں اعلیٰ مقصد کے حصول اور طلبِ حق کے لیے نہیں صرف کی گئی ہیں،بلکہ یورپ کے اندر ایک نئی تہذیب کے وجود کے بعد سدِّ حاجت کے طور پر ظاہر ہو رہی تھیں۔جب دنیا کے اکثر حصہ پر ان کا سیاسی غلبہ ہو گیا اور مشرق پر بھی ان کا جھنڈا لہرانے لگاتواس وقت ان کو یہاں کے احوال وظروف اور افکار کو سمجھنے کی شدید ضرورت محسوس ہوئی،لہٰذا مستشرقین اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھے اور اس میں کام یابی بھی حاصل کی ۔یہاں تک کہ وہ حضرات جن کی آنکھیں مغرب کی تہذیب سے خیرہ تھیں ،وہ بھی اسلامی علوم کے سلسلے میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ کا قصد کرنے لگے۔ 
یہ صورتِ حال اس وقت کی ہے جب یورپ کو نہ تو وحی کے اسلامی تصور کا شعور تھا اور نہ ہی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف کرتے تھے،لیکن ا س کے باوجود مستشرقین اپنی کوششوں میں اس حد تک کام یاب ہو گئے کہ ان کو سند کا درجہ مل گیا اور وہ استاذ کے مقام پر فائز ہو گئے۔یہ سب سیاسی میدان میں مسلمانوں کی ذہنی شکست کے نتیجے میں ہوا اور یہ شکست و ہزیمت ان کے لیے جنگی ہزیمت سے زیادہ خطرناک تھی۔
(۲)دوسری بات میں جس کی طرف آپ لوگوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کی وجہ سے ان کے اندر جو دشمنی پیدا ہوئی اس سے کسی بھی شخص کو غافل نہ ہونا چاہیے۔مستشرقین کی ایک بڑی تعداد اپنے بلند علمی مقام کے باوجود اس رجحان سے اوپر نہ اٹھ سکی کہ حق کو سمجھ لینے کے بعد اس کے تئیں عائد ہونے والی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کرتی،سوائے ایک قلیل تعداد کے جن کو انگلیوں پر شمار کیا جا سکتا ہے،اسی وجہ سے ہم ان میں سے اکثر کی تحریروں میں اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جھوٹے اور من گھڑت قصوں کا بیان اس طرح سے پاتے ہیں گویا وہ بالکل سچے واقعات ہوں۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اسلام میں توحید کا تصور جس طرح نمایاں ہے اس کی مثال کسی بھی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔ا س کے باوجود مستشرقین نے دنیا کویہ باور کرانے کی پوری کوشش کی کہ اسلام بت پرستی کی ایک نئی شکل ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ ¿ کعبہ سے تو تمام قدیم اصنام باہر کرا دیئے اور اپنا سونے کا ایک صنم اس میں نصب کرا دیا۔
اسی طرح ان میں سے کچھ نے نزول وحی کی کیفیت کو مرگی کے مرض سے تعبیر کیاتاکہ لوگوں کو اس بات کا یقین دلایاجاسکے کہ آپ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبری عطا ہوئی تھی اور یہ بھی الزام لگایا گیا کہ آپ کو دورہ پڑنے کے بعدجب افاقہ ہوتا تھا تب کہہ دیتے تھے کہ میں نزولِ وحی کی حالت میں تھا اور خود گھڑ کر آیتیں سناتے۔(اللہ تعالی کی پناہ اس لغو بات سے)۔
اسی طرح بعض مستشرقین نے یہ فرضی قصہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کبوتریں پال رکھی تھیں اورجنھیں سدھار رکھا تھا۔وہ آپ کے کندھے پر بیٹھ جاتیں اور آپ اس وقت لوگوں سے مخاطب ہو تے اور کہتے کہ ابھی جن کو تم لوگوں نے میرے کندھوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا تھا وہ کبوتریں نہ تھیں، بلکہ جبرئیل علیہ السلام تھے اور میرے پاس اللہ تعالی کی طرف سے پیغام لائے تھے۔
بعض مستشرقین نے بیا ن کیا کہ جو دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے اس کا آسمانی وحی سے کوئی تعلق نہیں ہے ،بلکہ وہ بحیرة راہب کی تعلیمات ہیں جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات شام کے سفر کے دوران ہوئی تھی۔اسی لیے ایک گروہ کہتا ہے کہ اسلام کوئی مستقل دین نہیں ہے بلکہ مسیحیت کی ہی ایک نئی شکل ہے۔
اسی طرح ان مستشرقین میں سے کچھ نے دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کے لیے زبردست جد وجہد کی کہ اسلام پوری دنیا میں اپنی اچھی تعلیمات اور اعلیٰ اصولوں کی بدولت نہیں پھیلا ہے ،بلکہ اس کا پھیلاو صرف تلوار کی قوت سے ہوا ہے ۔حتیٰ کہ بعض نے بعد کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان نصرت بالرعب (میری رعب سے مدد کی گئی) سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ اسلا م ایک دہشت گرد مذہب ہے۔
اسی طرح ان میں سے بعض نے اپنی تحریر کی پوری قوت اس بات کو ثابت کرنے میں صرف کر دی کہ اسلامی شریعت ،ربانی شریعت نہیں ہے بلکہ رومی قوانین اور حمواربی شریعت سے ماخوذ ہے۔
اسی طرح مستشرقین جب اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ پر کچھ تحریر کرتے ہیں تو مسلمانوں کی طرف طعن و تشنیع میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔بغداد و اسکندریہ کی دو مشہور لائبریریوں کو نذرِ آتش کرنے کے الزام میں یہ لوگ پیش پیش نظر آتے ہیں۔اللہ تعالی حجة الاسلام علامہ شبلی نعمانیؒ پر رحم فرمائے اور ان کی قبر کو منور کرے کہ انہوں نے مستشرقین کے جھوٹ اور تہمتوں کی قلعی کھول دی اور پختہ مسکت دلائل سے اپنی گراں قدر کتابوں سیرة النبی،النقد علی التمدن الاسلامی اور بعض دوسری تصانیف تحریر کر کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
یہ مستشرقین کی چند گھڑی ہوئی سازشوں کی مثالیں ہیں جن کا علماءاسلام نے روشن دلائل سے تسلی بخش جوابات دیے ہیں ۔جس کے نتیجے میں بعض مستشرقین نے اپنے کام پر نظر ثانی کی اورگذشتہ لوگوں کی بعض چیزوں سے اجتناب کیا۔ اسلوب میں کچھ تبدیلیاں کی لیکن وہ اپنے اصلی ہدف سے نہیں ہٹے ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ مستشرقین’ عدل وانصاف‘ کے لباس میں ظاہر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سیرت پر علم النفس اور دوسرے کلام کا سہارا لے کر حملے کیے اور کہا کہ آپ نے ابتدا میں اپنی شہوت کو کچلنے کی کوشش کی لیکن اس میں ان کو کام یابی نہیں ملی جس کا بالآخر تعدد زوجات کی شکل میں نتیجہ ظاہر ہوا۔(معاذاللہ) ۔
اسلا م اورمسلمانوں سے متعلق مستشرقین کی کوششوں کی یہ ایک ہلکی سی جھلک ہے ۔ورنہ ان کے ادب ،تاریخ اور سیرت کے میدان میں ایک جہدِ مسلسل ہے جس میں علم و تحقیق اور ذہنی و فکری آزادی کے نام پر اسلام کے اصولوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت پر طرح طرح کے شبہات وارد کیے جاتے ہیں۔
مستشرقین کی کار کردگیوں اور کوششوں کے تعلق سے میں نے اپنے خیالات مختصراً آپ کے سامنے رکھے ۔اس پسمنظر میں پہلے میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جب تک وہ استاد اور سند سمجھے جاتے رہیں گے اور اسلامی علوم کے مرجعیت کے درجے پر فائز رہیں گے ساتھ ہی لوگ اسلام کو سمجھنے کے لیے ان کی طرف قصد کرتے رہیں گے تو اسلامی معاشرہ میں برابر شبہات داخل کیے جاتے رہیں گے ۔
اس کے ساتھ یہ بات بھی ضروری ہے کہ ہم مستشرقین کے علمی نتائج سے غافل نہ ہوں کیوں کہ یہ رویہ زیادہ خطرناک ہو گا اور ہم بعض قیمتی کتابوں سے محروم رہ جائیں گے۔اس لیے ہمارے اہلِ بصیرت علماءبرابر ہوشیار رہیں اور جو کتابیں بھی ان کی جانب سے شائع ہو رہی ہیں اس پر نظر رکھیں ۔اس طرح عالمِ اسلام کو بھی واقفیت رہے گی کہ اسلام اور مسلمانوں کو کہاں کہاں اور کس طرح بدنام کرنے کی سعی ہو رہی ہے ۔ان کی ذمے داری ہے کہ ان کو اور ان کی کوششوں کو آزاد نہ چھوڑ دیں کہ مسلمان اورخاص کر ہمارے مسلم نوجوان اورغیر مسلموں میں تعلیم یافتہ اشخاص جو اسلام کو سمجھنے اور سیرتِ نبوی کو جاننا چاہتے ہیں اورجن کا زیادہ تر اعتماد مستشرقین کی کتابوں پر ہوتا ہے ،ان سے انہیں نقصان نہ پہنچے ۔یہاں تک کہ حق اور باطل ممیز ہو جائے اور سچائی جھوٹ سے الگ ہو جائے اور جو گمراہ ہو وہ جان بوجھ کر گم راہ ہو اور جو راہِ راست پر زندگی گزارے وہ جان کر اس کی روشنی میں زندگی گزارے۔
یہ مقصد ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اسلام، اس کی تعلیمات اور سیرتِ نبوی پر علمی و تحقیقی کتابیں لائیں ،جو حالاتِ حاضرہ کے تقاضوں کو پورا کرتی ہوں اور یہ بات بھی ضروری ہے کہ یہ کتابیں اپنے اسلوب و مواد میں مستشرقین کی کتابوں سے اعلیٰ و ارفع ہوں یا کم از کم اس سے کم تر نہ ہوں ، تاکہ لوگ ان کی کتابوں سے بے نیاز ہو جائیں اور ان سے اچھا بدل ان کوباآسانی میسر ہو۔
 جو مقصد ہمارے پیشِ نظر ہے وہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ صرف تردید اور تہمتوں کے جواب اور اسلام پر قیمتی کتابوں کی تیاری پر اکتفا نہ کریں بلکہ ہم انفرادی و اجتماعی دونوں میدانوں میں اسلام کی سچی اور عملی تصویر پیش کریں ،دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے ،اسلامی قدروں اور اس کے محاسن اور خصوصیات کو اپنی عملی زندگی میں نمایاں کرنے کا مفید ترین طریقہ یہی ہے ۔سب سے اچھا اور لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے کا مو ثر ترین طریقہ یہی ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسان کی طرف مبعوث کیے گئے ہیں اور تمام لوگوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں ۔آپ ہادی اور روشن چراغ ہیں ۔جو دین آپ لائے ہیں تمام ادیان سے بہتر ہے اور وہی تمام بحران و مشکلات کا واحد حل ہے جن سے انسانی معاشرہ دوچار ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور اسلام کی تعلیمات کی اتباع کے بغیر کوئی کام یابی اور نجات ممکن نہیں ہے۔(البعث الاسلامی، رمضان و شوال ، ص۱۸۳)
٭٭٭٭


Saturday, 1 February 2014

(Hazrat Muhammad S.A.W Ki Inqelaab Afreen Seerat) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلاب آفریں سیرت


اسامہ شعیب علیگ
ریسرچ اسکالر، جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر ت کاایک خاص پہلو یہ ہے کہ اس میں زبردست قوتِ تاثیر تھی۔ چنانچہ بڑی بڑی شخصیتوں نے اس سے گہرا اثرقبول کیا۔ جن افراد کوآپ کا فیضِ صحبت نصیب ہوا وہ آپ کے عکسِ کامل بن گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں خداکی یاد ، آخرت کاخوف ، فنائے نفس اور ایثارو قربانی کے جذبات تھے تویہ جذبات ان کے اندر بھی ابھرآئے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق وسیرت میں پاکیزگی تھی توان کے اخلاق وسیرت میں بھی پاکیزگی آگئی ۔ حق کے لیے ان کے پاس بے پایاں اخلاص تھا اور باطل کے مقابلے میں ان کے اندر بڑی شدت تھی ۔ وہ بے یقینی کے عالم سے نکل کریقین کے اس مقام تک پہنچ گئے جس سے اونچے مقام کا تصورنہیں کیاجاسکتا۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مانا اور اس طرح ماناکہ اس میں شک وشبہ کی کوئی آمیزش نہیں تھی۔ انھیں جس طرح اپنے وجود پریقین تھا، ٹھیک اسی طرح یہ بھی یقین تھاکہ آپ خدا کے رسول ہیں ۔ ان کے اس یقین سے دنیا نے قدم قدم پرٹکرلی، لیکن اسے متزلزل نہ کرسکی ۔ وہ آزمائشوں میں ڈالے گئے، ہرطرح ستائے گئے ، قیدوبند کی تکلیفوں سے گزرے ، مال ودولت سے محروم کیے گئے، لیکن ان کے یقین نے ان کاساتھ نہیں چھوڑا ۔ 
حضرت بلال ؓ نے جب اعلان کیاکہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول ہیں تومکے کے لڑکے ان کے پیروں میں رسی باندھ کر شہرکی گلیوں اورکوچوں میں گھسیٹتے پھرتے تھے۔ ان کامالک امیہ بن خلف تپتی ہوئی ریت پرانھیں لٹاکر سینے پر پتھر رکھ دیتا کہ اگرمحمد کا انکار نہ کروگے، اسی حال میں مرجاگے ۔ لیکن اس کے باجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کا جوکلمہ انھیں پڑھایاتھا اس کے سواکوئی دوسرا کلمہ پڑھنے سے انھوں نے انکارکردیا۔
 حضرت خبابؓ کو انگاروں پرلٹا دیاجاتا جس سے ان کے جسم کی چربی پگھلنے لگتی ۔اس عذاب سے دہکتے ہوئے انگارے ٹھنڈے پڑجاتے ،لیکن ان کے یقین کی وہ آگ نہ بجھتی جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے روشن کیا تھا۔ 
نبوت کے جھوٹے مدعی مسیلمہ نے حضرت حبیب بن زیدؓ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے ،لیکن ان کے دل کی دنیا جس ایمان ویقین سے آبادتھی اسے نہ نکال سکا۔ وہ ان سے پوچھتا کہ کیا محمد خداکے رسول ہیں ؟ تو پورے یقین کے ساتھ جواب دیتے کہ ہاں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم خداکے رسول ہیں اورجب وہ یہ سوال کرتا کہ کیاتم مجھے خداکارسول مانتے ہو تو صاف کہہ دیتے کہ تمہاری ان خرافات کے سننے سے میرے کان بہرے ہیں۔
 حضرت صہیبؓ کواس جرم میں کہ وہ آپ کوخداکا رسول مانتے تھے، مکہ چھوڑنا پڑا تو انھوںنے اس شان سے ہجرت کی کہ اپنا سارامال ومتاع مشرکین کے حوالے کردیا اور خالی ہاتھ مدینے پہنچ گئے ۔
جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی رسالت کو تسلیم کیا تھاان کے نزدیک کسی بات کی صداقت کاسب سے بڑاثبوت یہ تھاکہ وہ آپ کی زبان سے نکلی ہے۔ ان کے یقین کایہ عالم تھا کہ غیب کی جن حقیقتوں کو آپ بیان کرتے وہ ان پراس طرح ایمان لے آتے جیسے کہ انھوں نے ان حقیقتوں کواپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ آپ نے معراج کاذکرفرمایا کہ شب کے چند لمحات میں اللہ تعالیٰ آپ کو مکے سے بیت المقدس لے گیا، وہاں آپ نے نماز پڑھی اور پھرآپ مکے واپس لوٹ آئے۔
آپ کے مخالفین کے نزدیک اس واقعہ کی روایت ہی آپ کی تکذیب کے لیے کافی تھی، لیکن حضرت ابوبکرؓ نے سنا تو کہا:
”واللہ لئن کان قالہ لقد صدق“ (خداکی قسم، اگرآپ نے یہ واقعہ بیان کیاہے تو سچ بیان کیاہے) ۔
حضرت یاسرؓخداکی راہ میں مارے گئے، ان کی بیوی سمیہ ؓ کوابوجہل کے نیزے نے شہید کردیا اور ان کے بیٹے عمارکو لوہے کی زرہ پہناکر چلچلاتی دھوپ میں ڈال دیاگیا۔ وہ یہ سب کچھ جھیل گئے، کیونکہ ان کے سامنے آپ کایہ ارشاد تھا:
”صبرایااٰل یاسر فان موعدکم الجنة “( صبرکرو اے آل یاسر! تم سے ملاقات جنت میں ہوگی )۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدرمیں فرمایا:
” دوڑو جنت کی طرف جو آسمان وزمین کی طرح وسیع ہے “۔
یہ سنتے ہی عمیر بن حمام بے تاب ہوگئے اور جلدی جلدی اپنے جھولے سے چند کھجور کھانے لگے ، پھر کچھ سوچ کرکہا کہ ان کھجور وں کے ختم ہونے تک زندہ رہوں تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی، چنانچہ فوراً انھیں اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور میدان جہاد میں جان دے دی۔
جنگ ِ احد میں انس بن نضرؓ ، حضرت سعدؓ سے فرماتے ہیں :
خداکی قسم، مجھے احد پہاڑ کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے ۔ یہ کہا اور پھر اسی وقت دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ بعد میں لوگوں نے دیکھاکہ ان کے جسم پرنیزے اورتلوار کے اسّی(80) سے زیادہ زخم تھے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کاحکم دیا توحضرت عمرؓ گھرگئے اور اپنا آدھامال لے آئے۔ حضرت ابوبکرؓ گئے اور اپنا کل سرمایہ لاکرسامنے رکھ دیا اورکہاکہ بیوی بچے اب خدا اور اس کے رسول کے حوالے ہیں۔ 
غزوہ تبوک کے موقع پر لشکر کے لیے سازوسامان کاکوئی انتظام نہیں ہورہاتھا ۔ حضوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انقلاب آفریں سیرت نے فرمایا کہ جوشخص اس لشکرکو مسلح کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا اجر دے گا ۔ ان الفاظ کے سنتے ہی حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور لشکر کی ایک ایک ضرورت کا اس طرح انتظام کیا کہ اونٹوں کے لیے رسیاں اورنکیلیں تک فراہم کردیں ۔ 
نبی علیہ السلام نے خداکا حکم سنایا کہ انسان نیکی کا مقام اسی وقت پاسکتاہے جب کہ وہ اپنی بعض محبوب چیزوں سے دست بردار نہ ہوجائے ۔ توحضرت ابوطلحہ ؓ نے کہا:
اے اللہ کے رسول! میرافلاں باغ مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ کرتاہوں اور اسی سے مجھے اس کے اجروثواب کی توقع ہے ۔
دوآدمی آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کرپہنچے، لیکن دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔ آپ نے ان سے فرمایا :
 ”میں انسان ہوں، تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو ،ممکن ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے دعوے کودوسرے سے زیادہ وضاحت اورچالاکی کے ساتھ پیش کرنے میں کامیاب ہوجائے اورمیں اس کے حق میں فیصلہ دے دوں ۔ لیکن یادرکھو، اگر اس طرح میں کسی کواس کے بھائی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی دوں تو وہ اسے ہرگز نہ لے ۔ کیونکہ میں جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا اس کے حوالے کررہاہوں ۔ “
اس تقریر کا اتنا اثر ہوا کہ دونوں بے اختیار رونے لگے اور اپنے اپنے دعوے سے دوسرے کے حق میں دست بردار ہو گئے۔ 
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کورسول ماننے والوں کا یہ یقین ، یہ ایمان اور یہ قربانیاں میرے نزدیک آپ کے برحق ہونے کی زبردست دلیل ہیں،کیونکہ آج تک اس کی کوئی مثال نہیں ہے کہ کسی جھوٹے نے دوسروں کو صداقت کاپابند بنادیا ہو، کسی خداسے بے خوف انسان نے اپنے ساتھیوں کے اندر اس کاخوف اور خشیت پیداکردی ہواور کسی پست سیرت آدمی کی صحبت سے لوگوں کی سیرت بلند ہوگئی ہو ۔ جھوٹ انسان کو کم زور کردیتاہے، اس لیے جھوٹے شخص میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ کسی کوسہارا دے سکے۔ اس کا مقام مصلحِ اخلاق کانہیں ہوتا،بلکہ وہ اس قابل ہوتاہے کہ اس کی اصلاح کی جائے ۔ ظاہر ہے، جو خود دوسروں کی مدد کامحتاج ہو، وہ کسی کی دست گیری کیاکرسکتاہے ؟ میدانِ عمل میں جس کے قدم لڑکھڑا رہے ہوں، ناممکن ہے کہ وہ کسی کم زور اورناتواں جسم میں استقلال اورثابت قدمی کی روح پھونک دے۔
 ٭٭٭